”میری دانش ہے افرنگی مرا ایمان ہے زناری“

سمیع اللہ ملک، لندن
ہندوکو ہندو ہونے پر فخر ہے،سکھ اپنے سکھ ہونے پر ناز کرتا ہے،یہود کو اپنی یہودیت پرگھمنڈ ہے اور اب عیسائی اپنی عیسائیت مسلمانوں پر غالب کرنے کی فکر میںہیں اور ایسے میں ہم مسلمان اپنی قوتِ ایمانی چھوڑ رہے ہیں اور ادیانِ عالم میں اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں۔شائد اس دنیا میں ہم ایسی کم مائیگی کا شکار ہیں جس کی اجازت ہمیں دین اسلام نہیں دیتا ۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ہماری عقل و دانش”امریکی و افرنگی“ ہے اور ہم ہندو مت کے مطابق اپنے روزوشب گزار رہے ہیں۔چند پراگندہ ذہن کے لوگوں نے ہم ہندی روایات میں ڈوبے ہوو¿ں کو باقاعدہ ”زنار“پہنا دی ہے۔ان کے قلم کے منہ میںاللہ اللہ ہے اور دل میں رام رام کاراگ بسا ہوا ہے۔ان کے اس نام نہاد حسنِ اخلاق نے ہماری بیباکی دبا کر رکھ دی ہے،حق سے گریزاور ”ظلمتوں“ سے محبت ہمارا و طیرہ ہو گیا ہے اور ہم اپنا تشخص ہی نہیں اپنا ثبات بھی کھوچکے ہیں۔
ان حالات میں رسولِ خدا محمد مصطفیٰﷺ کی طرف مدد کےلئے بڑھنا بہت ضروری ہے کہ پھر اسی رحمتِ عالم کی بدولت ہماری جھوٹی زناریت اور غلیظ رنگ امریکیت،بدبو دار افرنگیت ہمارے خاکی پتلے سے نکل جائے اور ہم میں بقول حفیظ جالندھری”قوتِ اخوتِ عوام“پیدا ہو جائے۔جس پھندے میں آج کل پھنسے ہوئے ہیںاس سے باہر نکلنا اتنا آسان نہیں ،باقاعدہ ایک گروہ نے برسوں کی محنت سے ہمیں اس دام میں پھنسایا ہے۔آج ہم تختہ¿ دار پر بھی انہی کے راگ الاپ رہے ہیںجنہوں نے ہمیں ذہنی طور پر بے سروساماں کر کے موت کی اس وادی میں اتارا ہے ۔ہم نا سمجھ بھی نہیںلیکن ایک نشے میں ڈوبے ہوئے ہیںاور وہ نشہ ہے دولت مندی یا دولت مندی کی خواہش کا،جس کے پیچھے گناہوں کی ہوس کاری ہے۔دین پر غضب ٹوٹے یا دین داروں کے گلے کاٹے جائیں،ہمیں اس سے کوئی دکھ نہیں ہوتا،ہوس کسی اچھے خیال کو دل میں آنے ہی نہیں دیتی۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے بارے میں زبانِ مخبرِ صادق محمد ﷺسے یہ ارشادِ برحق ہوا تھاکہ”ہر امت کےلئے ایک فتنہ ہے،میری امت کےلئے فتنہ دولت ہے۔“
یہ فتنہ کہاںسے آیا،لبرل ازم سے اور لبرل ازم تقلید سے پیدا ہوا۔جب تک تقلید دین کے تابع رہی،اس نے کچھ فائدہ ہی دیااور جب مخالفین اور منافقین کی کوششوں سے تقلیددین کی گرفت سے نکل گئی توتقلید کے آسیب نے اپنے دانت دکھانے شروع کر دیئے۔قمیضوں کے کف ہتھکڑیاں بن گئے،کالر صلیب کی طرح مصلوب کرنے لگے،پتلونوں کے پائنچے بیڑیاں بن گئیں،زبان غیر ملکی زبان نے کھینچ لی،آنکھوں کو رنگا رنگی نے اندھا کر دیا،کانوں میں بہرہ کرنے والی دھنیں سما گئیں،لباس نے بدن کو ننگا کر دیااور ہمارے پاو¿ں مداری کے اشاروں کے پابند ہو گئے تو پھر ہم،ہم نہ رہے،ہمیں آگ اور دھوئیں نے اپنی لپیٹ میں لے لیااور ہم دولت کے پجاری بن کر نامراد رہ گئے ”نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم“کی حیثیت میں اب ہم دولت کے نشے میں غرق بے کھدی قبروں میںپڑے ہیں،جو مرتا ہے اس کا جنازہ تک نہیں اٹھاتے۔
اس حالت پر بے رحموں کو کیا رحم آئے گا،خود ہم اپنے آپ پر رحم نہیں کھاتے۔لمبی چوڑی تقریروںکے پیچھے جاہ طلبی جس کا دوسرا نام دولت پرستی ہے،اسی کے نشے میں چور ہیںاور دلوں میں یہ خواہش چھپی ہے کہ”عمر مٹی کی بھی ملے تو روا ہے شباب میں“!اور بس نہ خدا یاد،نہ عاقبت کا خوف،بڑھاپے کو بھی جوانی کے رنگ میںرنگنے والے کسی بات سے نہیں ڈرتے۔دولت کے پجاریوں کو لکشمی دیوی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتااور لکشمی کو پوجنے والوں کو دنیا اور مافیہا کاکچھ خیال نہیں ہوتا۔یہ کیا دھرا لادینیت کا ہے جو ہماری عقل و ہوش کی دنیا پر غالب ہو گئی ہے،جو دانش افرنگ اور زناریت کی پیداوار ہے،یہ دور دورِ عذاب ہے کہ ناکردہ گناہوں کی سزادی جارہی ہے اور ہم میں اتنا شعور بھی باقی نہیںکہ اس بے جرم سزادینے کے خلاف کوئی احتجاج کر سکیں۔