کولسٹرال : دل کی بیماریوں کی اصل جڑ

نئی دہلی: کولسٹرال کیوں ہوتاہے ؟ اس کے ہونے سے کون کون سے امراض پیدا ہوتے ہیں، کس قسم کی تکلیفیں ہوتی ہیں؟اس موضوع کو آسان طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کولسٹرال دل کے امراض ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔یہ بیماری تکلیف دہ ہی نہیں بلکہ اس کا علاج بھی کافی مہنگا ہے۔ شاید ہی انسان کسی دوسری بیماری سے اتنا پریشان ہوتا ہوگا جتنا دل کی بیماری سے خوف کھاتا ہے، کیونکہ یہ خاموش قاتل کے طور پر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور کب ہارٹ اٹیک کا سبب ہو کر جان لینے والا بن جاتا ہے، یہ کوئی نہیں بتا سکتا۔ دورحاضر میںجہاں ہر معاملہ میں نفع اور فائدہ ہی دیکھاجانے لگا ہے وہاں کسی پر بھروسہ کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو گیاہے۔ اکثر مریضوںکو اچھی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان لوگوں کو مل جاتی ہے، جو اچھی قیمت دے کر اپنا علاج کرواسکتے ہیں۔ دل کی بیماری کو سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ جان لینا ضروری ہے کہ ہمارا دل کیسے کام کرتا ہے ؟ اور یہ پریشانی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔
دل چیز کیا ہے؟ ہمارا دل ہمارے جسم میں ایک پمپ کی طرح کام کرتا ہے اور سارے جسم کو اپنی پمپنگ کے ذریعہ خون فراہم کرتاہے۔ یہ لگاتار دھڑکتا رہتا ہے جس خون پورے جسم میں سپلائی ہوتا رہتا ہے اور ہمارے دل میں خون کا آنااور جانا Coronory Arterieکے ذریعہ ہوتا ہے اور جب ان ٹیوبس میں کولسٹرال نامی کچرا پھنسنا شروع ہو جاتا ہے تو یہ کچرا ان نالیوں کے آس پاس جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ سے نالیوں میں خون کے آنے اور جانے میں دقتیں پیدا ہونے لگتی ہیں اور یہ دھیرے دھیرے بڑھتا چلا جاتا ہے۔، شروع میں بیس فیصدی یہ بلاک ہوتا ہے پھر تیس پھر چالس ،پرساٹھ پھر نوے تک پہنچ کر یہ نالیاں بالکل ہی بند ہو جاتی ہیں ، یہ بلا کیج کئی سالوں سے پروان چڑھتا رہتا ہے جیسے جیسے یہ بلاکیج بڑھتا رہتا ہے ، دل کی بیماریوں کی علامتیں انسانوں میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یہ بلاکیج کسی بھی فیصد میں پھٹ سکتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ سو فیصد ی بلا کیج ہونے کے بعد ہی پھٹے ، بلکہ یہ چالیس فیصد کے دوران بھی پھٹ سکتا ہے یا اس سے زیادہ بھی ۔
کولسٹرال نامی یہ کچرا جیسے جیسے خون کی نالیوں کے اطراف جمع ہوتا، تب اس پرایک باریک یا جھلی پھیلی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے کولسٹرال جمع ہو کر وہ بڑھتا رہتا ہے تو یہ پرت یا جھلی اوپر کی طرف اٹھنے لگتی ہے یہاں تک کہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ یہ جھلی پھٹ جاتی ہے اور سارا کولسٹرال نالی کے سوراخ کو بند ہی کر دیتا ہے اب نالی میں بہنے والا خون کولسٹرال کی وجہ سے جام ہو کر خون کی نالی بند ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے آگے گزر نہیں پاتا اور جب یہ خون آگے نہیں جاپائے گا تو دوسری طرف موجود تمام رگیں یو ں سمجھئے کہ مرجاتی ہیں ، اسی کو ہارٹ اٹیک کہتے ہیں ۔
آہستہ آہستہ بڑھنے والا مرض : انسان جب پیدا ہوتا ہے اس وقت سے لیکر تقریباً بیس سال تک اسکے جسم کاہر عضو بڑھتا پھلتا پھولتا رہتا ہے اور اس مدت میں ہمارے جسم میں بننے والے کولسٹرال سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، کیونکہ انسان کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کی وجہ سے یہ جسم میں استعمال ہوجاتا ہے لیکن بیس سال کے بعد جب انسانی جسم بڑھنا بند کر دیتا ہے اور صرف کولسٹرال بڑھتا رہتا ہے اور ہم گوشت مچھلی انڈے وغیرہ کثیر مقدار میں کھانے لگتے ہیں تو اس سے کولسٹرال کی پیداوار بڑھنے لگتی ہے اس کے برخلاف فائبروالی غذاؤں میں کولسٹرال بالکل بھی نہیں ہوتا اور جب ہم اپنے کھانوں میں تیل کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں ، جن کی زیادتی سے Tryglayeeridoبننے لگتا ہے۔ یہ کولسٹرال کا چھوٹا بھائی ہے جو بلاکیج کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ کولسٹرال ایچ ڈی ایل، ایل، ڈی ایل اور دی ایل ڈی ایل تین طرح کا ہوتا ہے ، ایچ ڈی ایل اچھا والا کولسٹرال ہے جو ہمارے خون کی ری سائیکلنگ کرتا ہے ، ایل ڈی ایل ہمارے لئے خطرناک کولسٹرال ہے ، جو موم کی طرح نالیوں کے اردگرد گھومتا اور جمع ہوکر بلاکیج کرنے لگتا ہے ،وی ایل ڈی ایل ، یہ ایل ڈی ایل ڈیایل کاہمارے خون میں ایک ساتھ جمع ہونا تیزی سے بلاکیج بنانے میں مددکر تا ہے۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cholesterol and heart disease in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News
What do you think? Write Your Comment