کے ایل سیگل جو وفات کے بعد بھی اپنی مسحور کن آواز و دلفریب موسیقی سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے

نئی دہلی : اپنے ہی کلام کواپنی ہی موسیقی، اپنی ہی آواز اور اپنے ہی اچھوتے انداز اور دل کی دھڑکنیںبڑھادینے والے ” دل جلتا ہے تو جلنے دے آنسو نہ بہا فریاد نہ کر “جیسے لاتعداد گیت اور غزلیں گا کر فضا کو مسحور کرنے والی جس شخصیت کی آج موسیقی اور نغمہ و غزل سرائی کی دنیا اور بالی ووڈ میں114ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اسے کندن لال سیگل المعروف کے ایل سیگل کہتے ہیں جو جموں میں ایک تحصیلدار کے گھر میں تولد ہوئے تھے۔ اور آج اس شخصیت کی یاد میں گوگل نے ان کا بڑا دیدہ زیب خاکہ پیش کیا ہے ۔
ان کے بارے میں یہی کہا جاتا ہےکہ انہوں نے کسی استاد سے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ موسیقی کے کسی معروف گھرانے سے وابستہ تھے لیکن جب جموں میں تھے تووالدہ کے ساتھ مذہبی تقاریب اور مندروں میں بھجن کی محفلوں میں شرکت کرتے اور والدہ کے ساتھ مل کر بھجن خود گایا بھی کرتے۔ ان کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جموں کے ایک غیر معروف سے صوفی بزرگ سلمان یوسف کے آستانے پر حاضری بھی دیتے تھے اور بھجن یا عارفانہ کلام سناتے۔ یہ بزرگ خود بھی گاتے تھے اس لیے عین ممکن ہے کہ انہیں موسیقی میں کچھ درک رہا ہو اور انہوں نے سیگل کی اس سلسلے میں کچھ ابتدائی تربیت کی ہو۔
بہر حال یہ طے ہے کہ موسیقی اور گائکی ان کی رگ رگ میں تو رچی ہوئی تھی لیکن ان کے معاش کا ذریعہ نہیں تھی اور نہ انہوں نے اس کو روزی کا ذریعہ بنانے کا کوئی منصوبہ بنایا تھا۔ اور بنا بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے کہ اس زمانے میں موسیقی اور پہلوانی دونوں صرف جاگیرداروں اور رجواڑوں کی سرپرستی میں فروغ پاتی تھیں اور سیگل کچھ ا ایسے من موجی تھے کہ درباروں کے آداب سے مطابقت پیدا کرنا ان کے لیے یقیناً مشکل ہوتا۔چنانچہ وہ کلکتہ پہنچ گئے اور ٹائپ رائٹر بنانے والی کمپنی میں 80 روپے ماہانہ پر سیلز مین کی نوکری مل گئی۔
کلکتہ میں ہی کہیں ان کی کسی طرح نیو تھیٹر کے بانی بی۔ این۔ سرکار سے مڈبھیڑہوگئی اور انہوں نے ان کو گلوکار کے طور پر دو سو روپے ماہانہ پر ملازمت دیدی۔نیو تھئیٹر میں اس زمانے میں رائے چند بورل، تامیر برن اور پنکج ملک موسیقار تھے جن میں بورل سب سے سینئیر تھے اور انہوں نے سہگل کے فن میں نکھار اور پختگی پیدا کرنے میں یقیناً بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہوگا، اس لیے کہ نیو تھئیٹر کی فلموں نے سہگل کو ہندوستان گیر شہرت دی اور ان موسیقاروں کی بنائی ہوئی دھنوں پر ہی انہوں نے وہ نغمے گائے جنہوں نے انہیں امر بنادیا۔ مثلاً دیو داس کا یہ نغمہ ’دکھ کے دن اب بیتت ناہیں ‘ یا ’بالم آئے بسو میرے من میں یا فلم اسٹریٹ سنگر کا یہ گیت ’بابل مورا نہیئر چھوٹل جائے‘ وغیرہ وغیرہ۔
نیو تھیٹر نے ابتدا میں سہگل کے ساتھ جو تین فلمیں بنائیں وہ مالی اعتبار سے ناکام رہیں اور کوئی خاص آمدن نہیںہوئی۔ ان میں پہلی محبت کے آنسو، زندہ لاش اور صبح کا تارہ شامل ہیں۔ 1933 میں بھی نیو تھئیٹر نے تین فلمیں ریلیز کیں جن میں پورن بھگت، راج رانی میرا او اور یہودی کی لڑکی شامل ہیں۔ اگرچہ یہ فلمیں کامیاب رہیں لیکن ان کی کامیابی سے زیادہ سہگل کو شہرت ملی اور بحیثیت اداکار اور گلوکار وہ پہچانے جانے لگے۔1934 میں نیو تھئیٹر نے مزید تین فلمیں ریلیز کیں جن میں چندی داس نے سہگل کو وہ مقام دیا جہاں سے انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا یہاں تک کہ دوسرے سال یعنی 1935 میں دیو داس نے ان کو امر بنادیا۔
دیو داس سرت چندر چٹّرجی کا وہ شہرہ آفاق ناول ہے جس نے نہ صرف بنگالی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ کیا بلکہ ہندوستانی اشرافیہ اور متوسط طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے جذبات اور احساسات اور ان کی الجھنوں کو زبان دیدی جو ایک طرف جمہوریت، آزادی، سیکولرزم اور انسانی مساوات کے سنہرے اصولوں سے واقفیت حاصل کر رہے تھے اور دوسری جانب خود ان کے اپنے سماج میں ان اصولوں کو بڑی بیدردی سے روندا جا رہا تھا۔دیوداس ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو ایک اعلیٰ ذات کے بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور ساری خوبیوں کا مالک ہونے کے باوجود محض اس بنیاد پر رائندِ درگاہ قرار پاتا ہے کہ اسے ایک نیچ ذات کی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے۔دیو داس صرف بنگال کے نوجوان کی کہانی نہیں تھی بلکہ پورے ہندوستان کے پڑھے لکھے نوجوان کی کہانی تھی اور جب بروا نے بنگالی میں یہ فلم بنائی تو یہ ناول سے بھی زیادہ مقبول ہوئی اس لیے کہ ناول تو صرف پڑھے لکھے لوگ ہی پڑھ سکتے تھے فلم ان پڑھوں نے بھی دیکھی۔
اور میں یہ بھی بتا تا چلوں کہ بنگالی دیوداس میں بھی سہگل نے ایک چھوٹا سا رول کیا تھا اور دو گانیں بھی گائے تھے۔ اس فلم کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی میں بھی اسے بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں سہگل نے دیوداس کا مرکزی کردار ادا کیا جو بنگالی فلم میں بروا نے ادا کیا تھا۔سہگل نیو تھئیٹر کی کئی کامیاب فلموں میں کام کرنے کے بعد، جن میں کروڑ پتی، پجارن، دیدی، پریسی ڈنٹ، سٹریٹ سنگر، ساتھی دشمن اور بنگالی کی کئی کامیاب فلمیں شامل ہیں، بمبئی کے رنجیت اسٹودیو سے وابستہ ہو گئے اور وہاں اور فلموں کے علاوہ انہوں نے بھگت سورداس اور تانسین میں کام کیا جو ہر اعتبار سے بہت کامیاب فلمیں تصور کی جاتی ہیں۔سہگل، تان سین کے بعد، جو 1944 میں ریلیز ہوئی، تین سال اور بلکہ یوں کہیے کہ دوسال اور زندہ رہے اس لیے کہ جنوری 1947 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس عرصے میں انہوں نے سات فلموں میں کا م کیا ان میں فلم شاہجہاں کا نام قابل ذک رہے۔ شاہ جہاں اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میں مجروح سلطان پوری نے پہلی مرتبہ کسی فلم کے لیے نغمے لکھے تھے۔
موسیقی کی تربیت باقائدہ کسی استاد سے حاصل نہیں کی تھی بلکہ ان کی یہ صلاحیت خداداد تھی۔ کہتے ہیں وہ ایک بار استاد فیاض علی خان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا ’تم اتنا جانتے ہو کہ میں تمہیں اور کیا سکھا سکتا ہوں‘ یہ بھی مشہور ہے کہ ان کے کسی گیت سے استاد عبد الکریم خان صاحب اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں انعام کے طور پر سو روپے کا منی آرڈر بھیج دیا۔ دروغ بر گردنِ راوی، یہ واقعہ 1937 کا بتایا جاتا ہے جس زمانے میں سو روپے کی رقم اچھی خاصی سمجھی جاتی تھی۔سہگل نے غزل کی گائکی میں بھی اپنی ایک منفرد طرز ایجاد کی جو کلاسیکی اصولوں پر پوری اترتی تھی یا نہیں، اس کے بارے میں تو صرف اس فن کے اساتذہ ہی کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیگل کی گائی ہوئی غزلیں نہ صرف اچھی لگتی ہیں بلکہ سمجھ میں بھی آتی ہیں۔اگرچہ انہوں نے سارے ہی بڑے شاعروں کو گایا ہے لیکن غالب سے انہیں جو والہانہ شغف تھا وہ اور کسی شاعر سے نہیں تھا۔
چنانچہ انہوں نے غالب کو کچھ اتنا رچ کے گایا ہے کہ جیسے وہ غالب کا کلام محض گانے کے لیے نہیں بلکہ ہر خاص و عام کو سمجھانے کے لیے گا رہے ہوں۔ مشہور ہے کہ بیگم اختر بھی جو غزل کی گائکی میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی تھیں سیگل کی بڑی معترف تھیں۔سہگل کی آخری فلم پروانہ تھی جو 1947 میں غالباً ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے میوزک ڈائریکٹر خورشید انور تھے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ ہر میوزک ڈائریکٹر سہگل سے کہتا کہ ریکارڈنگ سے پہلے شراب پی لیا کرو اس سے تمہاری آواز کی نغمگی بڑھ جاتی ہے۔
لیکن خورشید انور نے انہیں شراب کے بغیر ہی ریکارڈ کیا اور یہ فلم تو کوئی ایسی کامیاب نہیں ہوئی لیکن اس کے نغمے بہت مقبول ہوئے اور خورشید انور کو کسی ادارے کی جانب سے اس سال کے بہترین موسیقی کار کا انعام بھی دیا گیا۔سہگل جنوری 1947 کو جلندھر میں اس سرائے فانی سے کوچ کرگئے۔ انہیں جگر کا کوئی عارضہ ہو گیا تھا۔ غالباً بسیار نوشی نے ان کی زندگی کے سفر کو مختصر کر دیا تھا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 42 یا اس سے ذرا اوپر رہی ہوگی۔ یہ کوئی بہت زیادہ عمر نہیں ہے لیکن اس مختصر سی عمر میں انہوں نے اپنے لیے جو مقام بنایا ہے وہ ان کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Todays google doodle marks the 114th birth anniversary of kl saigal in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply