پینے کے پانی میں آرسینک کی موجودگی سے جلد کے کینسر کا خطرہ

نئی دہلی:طویل وقت تک غیر حیاتیاتی آرسینک پر مشتمل پانی پینے اور اس پانی سے تیار کھانے سے جلد کے کینسر ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے غیر حیاتیاتی آرسینک پر مشتمل پانی یا اس سے بنے کھانے کے مسلسل استعمال کرنے کے خطرے کے تئیں خبردار کیا ہے۔
ہندوستان ، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، چلی، چین، میکسیکو اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے زمینی آبی ذخائر میں بڑے مقدار میں غیر حیاتیاتی آرسینک پایا جاتا ہے۔آرسینک زمین کے ذرات کا قدرتی عنصر ہے اور ہوا میں وسیع پیمانے پر اس کے ذرات پائے جاتے ہیں۔
غیر حیاتیاتی طور پر یہ کافی زہریلے ہوتے ہیں۔ آلودہ پانی، آلودہ پانی سے بنا کھانا، آلودہ پانی سے سیراب کیے فصل اور تمباکو کے ذریعے بڑے پیمانے پر زہریلا آرسینک لوگوں کے جسم کے اندر جا رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس سے جلد سے متعلقہ بیماریاں اور جلد کے کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ زہریلا آرسینک کے جسم پر اثر کے ابتدائی علامات میں متلی، پیٹ میں درد اور اسہال شامل ہے۔ جلد کے کینسر کے علاوہ آرسینک کے ضمنی اثرات سے مثانے اور پھیپھڑوں کا کینسر بھی ہو سکتا ہے۔
انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے آرسینک کو انسان کے لئےکینسرکاہم عنصر بتایا ہے۔ غیر حیاتیاتی آررسینک پر مشتمل پانی اور اس سے بنے کھانے کی مقدار سے دماغ کے خلیوں کو نقصان پہنچنا، ذیابیطس، پھیپھڑوں اور دل سے متعلق بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ (یو این آئی)

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cancer risks from arsenic in drinking water in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News

Leave a Reply