روزہ کسے کہتے ہیں، کیوں رکھتے ہیں اور شروع و ختم کیسے ہوتا ہے

نئی دہلی: عالم اسلام اور ہر اس مملک میں جہاں مٹھی بھر مسلمان ہی کیوں نہ مقیم ہوں ماہ رمضان کے روزے باقاعدگی سے رکھے جا رہے ہیں۔ روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں واحد ایسا رکن ہے جس کا علم اللہ بزرگ و برتر کو یا خود روزہ رکھنے والے کو ہی ہوتا ہے کہ وہ روزے سے ہے یا نہیں۔ کیونکہ اول تا آخر دیگر چار ارکان اسلام توحید، نماز ، زکوٰة اور حج ایسے ہیں جن کو ا دا کرتے ہوئے صاف دیکھا سنا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ روزہ بنیادی طور پر کسی مذہبی حکم کی بنا پر کسی خاص کام کرنے، چیز استعمال کرنے، خاص کھانے یا تمام کھانے، پینے کی اشیاءسے مخصوص وقت تک خود کو اپنی مرضی سے روکے رکھنے کا نام ہے۔اسلام میں دن بھر تمام کھانے، پینے کی اشیاء سے اور دیگر چند کاموں سے مخصوص وقت تک خود کو اپنی مرضی سے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔ روزہ ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر اسلامی مہینے رمضان المبارک میں فرض ہے. روزے کا وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہے. صبحِ صادق کے طلوع ہونے سے پہلے کھانا کھانے کو سحری کہا جاتا ہےمسلمانوں پر، اسلامی مہینے رمضان میں پورا مہینہ روزے رکھنا فرض ہے۔ یوں توروزہ ہر دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی یا توہماتی نظریات کی وجہ سے رکھا جاتا رہا ہے۔ ہر قسم کے کھانے، پینے اور جماع کرنے سے رکنے کا روزہ اس وقت صرف اسلام میں ہے، باقی مذاہب میں مخصوص ایام میں ہی روزہ رکھا جاتا ہے، اور اس میں کچھ چیزوں کی پابندی ہوتی ہے کچھ کی اجازت۔مسیحیت میں روزہ ایک اختیاری چیز ہے۔قدیم جنگلی قبائل میں بھی ایک مخصوص دورانئے کے لئے کھانے پینے سے اجتناب کی روایت ملتی ہے۔ قدیم مذاہب میں روزہ رکھنے کا یہ رواج عموماً مذہبی پروہتوں تک محدود ہوتا تھا اور اسے دیوتا تک رسائی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
کچھ قدیم مذاہب میں یہ نظریہ بھی رائج تھا کہ دیوتا اپنا آفاقی پیغام خواب میں صرف اس وقت ظاہر ہو کر پروہت کو منتقل کرتا ہے جب کہ خواب دیکھنے والا روزے کی حالت میں ہو۔ کچھ قبائل میں روزہ رکھنے کی روایت زرخیزی کے دیوتا کو بہار کی آمد پر نیند سے بیدار کرنے کے لئے رائج تھی۔قدیم یونان کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کھانا کھانے سے شیطانی قوتیں جسم میں داخل ہو جاتی ہیں، شائد اسی نظریے نے ان میں کھانے پینے سے اجتناب یعنی روزہ رکھنے کو رواج دیا۔اسلام کی آمد سے پہلے بھی عرب قبائل میں روزہ رکھنے کا رواج موجود تھا اورعرب بت پرست کم وبیش اسی نمونے پر روزہ رکھتے تھے جیسے کہ مسلمان۔ عراقی سابی بھی روزہ رکھتے تھے۔ پارسی مذہب غالباً ایسا واحد مذہب ہے جس میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ پارسی مذہب کے پیروکاروں کے خیال میں یہ عمل انہیں کمزور کرتا ہے اور نتیجتاً وہ برائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ روزہ صرف یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا حکم نہیں، بلکہ زمانہ قدیم سے رائج ہے۔روحانیت کے حصول کے لئے روزے کو ایک ذریعہ مانا جاتا تھا۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ زیادہ تر مذاہب اپنے پیروکاروں پر کسی قسم کی پابندی لاگو نہیں کرتے اور یہ ماننے والے کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا تھا کہ آیا وہ روزہ رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ مزید برآں روزوں کے مہینے، اوقات اور تعداد کا تعین بھی کم ہی مذاہب میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کا روزہ عیسائیو ں یا ہندووں کے روزے سے اس طرح بھی مختلف ہے کہ اسلام کے برعکس ان مذاہب میں حالت روزہ میں کھانا پینا مکمل طور پر نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ صرف مخصوص اشیا کا استعمال ہی ترک کیا جاتا ہے۔یوں مسلمانوں کا روزہ باقی مذاہب کی نسبت نہ صرف الگ ہے، بلکہ ہر بالغ مرد و عورت پر یکساں فرض ہے اور اس کے قضا ہونے کی صورت میں خدا کی طرف سے سخت عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ramadan month of mercy in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News

Leave a Reply