دنیائے شاعری کا شہزادہ ساحر لدھیانوی کی 97ویں سالگرہ

نئی دہلی: ساحر لدھیانی کی شہرت اور عظمت ا ن کے فلمی گیتوںہی کی مرہون منت نہیں تھی بلکہ ساحر کی نظموں نے بھی ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا۔ ان کا شعری مجموعہ ” تلخیاں“ ایک ایسی کتاب تھی جس کے یکے بعد دیگرے ایڈیشن چھپتے رہتے تھے اس کی ایک نظم نے ہمارے متعفین معاشرے کو آئینہ اس طرح دکھایا تھا کہ کوئی شاعر اس سے پہلے ایسی جرات نہ کر سکا تھا اور یہ صرف ساحر کی شخصیت ہی اور وہ نظم تھی۔
عورت نے جنم دیا مردوں کو ،مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا، جب جی چاہا دھتکار دیا
یا پھر ساحر کی یہ غزل جو اس سے حالات کے عکاسی کرتی ہے
تنگ آچکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
یا پھر ہندوستان کی تاریخی عمارت ‘ تاج محل‘ کے بارے میں تنقید کی تھی اور درد بھرے دل سے کہا تھا :
اک شہنشاہ نے بنواکے حسین تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑیا ہے مذاق
جہاں ساحر لدھیانوی کی شاعری میں یاس ،نا امیدی، معاشرے کی بے رحمی، عورت کی بے توقیری کا تذکرہ کیا گیا تھا وہاں ساحر کی شاعری ، امن ، سلامتی اورمحبت کے بھر پور جذبوں کی عکاسی بھی کرتی تھی جیسے ان کی ایک نظم تھی:
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز آنکھوں سے
چلو ایک بار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالی ووڈ انڈسٹری میں جانے سے پہلے ساحر کی شاعری کے چرچے فلمی دنیا میں ہونے لگے تھے ۔ ساحر نے بالی ووڈ میں قدم رکھنے کے بعد سب سے پہلے جس فلم کے لئے گیت لکھنے کا آغاز کیا وہ فلم تھی “ آزادی کی راہ پر “ اس فلم کی کہانی ہندوستان کی آزادی سے متعلق تھی یہ فلم 1949میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم میں ساحر نے کئی گیت لکھے تھے اور پہلا جو گیت لکھا تھا اس کے بول تھے ۔
بدل رہی ہے زندگی
یہ اجڑی بستیاں
یہ لوٹ کی نشانیاں
یہ ظلم کی کہانیاں
اب ان دکھوں کی راہ سے
نکل رہی ہے زندگی
بدل رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔:فلم آزادی سے ساحر لدھیانی بطور فلمی نگار فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے تھے۔ ساحر کی دوسری فلم تھی ”نوجوان‘ جس میں پہلی بار مدھر دھنوں کے خالق ایس ڈی برمن کی ساحر سے ملاقات ہوئی اورفلم نوجوان کے لئے جو پہلا گیت لکھا تھا ا سکے بول تھے: ٹھنڈی ہوائیں لہراکے آئیں۔۔۔ رت ہے جو اں تم ہو یہاں :اس گیت کو بڑی شہرت حاصل ہوئی تھی۔
1957میں ریلیز ہوئی فلم ’ پیاسا‘ جو شاعر کی زندگی پر مبنی تھی اور بہت ہی متاثرکن کہانی تھی۔ اس فلم میں بھی ساحر لدھیانوی اور موسیقار ایس ڈی برمن کی جوڑی نے بڑے لاجواب گیتوں کو جنم دیا تھا۔ فلم شاعر کا کردار گرودت نے کیا تھا اور ا سکے ساتھ وحیدہ رحمان اور مالانسیا نے مرکزی کردار ادا کئے تھے۔ اس فلم کے گیتوں نے ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں ساحر لدھیانی کے گیتوں کی دھوم مچی تھی ا س فلم میں ساحر کی ایک نظم نے فلم بینوں کے دل ہلا دئے تھے۔
یہ محلوں ،یہ تختوں ، یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
اس نظم کے لفظ دلوں پر ہتھوڑے کی طرح لگتا تھا اور دنیا کی بے رحمی اور کجروی کا احساس دلاتا تھا۔ ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921کو منقسم ہندوستان کے پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ 25اکتوبر 1980کو 59سال کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

Title: remembering sahir ludhianvi | In Category: انٹرٹینمنٹ  ( entertainment )

Leave a Reply