کینسر پر متواتر تحقیق کے باوجود موذی مرض سے اموات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی

نئی دہلی: امریکہ اور دیگر ملکوں میں کینسر پر مسلسل ہو رہی تحقیق اور نئی ادویات کی دریافت کے باوجود نہ تو مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور نہ ہی اموات کا سلسلہ تھم رہا ہے۔اس کے برعکس اس بیماری کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن میڈیکل سائنس کی ان ناکامیوں کے درمیان نوبل ایوارڈ کے لئے سات بار منتخب ہونے والی ڈاکٹر جوہانا بڈوگ کے متبادل علاج کے طریقہ کار سے امیدوں کی شمع جل رہی ہے اور بہت سے زندگیاں بچائی جارہی ہیں۔
جرمنی کی ”پیپلز اگینسٹ کینسر“ سوسائٹی کے بانی اور کینسر کے روایتی اور متبادل ادویات جت طریقہ کار کے میدان میں معروف محقق لوتھر ہرنائیسے نے یواین ائی سے آج خصوصی بات چیت میں ”بڈوگ تھیریپی “کے ذریعے دنیا بھر میں کینسر پر قابو پانے کے بارے میں تفصیل سے بات چیت کی۔انہوں نے کہا کہ برلن کی بایو کیمسٹری ماہر ڈاکٹر اوٹو واربرگ نے کینسر پر اس وقت قابو پانے کا اعلان کیا تھا جب انہوں نے اس کی وجہ کی شناخت کر لی تھی۔ انہیں اس کی تحقیق کے لئے 1931 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ڈاکٹرواربرگ نے کئی تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اگر خلیات میں آکسیجن کی مقدار کو 48 گھنٹے کے لئے 35 فیصد کم کر دیا جائے تو وہ کینسر کے خلیات میں تبدیل ہو جاتی ہیں
۔ عام خلیے اپنی ضرورتوں کے لئے آکسیجن کی موجودگی میں توانائی بناتے ہیں ، لیکن آکسیجن کی غیر موجودگی میں کینسرکے خلیے گلوکوز کو فرمنٹ کرکے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ کینسر پر کئی کتابیں لکھنے والے لوتھر ہرنائیسے نے کہا کہ اگر خلیات کو کافی آکسیجن ملتی رہے تو کینسر کا وجود ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہمیں معلوم ہے کہ حیاتیات میں ہو رہے متعدد کیمیائی رد عمل میں شامل نامیاتی کمپاؤنڈ ایڈینوسین ٹرائیفاسفیڈ(اے ٹی پی) میں ایڈینین، رابوس اور تین فاسفیٹ مربع ہوتے ہیں۔
اس کی خلیات کی مختلف اعمال کے لئے توانائی بنانے میں خاص اہمیت ہے۔ ہمارے جسم کی توانائی اے ٹی پی ہے اور آکسیجن کی موجودگی میں گلوکوز کے ایک مولیکیول سے 38 اے ٹی پی بنتے ہیں لیکن فرمنٹیشن سے صرف دو اےٹی پی حاصل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واربرگ اور دیگر محقق کا خیال تھا کہ سیل میں آکسیجن کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے دو عنصر ضروری ہوتے ہیں، سب سے پہلے سلفر آمیز پروٹین جو کہ پنیر میں پایا جاتا ہے اور دوسرے کچھ فیٹی ایسڈس کی شناخت نہیں ہو پا رہی تھی۔ڈاکٹرواربرگ بھی اپنی زندگی میں ان پراسرار فیٹس کی شناخت میں کامیاب نہیں رہے۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cancer rate not declining in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News

Leave a Reply