نظم: مروت میں کیا کچھ لٹائے ہوئے ہیں

زبیر ایچ شیخ

مروت میں کیا کچھ لٹائے ہوئے ہیں
جو بیٹھے یوں سر کو جھکائے ہوئے ہیں

جو کہنا سدا دل کا مانا ہے تم نے
تو کاہے جیا کو جلائے ہوئے ہیں

اجی خشک آنکھوں میں کیا جھانکیے گا
بہت خون دل ہم رلائے ہوئے ہیں

دو کاہے کو طعنہ ہماری وفا کو
یہ سب ہم کوبسمل بنائے ہوئے ہیں

اے مطرب ترنم سے پڑھنا ہے ان کو
غزل نے جو آزار اٹھائے ہوئے ہیں

وہ کہتے ہیں کہہ دو جو ہے دل میں اپنے
جو کہہ دیں کہیں گے سکھائے ہوئے ہیں

یہ کہتے ہیں ہم سے خفا ہیں وہ لیکن
پیام ان کے کل تک تو آئے ہوئے ہیں

اے قاصد انہیں ناز و رغبت سے رکھنا
جو شکوے بھرے خط کل آئے ہوئے ہیں

Read all Latest ghazal poetry in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ghazal poetry and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Poem of the day in Urdu | In Category: غزلیں و شاعری Ghazal poetry Urdu
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.