کھئی کے پان بنارس والا”انجان“آج بھی بہت یاد آتا ہے

ممبئی:تقریبا تین دہائیوں سے اپنے نغموں سے ہندی فلم دنیا کو شرابور کرنے والے نغمہ نگار انجان کی رومانی نظمیں آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ 28 اکتوبر1929 کو بنارس میں پیدا ہوئے انجان کو بچپن سے ہی شعروشاعری میں گہری دلچسپی تھی۔
وہ اس شوق کو پورا کرنے کےکیلئے بنارس میں منعقد تمام مشاعر وں اور شعری نشستوں کے پروگرام میں حصہ لیا کرتے تھے۔ اگرچہ مشاعروں کے پروگرام میں بھی وہ اردو کا استعمال کم ہی کیا کرتے تھے۔ ایک طرف جہاں ہندی فلموں میں اردو کا استعمال ایک جنون کی طرح کیا جاتا تھا وہی انجان اپنے نغموںمیں ہندی پر زیادہ زوردیا کرتے تھے۔
نغمہ نگار کی حیثیت سے انہوں نے اپنے کیریئر کے آغاز سال 1953 میں اداکار پریم ناتھ کی فلم ’گولکنڈا کے قیدی ‘سے کی۔ اس فلم کے لیے سب سے پہلے انہوں نے’ لہر یہ ڈولے کوئل بولے اور ‘شہیدوں امر ہے تمہاری کہانی ‘نغمہ لکھا لیکن اس فلم کے ذریعے وہ کچھ خاص شناخت نہیں بنا پائے۔ لیکن ڈان کے گانے”کھئی کے پان بنارس والا“سے انہوں نے خوب نام کمایا۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Remembering an anjaan lyricist in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News
Tags:

Leave a Reply