موسمی تبدیلی سے ہونے والے امراض سے سالانہ ڈھائی لاکھ اموات ہوتی ہیں: ڈبلیو ایچ او

نئی دہلی:  عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سال 2030 اور 2050 کے درمیان تقریبا ڈھائی لاکھ اضافی اموات ہونے کا اندازہ ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے ان اموات کا سبب غذائی قلت، ملیریا، اسہال اور لو کو بتایا ہے۔ موسم میں تبدیلی کی وجہ سے پانی سے ہونے والی بیماریاں ہوتی ہیں جو جراثیم، رینگنے والے کیڑے یا پانی کے اندر رہنے والے کیڑے کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سب سے زیادہ ملیریا کے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
اینوفیلیس مچھروں کے کاٹنے سے ملیریا پھیلتا ہے جس کی وجہ سے ہر سال چھ لاکھ لوگوں کی موت ہو جاتی ہے جن میں خصوصا پانچ سال سے کم عمر کے بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ایڈج مچھر کا بھی قہر بڑھتا ہے جو ڈینگو بخار کا سبب ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 21 ویں صدی کے آخر تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے علاقائی اور عالمی سطح پر زبردست خشک سالی ہو سکتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں اہم فصل کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ صاف ہوا، پینے کے صاف پانی، مناسب کھانے کی اشیاء اور محفوظ پناہ گاہ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ انتہائی درجہ حرارت سے دل اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے بھی اموات ہو رہی ہے۔
یورپ میں گرمی کی وجہ سے سال 2013 میں 70 ہزار سے زائد لوگوں کی موت ہوئی تھی۔(یو این آئی)

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: An estimated 2 5 million deaths each year are attributable to climate change in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News

Leave a Reply