نغمہ نگار سمیر انجان کی 59ویں سالگرہ

ممبئی: بینک افسر کے طور پر اپنے کریئر کا آغاز کرنے کے بعد بالی ووڈ میں اپنے نغموں سے سامعین کو مسحور کرنے والے نغمہ نگار سمیر انجان  کی جمعہ کو 59ویں سالگرہ ہے،تقریباًچار دہائی سے سنیما کے شائقین کے دل پر راج کر رہے ہیں۔ مشہور شاعر اور نغمہ نگار شیتلا پانڈے عرف سمیر کی پیدائش 24 فروری 1958 کو بنارس میں ہوئی۔ ان کے والد انجان فلمی دنیا کے مشہور نغمہ نگار تھے۔ بچپن سے ہی سمیر کا رجحان اپنے والد کے پیشے کی طرف تھا ۔وہ بھی فلم انڈسٹری میں نغمہ نگار بننا چاہتے تھے لیکن ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ مختلف شعبہ میں اپنا مستقبل بنائیں۔ سمیر نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے ماسٹرز کی پڑھائی مکمل کی۔ اس کے بعد خاندان کے زور دینے پر انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور بینک افسرشروع کیا۔ بینک کی ملازمت ان کے مزاج کے مطابق نہیں تھی۔ کچھ دنوں کے بعد ان کا دل اس کام سے اچاٹ ہو گیا اور انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔ اسی دہائی میں نغمہ نگار بننے کا خواب لیے سمیر نے ممبئی کی جانب رخ کر لیا۔
تقریباً تین سال تک ممبئی میں رہنے کے بعد وہ نغمہ نگار بننے کے لیے جدوجہد کرنے لگے۔ تسلی تو سبھی دیتے رہے لیکن انہیں کام کرنے کا موقع کوئی نہیں دیتا تھا۔ انتہائی محنت کرنے کے بعد 1983 میں انہیں فلم’بے خبر‘کے لیے نغمے لکھنے کا موقع ملا۔ سال 1990 میں ہی انہیں مہیش بھٹ کی فلم ‘عاشقی’ میں بھی گیت لکھنے کا موقع ملا۔ فلم عاشقی نے ‘سانسوں کی ضرورت ہے جیسے’ ‘میں دنیا بھولا دوں گا’ اور ‘نظر کے سامنے جگر کے پاس’ نغموں کی کامیابی کے بعد سمیر کو کئی اچھی فلموں کی پیشکش ملنی شروع ہو گئی جن میں بیٹا، بول رادھا بول، ساتھی، اور پھول اور کانٹے جیسی بڑے بجٹ کی فلمیں شامل تھیں۔ سمیر نے اپنے تین دہائی کے کریئر میں تقریباً 500 ہندی فلموں کے لیے نغمے لکھے۔ ان کے فلمی سفر پر نظر ڈالنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سب سے زیادہ فلمیں موسیقار ندیم شرون اور آنندملند کےساتھ کی ہیں۔ یوں تو سمیر نے کئی اداکاروں کے لئے گیت لکھے لیکن اداکار گووندا پر فلمائے گئے ان کے گیت بہت مقبول ہوئے۔
سال 1990 میں آئی فلم’سورگ‘میں اپنے نغموں کی کامیابی کے بعد انہوں نے گووندا کے لیے کئی فلموں کے گیت لکھے۔ ان فلموں میں راجہ بابو، ہیرو نمبر ون، حسینہ مان جائے گی، ساجن چلے سسرال، بڑے میاں چھوٹے میاں، راجہ جی، جورو کا غلام، ہیرو نمبر ون، دولہے راجہ، آنٹی نمبر ون، شکاری اور بھاگم بھاگ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ سمیر کو اب تک تین بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ سب سے پہلے 1990 میں فلم عاشقی کے ‘نظر کے سامنے جگر کے پاس’ گانے کے لیے بہترین نغمہ نگار کا فلم فیئر ایوارڈ سے انہیں نوازاگیا۔
اس کے بعد 1992 میں فلم دیوانہ کے گیت’’تیری امید تیرا انتظار کرتے ہیں‘ اور 1993 میں فلم ’ہم ہیں راہی پیار‘کے گیت’گھونگھٹ کی آڑ سے دلبر کا دیدار ادھورارہتا ہے‘ کے لیے بھی انہیں بہترین نغمہ نگار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ سمیر نے اپنے تین دہائی سے بھی زیادہ طویل کریئر میں تقریباًچھ ہزار فلمی اور غیر فلمی گانے لکھے ہیں۔ انہوں نے ہندی کے علاوہ بھوج پوری ،مراٹھی فلموں کے لئے بھی گیت لکھے۔حال ہی میں سمیر کا نام سب سے زیادہ نغمات لکھنے کے لیے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی کتاب میں درج کیا گیا ہے۔ سمیر آج بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ فلمی دنیا میں چار چاند لگا رہے ہیں۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sameer anjaan birthday special in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply