غزل:تمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے

ندا فاضلی

نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
تمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے

لڑائی دیکھے ہوئے دشمنوں سے ممکن ہے
مگر وہ خوف جو دیوار و در میں رہتا ہے

خدا تو مالک و مختار ہے کہیں بھی رہے
کبھی بشر میں کبھی جانور میں رہتا ہے

عجیب دور ہے یہ طے شدہ نہیں کچھ بھی
نہ چاند شب میں نہ سورج سحر میں رہتا ہے

جو ملنا چاہو تو مجھ سے ملو کہیں باہر
وہ کوئی اور ہے جو میرے گھر میں رہتا ہے

بدلنا چاہو تو دنیا بدل بھی سکتی ہے
عجب فتور سا ہر وقت سر میں رہتا ہے

Read all Latest ghazal poetry news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ghazal poetry and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ghazal tamam umar musafir safar mein rehta hai in Urdu | In Category: غزلیں و شاعری Ghazal poetry Urdu News

Leave a Reply