ایک بند کمرے میں ہیں اور خود کو چھپا رہے ہیں اور ظالموں کے کارندے ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایذا میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔اس حقیقت سے جو عنقریب ظاہر ہو گی ،غافل ہیں کہ جو آج ہمیں ہماری بے گناہی کی سزا دے رہا ہے وہ کل اپنوں کو پٹوانے والوں کو ناقابلِ اعتبار سمجھ کران کو بھی سزا دے گا۔آج کی سزا کاٹنے والے تو سزا کاٹ ہی رہے ہیں،کل کو جو ہونے والا ہے اور جن کی آج کے ”ہمدردوں“کو سزا ملنے والی ہے،اس کا انہیں ہرگز ہرگز اداراک نہیں ہے۔وہ خوش ہیں کہ ہم نے قوم زندہ کے طاقتوروں کو مٹا دیا۔
جو دشمن کے بارے میں یہ نہیں جانتا کہ تمام دشمن قومیں ملتِ واحدہ ہوتی ہیںاور ان کا جوش کسی ہوش کا پابند نہیں ہوتااور وہ ساتھی اور غیر ساتھی میں تمیز نہیں کیا کرتیں،وہ صرف جری قوم کے دوستوںاور دشمنوں کے خو ن سے سرخروئی حاصل کرتے ہیں۔میر جعفر اور میر صادق کی مثالیں موجود ہیں۔دشمن وہی ہیںجنہوں نے ان لوگوں کو اپنے ظلم کا شکار بنایا تھا۔ خیر یہ تو اپنے آپ سے گلہ ہے لیکن لیکن ان گئے گزرے حالات میںپاکستان کے ایک چھوٹے سے شہرگوجرہ میںایک عجیب منظردیکھنے کومل رہاہے جہاں2009 میں مسیحی برادری کے خلاف مشتعل ہجوم کے حملوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور ان کے گھروں اور گرجاگھر کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا،اب وہاں کے مسلمان مکین اپنے گاو¿ں کے مسیحی برادری کیلئے پہلاگرجاگھرتعمیرکررہے ہیں۔گاو¿ں کے مکینوں کاکہناہے کہ ہماری مسجد تو یہاں کب سے موجود ہے لیکن ہمارے عیسائی دوستوں کو بھی حق ہے کہ وہ اسی گاو¿ں میں ہمارے سامنے آزادانہ عبادت کر سکیں، اسی لئے ہم اپنی مسجدکے پہلومیں اپنے ہاتھوں سے گرجاگھرتعمیرکررہے ہیں۔ جونہی نمازی مسجدسے نکلتے ہیں توکوئی گرجاگھرکی کھدائی اوردیورایں کھڑی کررہاہے توکوئی ان اینٹوں پر سیمنٹ کالیپ کررہاہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے تشدد اور عدم برداشت کے واقعات روز سامنے آتے ہیں ، لیکن ان ہی شورش زدہ علاقوں میں ایسی کمیونٹیز بھی ہیں جو قومیت اور برادری کے جذبے کو مسلک اور فرقے سے بالاتر سمجھتے ہوئے گوجرہ کے قریب اس چھوٹے سے گاو¿ں میں ایسی ہی چھوٹی سی کاوش کر رہا ہے جہاں کے مسلمان رہائشی اپنی محدود آمدنی کی پائی پائی جوڑ کر اپنے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ہمسائیوں کے لیے ایک گرجا گھر اپنے ہاتھوں سے تعمیر کر رہے ہیں۔ان کے حوصلے بلند ہیں کہ اس بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ سینٹ جوزف چرچ کو ایک حقیقت بنا کردم لیں گے۔اس علاقے کی بڑی پیریش کے پادری فادر آفتاب جیمز کا خیال ہے کہ گاو¿ں کے مسلمانوں کاپرخلوص رویہ ،ایثاراور لوگوں میں محبت کے ساتھ رہنے کے جذبہ نے یہ ثابت کردیاہے کہ یہاں آگ لگانے والے توبہت کم لیکن آگ بجھانے والوں کے ایک کثیرتعدادہے۔
اب وقت آگیاہے کہ دولت کاجو نشہ ہم پر بھرپور طریقے سے چھایا ہوا ہے اور جوجوبزبان اقدس ہمارے لئے فتنہ ہے،اس سے بچنے و نکلنے کےلئے ایک ہی معاونت درکار ہے اور وہ ہے حضور خاتم الانبیاءاور رحمت العالمینﷺ سے یہ دعا کرنے کی کہ اس زبوں حالی میں ہماری مدد خود ہم سے نہیں ہو سکتی،مولائے یثرب ہی حفاظت فرمائیںیعنی دل و دماغ لا دینیت کا شکار ہو کرہم پر عالمِ سکرات پیدا کر دے توپھر دنیا کی کوئی طاقت مددگار اور محافظ نہیں ہو سکتی۔حضرت علامہ اقبالؒ کے اس شعر میںجو دعائے دلی ہے،وہی سہارا بن سکتی ہے!
تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی مرا ایمان ہے زناری
رابطے کے لیے: bittertruth313@gmail.com

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Muslims lost their identity in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News

Leave a Reply