رمضان :آگیا نیکیوں کا موسم بہار

ماہ رمضان غریب اور مسکین ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے کا مہینہ ہے۔رمضان المبارک کے تعلق سے ہمیں بےشمار احادیث ملتی ہیں اور ہم پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں لیکن کیا ہم اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ ایمانداری کے ساتھ ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا واقعی ہم لوگ محتاجوں اور نادار لوگوں کی ویسی ہی مدد کرتے ہیں جیسی کرنی چاہئے؟ یاصرف صدقہ فطرہ دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔
ماہ رمضان کو نیکیوں کا موسم بہار کہا گیا ہے۔ جس طرح موسم بہار میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں۔ اسی طرح رمضان میں بھی نیکیوں پر بہار آئی ہوتی ہے۔ جو شخص عام دنوں میں عبادتوں سے دور ہوتا ہے، وہ بھی رمضان میں عباد ت گزار بن جاتا ہے۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ مہینہ معاشرے کے غریب اور ضرورت مند بندوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں روزہ دار کو افطار کرانے والے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے کسی صحابی (ساتھی) نے سوال پوچھا کی اگر ہم میں سے کسی کے پاس اتنی گنجائش نہ ہو تو وہ کیا کرے۔ تومحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ایک کھجور یا پانی سے بھی افطار کرایا جا سکتا ہے۔
جب اللہ کی راہ میں دینے کی بات آتی ہے تو ہماری جیبوں سے صرف چند روپے نکلتے ہیں، لیکن جب ہم اپنی شاپنگ کے لئے مارکیٹ جاتے ہیں وہاں ہزاروں خرچ کر دیتے ہیں۔ کوئی ضرورت مند اگر ہمارے پاس آتا ہے تو اس وقت ہم کو اپنی کئی ضروریات یاد آ جاتی ہیں۔ یہ لینا ہے، وہ لینا ہے، گھر میں اس چیز کی کمی ہے۔ اگر اس مہینے میں ہم اپنی ضروریات اور خواہشات کو کچھ کم کر لیں اور یہی رقم ضرورت مندوں کو دیں تو یہ ہمارے لئے بےحد اجر کا باعث ہو گا۔کیونکہ اس مہینے میں کی گئی ایک نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا کر اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (اپنے جائزے کے ساتھ) رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ روزا ہمیںضبط نفس (خود پر قابو رکھنے) کی تربیت دیتا ہے۔ ہم میں پرہیزگاری پیدا کرتا ہے لیکن اب جیسے ہی ماہ رمضان آنے والا ہوتا ہے، لوگوں کے ذہن میں طرح طرح کے چٹپٹے اور مزہ دار کھانے کا تصور آ جاتا ہے۔
رمضان شریف کے روزوں کا بہت بڑا ثواب ہے اور بہت سی فضیلتیں حدیث شریف میں آئی ہیں جیسے حضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ ” جو آدمی صرف خدا تعالی کی خوشی کے لئے رمضان شریف کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے.”دوسری حدیث میں حضور اکرم نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی ہے۔تیسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا“ اسی طرح اور بھی بہت سی فضیلتیں احادیث میں آئی ہیں۔
رمضان کے روزے ہر مسلمان عاقل وبالغ مرد، عورت پر فرض ہیں۔ ان کے فرض ہونے کا نہ ماننے والا کافر اور بغیر مجبوری چھوڑنے والا بڑا گناہگار اور فاسق ہے۔اگر چہ نابالغ پر نماز، روزہ فرض نہیں لیکن عادت ڈالنے کے لئے بالغ ہونے سے پہلے ہی روزہ رکھوانے اور نماز پڑھوانے کا حکم ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو نماز کا اسے حکم کرو اور جب دس سال کا ہو جائے تو اسے نماز کے لئے (اگر ضرورت ہو تو) مارنا بھی چاہیے۔ اسی طرح جب روزہ رکھنے کی طاقت ہو جائے تو جتنے روزے رکھ سکتا ہو اتنے روزے رکھنے چاہئیں۔
اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں میںرعایت بھی کی ہے۔ کہ اگر وہ رمضان میں نہ رکھ سکے تو ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور پھر حالات سازگار ہونے پر چھوڑے گئے روزے رکھ کر تعداد پوری کرلے۔جن لوگوں کو رمضان کے روزوں میں رعایت کی گئی ہے ان میں مسافر،بیمار اور نہایت ضعیف لوگ شامل ہیں۔ یعنی مسافر کاسفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔ لیکن اگر سفر میں پریشانی نہ ہو تو روزہ رکھنا زیادہ اچھا ہے۔ ایسی بیماری جس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، یا بیماری کے بڑھ جانے کا خوف ہوتو بھی روزہ ترک کر سکتا ہے۔
نہایت ضعیف العمر کے لیے چھوٹ ہے ۔ حاملہ عورت کو یا حمل کو روزہ رکھنے سے نقصان پہنچنے کا پورا یقین ہوتو بھی روزہ چھوڑا جا سکتا ۔
اگر کوئی خاتون بچے کو دودھ پلاتی ہے اور روزہ رکھنے سے دودھ پلانے والی کو یا بچے کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو روزہ چھوڑا جا سکتا ہے۔حیض و نفاس کی حالتوں میں بھی روزہ جائز نہیں۔ان کی بھی قضا کرنا ہوگی۔

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ramzan special in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News

Leave a Reply