رومانی شاعر شکیل بدایونی کی102ویں سالگرہ

مشہور شاعر اور نغمہ نگار شکیل بدایونی کا، جن کا آج (3اگست )102واں ہوم پیدائش ہے۔شکیل اتر پردیش کے بدایوں قصبے میں 1916 کو پیدا ہوئے۔ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی مسجد میں خطیب او رپیش امام تھے اس لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی۔ اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے بعد مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے شکیل 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔شکیل نے علی مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو انہوں نے انٹر کالج، انٹر یونیورسٹی کے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کیا اور مسلسل ان مشاعروں کو اپنے نام کیا۔ ان کااپنی زندگی کے تئیں نظریہ ان کے اس شعر میں پنہاں ہے۔

‘میں شکیل دل کا ہوں ترجماں کہ محبتوں کا ہوں رازداں
مجھے فخر ہے مری شاعری مری زندگی سے جدا نہیں ‘

شکیل کا شعری مزاج سب سے مختلف تھا۔ ان کی شاعری میں رومانویت بہت تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے انہوں نے اپنے اشعار میں اپنا دل رکھ دیا ہے۔علی گڑھ کے دوران قیام ہی یہ شاعری کرنے لگے تھے اور انہیں جگر مراد آبادی کی سرپرستی حاصل ہوئی جو ان کو اپنے ساتھ مشاعروں میں لے گئے اور پھر ممبئی کی فلمی دنیا میں داخل کر دیا۔ شکیل نے سو سے بھی زائد فلموں میں گانے لکھے اور ان کے گانے بے حد مقبول تھے۔ ہر شخص کی زبان پر تھے۔ آج بھی ان گانوں کو سن کر لوگ جھومنے لگتے ہیں۔ جیسے مغل اعظم کا گانا پیار کیا تو ڈرنا کیا ، اے عشق یہ سب دنیا والے بے کار کی باتیں کرتے ہیں ، ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی وغیرہ۔

فلمی دنیا کی مصروفیت میں شکیل نے اپنے آپ کو بالکل ضم نہیں کر دیا تھا وہ غزلیں بھی کہتے رہے اور ان کے 5 شعری مجموعے نغمہ فردوس ، صنم و حرم ، رعنائیاں ، رنگینیاں ، شبستاں شائع ہوئے اور کلیات شکیل کی اشاعت بھی ان کی زندگی میں ہو گئی تھی۔

شکیل اپنی کوتاہیوں اور مجبوریوں کے سلسلے میں خود کہتے ہیں ” فلمی دنیا میں شامل ہونے اور ادبی ماحول سے دور رہنے کے بعد ایک فطری شاعرکا ذوق لطیف ضرور مجروح ہونا چاہئے۔ پھر بھی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں نے حتیٰ الامکان علمی فراست پر فلمی حماقت کو مسلط نہیں ہونے دیا اور اس تجربے میں ایک حد تک کامیاب رہا۔ “

اپنی شاعری کی بے پناہ کامیابی سے حوصلہ پاکر شکیل بدایونی نے سپلائی افسر کی نوکری چھوڑ دی اور 1946 میں دہلی سے ممبئی آ گئے۔ ممبئی میں ان کی ملاقات اس وقت کے مشہور فلمساز اے آر کاردار اور عظیم موسیقار نوشاد سے ہوئی۔نوشاد کے کہنے پر شکیل نے ‘ہم دل کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے، ہر دل میں محبت کی آگ لگا دیں گے’ گیت لکھا۔ یہ گیت نوشاد کو بہت پسند آیا جس کے بعد انہیں فوراََ کاردار صاحب کی ‘درد’ کے لیے سائن کر لیا گیا۔

سال 1947 میں اپنی پہلی ہی فلم ‘درد’ کے گیت ‘افسانہ لکھ رہی ہوں’ کی بے پناہ کامیابی سے شکیل بدایونی کامیابی کی چوٹی پر جا بیٹھے۔ اس دوران انہوں نے مختلف مشاعروں میں حصہ لیا جہاں ان کے کلام کی عزت افزائی کی تھی۔ اے آر کاردار کے اصرارپر شکیل نے مستقل طور پر بمبئی کو ہی رہائش گاہ بنالیا۔ انہوں نے 1940 میں سلمیٰ سے شادی کی جو ان کی دور کی رشتہ دار تھیں جو ان کے ساتھ بچپن سے ہی جوائنٹ فیملی میں رہتی تھیں۔

تاہم حیرت انگیز طور پر شکیل نوشاد کی شخصیت کے کچھ زیادہ قائل نظر نہیں آتے: ’وہ ظاہری طور پر ایک بےحد خشک انسان تھے، اور نہ معلوم کیوں حد سے زیادہ اپنا رعب اور دبدبہ قائم رکھنے کے کوشش کرتے تھے۔‘

نوشاد کے ساتھ مل کر شکیل نے درجنوں فلموں کے سینکڑوں لازوال گیت تخلیق کیے، جن میں دلاری، دیدار، بیجوباورا، اڑن کھٹولا، آن، مدر انڈیا، گنگا جمنا، اور مغلِ اعظم جسی فلمیں شامل ہیں۔ موسیقار اور گیت نگار کی اس جوڑی کو ہندوستانی فلمی صنعت کی مقبول ترین اور طویل ترین عرصے تک چلنے والی جوڑی کہا جائے تو بےجا نہیں ہو گا۔

ایک عرصے تک شکیل صرف نوشاد تک محدود رہے، تاہم 1960 میں انھوں نے دوسرے موسیقاروں کے لیے بھی لکھنا شروع کر دیا
میں شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ نوشاد صاحب کے ساتھ گیت لکھنے میں مجھے عزت اور مقبولیت تو بےپناہ مل رہی تھی لیکن میری مالی حیثیت میں کوئی ترقی نہیں ہو رہی تھی۔

چنانچہ انھوں نے موسیقار روی کے لیے’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو، جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو‘ لکھا جو عروضی غلطی کے باوجود نہ صرف گلی گلی بجنے لگا بلکہ 1961 میں شکیل کو اپنا پہلا فلم فیئر ایوارڈ بھی اسی پر ملا۔ اس کے بعد مسلسل اگلے دو سال انھیں ’حسن والے ترا جواب نہیں،‘ اور ’کہیں دیپ جلے کہیں دل،‘ پر فلم فیئر ایوارڈ ملے۔ حیرت انگیز طور پر انھیں نوشاد کی شراکت میں بنائے گئے کسی نغمے پر یہ اعزاز نہیں مل سکا۔

شکیل بدایونی نے نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کی دھ±نوں پر دو سو سے زائد نغمے لکھے۔ ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، شمشاد بیگم، ثریا، مہندر کپور، طلعت محمود، روی شنکر شرما، گیتا دت اور ہردئے ناتھ منگیشکر جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔
جب ایک غزل گو یا نظم گو فلمی گیت لکھتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی فلمی شاعری کو تو یاد رکھا جاتا ہے لیکن اس کا دیگر کام نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

اسی طرح شکیل بدایونی کا نام آتا ہے۔ ہمیں ان کے لازوال فلمی گیت تو یاد آ جاتے ہیں لیکن ہم ان کی دیگر شاعری شعوری یا غیر شعوری طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ شکیل بدایونی کا شمار برصغیر کے نامور گیت نگاروں میں ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ وہ ایک منجھے ہوئے غزل گو بھی تھے۔ ایسے غزل گو جنہوں نے خیال کی ندرت اور احساس کی شدت کو اپنی غزلوں میں سب سے زیادہ اہمیت دی انہوں نے غزل میں نئے امکانات اور موضوعات تلاش کئے۔

دلاری (1949)، دیدار (1951)، مدر انڈیا (1957)، چودہویں کا چاند (1960)، مغلِ اعظم ( 1960)، گنگا جمنا ( 1961) صاحب بی بی اور غلام ( 1962)، میرے محبوب ( 1963) دو بدن ( 1966) جیسی سپر ہٹ فلموں میں شکیل بدایونی کے نغموں نے دھوم مچا دی۔

شکیل بدایوں کو 1961 میں ریلیز ہوئی فلم چودھویں کا چاند کے نغمے’چودھویں کا چاند ہو یا ا?فتاب ہو’ کے لئے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد 1962 میں فلم گھرانہ کے گانے حسن والے تیرا جوا ب نہیں کے لئے پھر بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ دیا گیا۔ 1963 میں سسپینس سے بھرپور فلم بیس سال بعد کے نغمہ کہیں دیپ جلے کہیں دل کے لئے انہیں ایک مرتبہ پھر بہترین نغمہ نگار کے طور پر منتخب کیا گیا۔

شکیل کو شاعری کے علاوہ بیڈمنٹن کھیلنا بہت پسند تھا۔ وہ اپنے دوست احباب کے ساتھ جب بھی پکنک پر جاتے توہ وہ بیڈمنٹن کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی بھی کرتے تھے۔ نوشاد، محمد رفیع اور کبھی کبھار جانی واکر بھی ان کے ساتھ پتنگ بازی کے مقابلے میں حصہ لیا کرتے تھے۔

فلمی گیتوں کے علاوہ شاعری کے پانچ مجموعے غمہ فردوس، صنم و حرم، رعنائیاں، رنگینیاں، شبستاں کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی کلیات بھی ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئی تھی، تاہم 1969 میں لکھی گئی آپ بیتی 2014 میں شائع ہوئی۔

20 اپریل 1970کو یہ نادر روزگار شاعر ذیابیطس کی وجہ سے اس جہان فانی سے ممبئی میں کوچ کر گیا اور اور وہیں دفن ہوئے۔ مگر قبرستان کی انتظامیہ نے اور دوسری بہت سی مشہور شخصیات کی طرح 2010 میں ان کی قبر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Shakeel badayunis birth anniversary in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply