رابندر ناتھ ٹیگور ادب کا نوبل انعام پانے والے پہلے غیر مغربی لکھاڑی

عمران شاہد بھنڈر

معروف نوبل انعام یافتہ ادیب شاعر اور مصور رابندر ناتھ ٹیگور نے نے 7 اگست 1941 کو کلکتہ میں اسی مکان میں انتقال کیا جہاں انہوں نے پہلی سانس لی تھی۔ ٹیگور نے ا یک ایسے خاندان میں جنم لیا جس کا شمار ہندوستان کے چند انتہائی بااثر خاندانوں میں ہوتا تھا۔ ان کے دادا دوارک ناتھ کے ملکہ وکٹوریہ سے انتہائی قریبی تعلقات تھے۔ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان روابط میں ٹیگور خاندان سلطنتِ برطانیہ کے لیے انتہائی اہم ’خدمات‘ سر انجام دیتا رہا ہے۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے رابندرناتھ ٹیگور نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے غیر مغربی لکھاڑی ہیں۔ ان کا شمار بہرحال نوبل انعام حاصل کرنے والی متنازع شخصیات میں ہوتا ہے۔

اس لیے نہیں کہ ان کو نوبل انعام دیا جانا مغرب میں متنازعہ مسئلہ بنا ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کی فکری و علمی اور فنی حیثیت کے بارے میں اہم ترین مغربی فلسفیوں اور ناقدین کے کچھ اس طرح کے خیالات اور تجزیات سامنے آئے ہیں، اور ان کو نوبل انعام ملنے کی داستان اتنی عجیب و غریب ہے کہ ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا صرف یہی جواب سامنے آتا ہے کہ ٹیگور کو انعام دیا جانا ان کی اہلیت سے زیادہ سیاسی پالیسی کا حصہ تھا۔ انگریز ہندوستانیوں کو ویسا ہی اطاعت گزار، روحانیت پرور، مزاحمت اور ارتعاش سے یکسر عاری اور عدم فعالیت کا نمایندہ دیکھنا چاہتے ہیں جیسا ٹیگور نے ’گیتانجلی‘ میں انھیں پیش کیا ہے۔

ٹیگور کے نوبل انعام کا واقعہ متحیر کر دینے والا ہے۔1912میں ٹیگور اپنی سو سے زیادہ نظمیں لے کر نوبل انعام کے حصول کی خواہش کے ساتھ برطانیہ پہنچے۔ وہاں ان کی ملاقات برطانوی مصور ویلیمز روتھن سٹائن کی وساطت سے آئرلینڈ کے قوم پرست شاعر والٹر برٹن ییٹس سے ہوئی۔ ییٹس نے ان کی نظمیں پڑھیں اور اپنے قلم سے ان کے کئی حصوں پر نشانات لگا کر ان کو ’بہتر‘ بنایا۔ بعد ازاں ییٹس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے ”ہر دوسرے مصرعے“ کو درست کیا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر ان کو درست نہ کیا جاتا تو انھیں نوبل انعام کا مستحق نہیں قرار دیا جا سکتا تھا۔ اس طرح جن نظموں پر نوبل انعام دیا گیا تھا، وہ اغلاط سے مبرا نہیں تھیں۔ ان میں اصلاح کی گنجائش موجود تھی۔ 1913میں ییٹس نے انھی نظموں کا تعارف لکھا، اور انھیں ”گیتانجلی“ کے عنوان سے شایع کر دیا گیا۔ اسی برس نومبر کے مہینے میں ٹیگور کو ’گیتانجلی‘ پر نوبل انعام دے دیا گیا۔

ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ییٹس نے ’گیتانجلی‘ کے نقائص کی اصلاح کیوں کی، کیونکہ وہ تو بنگالی زبان سے یکسر نابلد تھا۔ انگریزی میں کتاب کی اصلاح اس کے اوریجنل بنگالی مسودے کو سامنے رکھ کر نہیں کی گئی تھی۔ یعنی انگریزی میں ’گیتانجلی‘ نے وہ شکل اختیار کر لی جو ییٹس کے ذہن میں تھی۔ اس لیے نوبل انعام اس’گیتانجلی‘ کو نہیں دیا گیا جو بنگالی میں لکھی گئی تھی بلکہ اس ’گیتانجلی‘ کو دیا گیا جو ییٹس کے قلم سے صورت پذیر ہوئی تھی۔ اہم بات یہ کہ جب ٹیگور کو نوبل انعام دیا گیا تو اس وقت ان کی وہی نظمیں نوبل انعام کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تھیں جن کو ییٹس کے مشوروں سے درست کیا گیا تھا۔ ٹیگور کے باقی ’تخلیقی‘ کام سے ییٹس قطعی طور پر واقف نہیں تھا۔ ییٹس ’گیتانجلی‘ کے تعارف میں ہی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کے دوستوں نے اسے بتایا ہے کہ بنگالی میں ’گیتانجلی‘ ایک اوریجنل کتاب کے طور پر سامنے آئی ہے، یعنی ’گیتانجلی ‘ کی اوریجنیلٹی ییٹس پر ظاہر نہیں ہوئی بلکہ اسے بتایا گیا۔ ٹیگور کو نوبل انعام ملنے کے بعد ییٹس اس کے دیگر ’تخلیقی‘ کام سے آگاہ ہوا۔ اور 1935 میں ییٹس ٹیگور کے کام کو “Sentimental Rubbish” کہہ کر مسترد کر چکا تھا۔

جہاں تک ’گیتانجلی‘ میں پیش کیے گئے خیالات کا تعلق ہے تو ان میں کہیں کوئی اوریجنیلٹی نہیں ہے۔ پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’بھگوت گیتا‘ کا ہی دوسرا والیم ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ ٹیگور برہمن آئیڈیالوجی پر پختہ اعتقاد رکھنے والے کٹر برہمن تھے۔ ’گیتانجلی‘ ہندو عقیدہ پرستی کا شعری تسلسل ہے۔ ’بھگوان‘ کو پیش کیا گیا خراج تحسین ہے۔ ییٹس کے الفاظ میں ایک ”ایسی روایت جہاں مذہب اور شاعری صدیوں سے یکتا ہیں۔“ ٹیگور نے اسی لیے کتاب کو ’گیتانجلی‘ کا عنوان دیا۔ ’گیتانجلی‘ کو ایک ایسے وقت میںنوبل انعام کے لیے پیش کیا گیا جب مغرب جنگوں اور فسطائیت کی دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف نفرت جڑ پکڑ رہی تھی۔ اسی برس پہلی جنگِ عظیم شروع ہو چکی تھی۔
ہندوستان میں آزادی کی تحریک برپا ہو چکی تھی۔ انقلابیت وقت کی ضرورت بن چکی تھی۔ سلطنتِ برطانیہ سے نجات پانے کے لیے غلامانہ اذہان کو متحرک اور فعال کرنا ضروری تھا۔ مغربی سامراج کو مزاحمت کاروں کی جانب سے اس وقت فعال بنانے والی آئیڈیالوجی سے زیادہ ’روحانیت‘ کی ضرورت تھی۔ اس حوالے سے ’گیتانجلی ‘ اپنے عہد کے سماجی تقاضوں سے یکسر محروم، لوگوں میں انفعالیت کو تقویت دینے کے لیے ایک مذہب پرست کے تخیل کا مجہول اظہار بن کر سامنے آئی۔ اس میں کوئی نیا خیال، فکر کی نئی جہت، کوئی نئی آئیڈیالوجی یا انوکھی شعری امیجری نہیں ہے کہ جو ’اجنبیت‘ کا احساس دلائے۔ کتاب کے تعارف میںیٹس بھی یہ کہنے پر مجبور تھا کہ ”ہم اس میں موجود اجنبیت سے متحرک نہیں ہوئے، بلکہ اس میں ہمیں اپنی ہی امیج دکھائی دی ہے۔“ وہ امیج جسے مغرب نے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، مگر ہندوستان میں اس کا احیا کیا جا رہا ہے۔

’گیتانجلی‘ میں پیش کیے گئے خیالات ہندوستان اور مغربی دنیا کے لیے نئے نہیں ہیں۔ یہ خیالات تمام مذاہب کی متصوفانہ روایت کا حصہ رہے ہیں۔ گیتانجلی میں ازل، ابد، روحانیت، لامتناہیت اور ’بھگوان‘ جیسے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔ بیسویں صدی کا اہم لبرل، ملحد برٹرینڈ رسل ’گیتانجلی‘ کو پڑھ کر اسے ’معنی‘ سے یکسر عاری قرار دیتے ہوئے اس کے تصورِ لامتناہیت کے بارے میں “Vague Nonsense” جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ جب کوئی لکھاڑی اپنی ہی پرانی تحریر کو دوبارہ پڑھتا ہے تو اسے اپنی ہی تحریر میں ندرت دکھائی دیتی ہے، جو حقیقی ندرت کا اظہار نہیں ہوتی، بلکہ حالات و واقعات کے تسلسل سے اپنے ہی ماضی سے عدم شناسائی اور بیگانگی کی علامت بن جاتی ہے۔

گیتانجلی میں بھی ہندوستانیوں کے لیے ایسا ہی نیا پن ہے۔ مسلسل غلامی کی زندگی نے ہندوو¿ں کے وجود اور شناخت کو منہدم کر دیا تھا۔ ٹیگور کی کتاب نے ہندو مذہبی پس منظر میں اس احساسِ شناخت کو بیدار کیا۔ جب ہندوستان کے مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی ایک کامیاب آزادی کی جدوجہد کے لیے ضروری ہوتی ہے تو ایسے میں تعصب انگیز آئیڈیالوجی کا اظہار، مختلف مذاہب کے مابین تفریق کو گہرا کرنے کے مترادف ہو جاتا ہے، ہر مذہبی آئیڈیالوجی کی طرح یہی ’گیتانجلی‘ کے کردار کو محدود کرتا ہے۔

برطانیہ میں جب ٹیگور کو نوبل انعام دینے کا سلسلہ جاری تھا تو اسی وقت ایزرا پاو¿نڈ اور ٹی ایس ایلیٹ جیسے قدرے کم فاشسٹ شعرا بھی شاعری کو اس کے روایتی شعوری کردار سے منقطع کر کے، اس میں اظہار کی بجائے عدم اظہار جیسے تصورات کو اجاگر کر رہے تھے۔ عدم اظہار ایک پیچیدہ اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب شخصیت کے اظہاری پیرائے سے محفوظ رہنا اور خود کو شعری اظہاریے کے سپرد کرنا ہے۔ پاو¿نڈ اور ایلیٹ اس بات پر متفق تھے کہ نظم کی ’تخلیق‘ میں یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ اس میں ’کہا‘ کیا گیا ہے، بلکہ اہم چیز یہ دیکھنا ہے کہ نظم حقیقت میں ہے کیا چیز! کہنے سے اجتناب کا مطلب ہی یہ ہے کہ غالب آئیڈیالوجی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اب کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

مغرب میں سترھویں اور اٹھارویں صدی کا روشن خیالی پروجیکٹ سفاکیت اور بربریت پر منتج ہوکر اپنے انجام کو پہنچ رہا تھا۔ روشن خیالی سے باہر نکلنے کا راستہ یہی تھا کہ ’کہنے‘ سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ کہنے کے لیے وہی کچھ تھا جو پہلے ہی سے کہا جا چکا تھا۔ برطانیہ میں شاعری میں عدم اظہار متصوفانہ فکر کے قریب ہے۔ شخصیت سے انحراف شخصیت میں ہی دھنسنے کے مترادف ہے۔ ٹیگور نے کہنے سے اجتناب نہیں کیا بلکہ اس صوفیانہ فکر کا اظہار کیا جو مندروں میں سکھائی اور پہاڑوں پر عمل میں لائی جاتی ہے۔

مغربی عدم اظہار اور ہندوستانی اظہار میں محض حاکم اور محکوم قوم کی آئیڈیالوجی کا فرق ہے، حاکم بربریت سے واپس لوٹنا چاہتا ہے، جب کہ محکوم یعنی ہندوستانیوں کے پاس کوئی ایسی عقلیت پسند آئیڈیالوجی موجود ہی نہیں تھی، اس لیے انھیں ٹیگور کی شکل میں قدیم صوفیانہ فکر میں پناہ لینا پڑی۔ ٹیگور کو پڑھنے سے اسی قدامت پسندی کا احساس ہوتا ہے جو کہ قدیم ہندوستانی صوفیانہ روایت کو پڑھ کر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیگور بنگالی کے علاوہ ہر جگہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ سیمس پیری نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ٹیگور انگریزی بولنے والی دنیا میں فراموش شدہ تاریخ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Tagore the first non european prolific writer who won nobel award in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply