معروف نغمہ نگار آنند بخشی کو 87ویں سالگرہ پر فلمی دنیا کا خراج عقیدت

ممبئی: اپنے سدا بہار گیتوں سے سامعین کو دیوانہ بنانے والے بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگارآنند بخشی نے ، جن کی آج(جمعہ) 87ویں سالگرہ ہے،تقریبا ًچار عشرے تک سامعین کواپنا دیوانہ بنائے رکھا لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہ نغمہ نگار نہیں بلکہ گلوکار بننا چاہتے تھے۔ پاکستان کے راولپنڈی شہر میں 21 جولائی 1930 کو پیدا ہوئے آنند بخشی کو ان کے رشتہ دار پیار سے نند یا نندو کہہ کر پکارتے تھے۔بخشی ان کے خاندان کا لقب تھا جبکہ ان کے اہل خانہ نے ان کا نام آنند پرکاش رکھا تھا۔لیکن فلمی دنیا میں آنے کے بعد سے آنند بخشی کے نام سے ان کی پہچان بنی۔ آنند بخشی بچپن سے ہی فلموں میں کام کرکے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کا خواب دیکھا کرتے تھے لیکن لوگوں کے مذاق اڑانے کے خوف سے انہوں نے اپنی یہ منشا کبھی ظاہر نہیں کی تھی۔وہ فلمی دنیا میں گلوکار کے طور پر اپنی شناخت بنانا چاہتے تھے۔
آنند بخشی اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے 14 سال کی عمر میں ہی گھر سے بھاگ کر فلم نگری ممبئی آ گئے جہاں انہوں نے رائل انڈین نیوی میں کیڈٹ کے طور پر دو سال تک کام کیا۔کسی تنازعہ کی وجہ سے انہیں وہ نوکری چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد 1947 سے 1956 تک انہوں نے ہندوستانی فوج میں بھی ملازمت کی۔ بچپن سے ہی مضبوط ارادے والے آنند بخشی اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے نئے جوش کے ساتھ دوبارہ ممبئی پہنچے جہاں ان کی ملاقات اس زمانے کے مشہور اداکار بھگوان دادا سے ہوئی۔ شاید قسمت کو یہی منظور تھا کہ وہ نغمہ نگار ہی بنیں۔ بھگوان دادانے انہیں اپنی فلم”بھلا آدمی“ میں نغمہ نگار کے طور پر کام کرنے کا موقع دیا۔ اس فلم کے ذریعے وہ اپنی شناخت بنانے میں بھلے ہی کامیاب نہیں ہو پائے لیکن ایک نغمہ نگار کے طور پر ان فلمی کیریئر کا سفر شروع ہو گیا۔ آنند بخشی تقریبا ًسات برسوں تک فلم انڈسٹری میں جدوجہد کرتے رہے۔ 1965 میں فلم ” جب جب پھول کھلے“ ریلیز ہوئی تو ان کے نغمے”پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا ، یہ سماں سماں ہے یہ پیار کا، ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل“ سپر ہٹ رہے اور نغمہ نگار کے طور پر ان کی شناخت بن گئی۔ اسی سال فلم ”ہمالیہ کی گود میں“ان کا نغمہ ”چاند سی محبوبہ ہو میری کب ایسا میں نے سوچا تھا “ کو بھی شائقین نے بہت پسند کیا۔
سال 1967 میں ریلیز سنیل دت اور نوتن کی فلم ”ملن“کے نغمہ ”ساون کا مہینہ پون کرے شور، یگ یگ تک ہم گیت ملن کے گاتے رہیں گے، رام کرے ایسا ہو جائے“ جیسے سدابہارنغموں کے ذریعے انہوں نے نغمہ نگار کے طور پر نئی بلندیوں کو چھو لیا۔ سپرا سٹار راجیش کھنہ کے کیریئر کو بلندیوں تک پہنچانے میں آنندبخشی کے نغموں کا اہم تعاون رہاہے۔ راجیش کھنہ کی فلم ”آرادھنا“ میں لکھے نغمے ”میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو“کے ذریعے راجیش کھنہ تو سپرا سٹار بنے ہی، ساتھ میں کشور کمار کو بھی وہ مقام حاصل ہو گیا جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی۔ آرادھنا کی کامیابی کے بعد آر ڈی برمن، آنندبخشی کے پسندیدہ موسیقار بن گئے۔ اس کے بعد اس جوڑی نے ایک سے بڑھ کر ایک موسیقی سے لبریز نغموں سے سامعین کو مسحور کر دیا۔ آنند بخشی کو ان کے اپنے نغموں کے لئے تقریباً 40 بار فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن چار مرتبہ ہی وہ اس ایوارڈ سے نوازے گئے۔
انہوں نے اپنے فلمی کیریئر میں دو نسل کے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ہے جن ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن، چترگپت، آنند ملند، کلیان جی۔آنند جی، ویجو شاہ، روشن اور راجیش روشن جیسے موسیقار شامل ہیں۔ فلم انڈسٹری میں بطور نغمہ نگارجگہ بنانے کے بعد بھی گلوکار بننے کی آنند بخشی کی حسرت ہمیشہ بنی رہی۔ انہوں نے 70کے عشرے میں آئی فلم موم کی گڑیا میں ”میں ڈھونڈ رہا تھا سپنوں میں“ اور ”باغوں میں بہار آئی“جیسے دو نغمے گائے، جو کافی مقبول بھی ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی فلم ”چرس” کا گیت ”آجا تیری یاد آئی“ کی چند لائنوں میں اور کچھ دیگر فلموں میں بھی انہوں نے اپنی آواز دی ہے۔ تقریباً چار دہائی تک فلمی نغموں کے بے تاج بادشاہ آنند بخشی نے 550 سے بھی زائد فلموں میں تقریباً 4000 گیت لکھے۔ اپنے نغموں سے تقریبا چار دہائی تک سامعین کو مسحور کرنے والے نغمہ نگار آنند بخشی 30 مارچ 2002 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Remembering anand bakshi on his birthday in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply