بالی ووڈ اداکار ونود کھنہ انتقال کر گئے

ممبئی: معرو ف فلم اداکار اور ممبر پارلیمنٹ ونود کھنہ کا آج یہاں گرگاو¿ں کے ایچ این ریلائنس فاو¿نڈیشن اینڈ ریسرچ سینٹر میں انتقال ہو گیا۔ وہ 70 سال کے تھے۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے اکشے کھنہ ،راہل کھنہ اور ساکھسی کھنہ اور ایک بیٹی شردھا ہے۔ خاندان کے ذرائع نے ان کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے مثانے کے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ انہیں اپریل کے پہلے ہفتہ میں جسم میںپانی کی شدید قلت ہوجانے کے باعث گرگاو¿ں کے ایچ این ریلائنس فاو¿نڈیشن اینڈ ریسرچ سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ حال ہی میں ان کی ایک تصویر بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ کافی بیمار نظرآ رہے تھے۔ 146 فلموں میں اداکاری کر چکے کھنہ موجودہ لوک سبھا میں پنجاب کے گورداسپور سے بھارتیہ جنتا پارٹی رکن پارلیمنٹ تھے۔ باجپئی حکومت میں وزیرمملکت بھی رہ چکے تھے۔ مسٹر کھنہ چار بار پنجاب کے گرداس پور سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ بطور ویلن اپنے کیریئر کا آغاز کرکے ہیرو کے طور پر فلم انڈسٹری میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے سدا بہار اداکار ونود کھنہ نے اپنے اداکاری سے ناظرین کے دلوں میں دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔ چھ اکتوبر 1946 کو پاکستان کے پشاور میں پیدا ہوئے ونود کھنہ نے گریجویشن کی تعلیم ممبئی سے حاصل کی۔ اسی دوران انہیں ایک پارٹی کے دوران ہدایت کار سنیل دت سے ملنے کا موقع ملا۔ سنیل دت ان دنوں اپنی فلم”من کا میت“ کے لیے نئے چہروں کی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے فلم میں ونود سے بطورساتھی اداکار کام کرنے کی پیشکش کی جسے ونود نے بخوشی قبول کر لیا۔ گھر پہنچنے پر انہیں اپنے والد سے کافی ڈانٹ بھی سننی پڑی۔ جب ونود نے اپنے باپ سے فلم میں کام کرنے کے بارے میں کہا تو ان کے والد نے ان پر بندوق تان دی اور کہا، “اگر تم فلموں میں گئے تو تمہیں گولی مار دوں گا۔ ” بعد میں ونود کی ماں کے سمجھانے پر ان کے والد نے ونود کو فلموں میں دو سال تک کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا اگر فلم انڈسٹری میں کامیاب نہیں ہوئے ہو تو گھر کے کاروبار میں ہاتھ بٹانا ہوگا۔ سال 1968 میں آئی فلم ”من کا میت“ باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی۔ فلم کی کامیابی کے بعد ونود کو ” آن ملو سجنا،میرا گاو¿ں میرا دیش، سچا جھوٹا“ جیسی فلموں میں ویلن کے کردار نبھانے کا موقع ملا لیکن ان فلم کی کامیابی کے باوجود ونود کھنہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ .ونود کھنہ کو ابتدائی کامیابی گلزار کی فلم ”میرے اپنے“ سے ملی۔ اسے محض ایک اتفاق ہی کہا جائے گا کہ گلزار نے بطور ڈائریکٹر اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی۔اسٹوڈینٹس پولیٹکس پر مبنی اس فلم میں مینا کماری نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں ونود کھنہ اور شتروگھن سنہا کے درمیان ٹکراو¿ دیکھنے کے قابل تھا۔ سال 1973 میں ونود کھنہ کو ایک بار پھر سے ڈائریکٹر گلزار کی فلم”اچانک“ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ فلم سے منسلک ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم میں کوئی نغمہ نہیں تھا۔ 1974 میں آئی فلم”امتحان“ ونود کے فلمی کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ سال 1977 میں فلم ”امر اکبر اینتھونی “ ونود کے فلمی کیریئر کی سب سے کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ منموہن دیسائی کی ہدایت میں بنی یہ فلم ” کھویا پایا“ فارمولے پر مبنی تھی۔ تین بھائیوں کی زندگی پر مبنی اس ملٹی اسٹارر فلم میں امیتابھ بچن اور رشی کپور نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ سال 1980 میں ریلیزفلم ”قربانی“ ونود کھنہ کے کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ پروڈیوسر اور ڈائرکٹر فیروز خان کی بنی اس فلم میں ونود کھنہ اپنی بااثر اداکاری کی بدولت بہترین اداکار کے فلم فیئر ایوارڈسے نوازے گئے۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Veteran actor vinod khanna dies at 70 from bladder cancer in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply