عظیم گلوکارمحمد رفیع کی آواز آج بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے

 ہندی سنیما کی تاریخ میں جب بھی نغموں کا ذکر ہوتا ہے تو اس میں محمد رفیع کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے ۔ عظیم گلوکارمحمد رفیع ان ہستیوں میں سے ہیں اور وہ مقام عطا کیا ہے جن کو کبھی بھلا یا نہیں جا سکتا ہے ۔ لاکھ کوششوں کے بعد بھی ہم انہیں بھلانہیں پاتے۔

گلوکار محمد رفیع دل کا دورہ پڑنے سے 31جولائی 1980کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ رفیع صاحب کے انتقال کے بعد مشہور و معروف نغمہ نگار نوشاد نے لکھا ” گونجتی ہیں تیری آواز امیروں کے محل میں، غریبوں کی جھویپڑیوں میں بھی ہے تیرے ساز۔ یو ں تو اپنی موسیقی پر سب کو فخر ہوتا ہے مگر اے میرے ساتھی موسیقی کو بھی آج تجھ پر ناز ہے۔

رفیع صاحب کے گزر جانے کے 38سال بعد بھی لوگ انہیں بھلا نہیں سکے ہیں۔ مشہورموسیقار آنجہانی رویندرجین نے رفیع صاحب کوخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کچھ اس طرح سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا

پیشانی پہ شمس آنکھوں میں تاروں کی ضیاء تھی
وہ کیسے بجھا جس کو زمانے کی دعا تھی؟
ناخوش ہے خدا اپنے فرشتوں سے
نہیں تو دھرتی کہ فرشتے کی اسے ضروت کیا تھی
حاجی تھا نمازی تھا بڑا نیک تھا بندہ
کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اس کی خطا تھی
نغمے تو ترے پھر بھی سنے جائیں گے لیکن
کچھ تیری ضرورت ہمیں اس کے سوا تھی
اب تک ہے زمانے پہ جس آواز کا جادو
اس کے میرے نغمات پہ اپکار بڑے تھے
کہنا رفیع صاحب کے لیے کچھ ہے بڑا مشکل
انسان بڑے تھے یا گلوکار بڑے تھے

آواز کی دنیا جو اب ایک تجارت بن چکی ہے جہاں ایسے گیت بنتے ہیں جن میں کوئی شاعری نہیں ہوتی اور دھنیں بے طرز اور گانے والے بارش کے کیڑوں کی طرح’ ایسے ماحول میں رفیع صاحب کے نغمے اپنے پر کشش رنگوں سے دل کو باغ باغ کرجاتے ہیں۔ رفیع صاحب کا ہر گیت اپنے انداز میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ہرنغمہ کو وہ اپنی زندگی کاسب سے اہم نغمہ سمجھ کر بڑی عقیدت سے گاتے تھے۔

رفیع صاحب نے کبھی اپنی آواز کا سودا نہیں کیا۔ اپنی آواز کو پرودگا ر کی رحمت سمجھ کر بغیر کسی بھیدبھاؤ کے سب میں بانٹتے رہے۔ اپنے آواز سے اداکاری کرنے والے وہ واحدگلوکارتھے جو ہر موسیقار کی پہلی پسند تھے اورجنہوں نے کئی موسیقاروں کے لئے مفت بھی گیت گائے ہیں۔

رفیع صاحب گلوکار تو تھے ہی بہت بڑے لیکن انسان بہت بڑے تھے۔ بہت سیدھے سادے۔ ان کو کچھ پتہ نہیں تھا دنیا کو۔کسی کے لئے ان کے دل میں کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ بہت عاجز اور بہت نرم طبیعت کے انسان تھے۔ غرور و تکبر سے بالاتر۔

مشہور و معروف گلوکارمہیندر کپور جو رفیع صاحب کو اپنا استاد مانتے تھے اپنے ایک انٹر ویو میں بتایا تھا کہ کس طرح رفیع صاحب ان سے اپنے خیالات کا اظہار کیاکرتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ انسان کا کیرکٹراچھا ہونا چاہئے۔رفیع صاحب اپنی ہر کامیابی پر خالق کائنات کا شکر بجالاتے تھے۔ خالق کی تخلیقات کو سراہتے ہوئے سر بہ سجدہ ہوجاتے تھے۔

انہوں نے مہیندر کپور سے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ فلمی دنیامیں اور بھی اچھے فنکار ہیں۔پتہ نہیں خدا ان پر اتنا مہربان کیوں ہے۔اپنے فن سے بے پناہ محبت اور عقیدت نے رفیع صاحب کووہ مقام عطا کیا ہے جہاں تک کسی دوسرے فنکار کی رسائی ناممکن لگتی ہے۔رفیع صاحب کی میراث ان کی سحر انگیز طرز گائیکی تھی جو اپنے ساتھ لے گئے ہمارے لئے چھوڑ گئے ہزاروں گیتوں کا بیش قیمتی خزانہ جوہماری ملکیت ہے اور جسے ہمیں سنبھالے رکھنا ہے۔

رفیع صاحب کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب مزید کچھ لکھنے کی گنجائش باقی نہیں البتہ ان کی شخصیت سے جڑے واقعات پرجتنا بھی لکھا جائے وہ کم ہے۔جگرمراد آبادی نے کیاخوب کہا ہے

گھٹے اگر تو بس اک مشتِ خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعتِ کونین میں سما نہ سکے۔

(اردو تہذ یب)

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Remembering mohammed rafi on his 38th death anniversary in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply