برصغیر کے معروف شاعرندا فاضلی کی80ویں سالگرہ پر خصوصی تحریر

محمد تقی

12اکتوبر1938 کودہلی میںمرتضٰی حسن کے گھر، جن کا تخلص دعا تھا، تولد ہونے والے اردو کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار ندافاضلی کا جھولے کا نام مقتدیٰ حسن تھا۔ ان کے والد رمعروف شاعر نوح ناروی کے شاگرد تھے۔ادبی حلقوں میں نوح ناروی داغ دہلوی کے جانشین کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ندافاضلی کا آبائی وطن فاضلہ (جموں وکشمیر) تھا۔ لیکن ان کاخاندان کئی سالوںسے گوالیار آکربس گیاتھا۔ ندا فاضلی کا 8فروری 2016کو ممبئی میں انتقال اردو زبان وادب کا یقینا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

1947میں ملک کی تقسیم کے بعد سیاست کے ٹھیکیداروں نے منظم طور پر ہندوستان کی پرامن فضا میں فرقہ پرستی کا زہر گھول دیاتھا۔چنانچہ سارے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کاسلسلہ چل پڑاتھا۔1964-65 کے دور میں فسادات نے ملک کے کئی شہروں اورقصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔ گوالیار بھی بھیانک فسادات کی زد میں رہاتھا۔ ہولناک ہندو۔ مسلم فسادات سے دہشت زدہ اور خوف زدہ ہوکر ندافاضلی کے والدین نے پاکستان ہجرت کافیصلہ کیاتھا اور انھوں نے ہجرت کر بھی لی تھی لیکن ندا نے بھارت میں ہی رہنا پسند کیاتھا۔ اس وقت ندا گوالیار کے وکٹوریہ کالج میں ایم۔اے(اردو) سال آخر کے طالب علم تھے۔ انھوں نے ایم۔اے کرنے کے بعد تلاش روزگار میں دردر کی خاک چھانی ‘کبھی کلکتہ کاسفر کیاتو کبھی راجستھان اور دہلی میں پڑاؤ ڈالا۔بقول ندا وہ روٹیوں کی تلاش میں بالآخر ممبئی پہونچے اوراپنی آخری سانس تک یہیں رہے۔ ممبئی کی مصروف ترین برق رفتار زندگی نے ندا کی شاعری کو ایک نیا موڑ اور لہجہ دیا۔

کہاں ہرایک کو آتی ہے راس بربادی
نئے سفر کی مسافت ذہانتیں مانگے
ہراک سفر کو ہے محفوظ راستوں کی تلاش
حفاظتوں کی روایت بدل سکو توچلو
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہاہوگا
میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے
وقت بدلا تو رائے بدل جائے گی

ندا روٹیوں کےلئے ممبئی کے اپنے دور کے مشہور ہفتہ وار اخبار” بلٹز“(اردو) اور دھرم یگ(ہندی) میں کالم لکھتے اور جب رات کے اندھیرے گہرے ہونے لگتے تو وہ انہی اخبارات کے دفاتر کے کسی کونے میںچادر بچھاکر سوجاتے۔ ممبئی میں ابتدا میں انھوںنے بڑی کسمپرسی میںزندگی گزاری۔ لیکن ان کی قسمت کا تارہ اس وقت چمک اٹھا جب کمال امروہی نے انھیں ان کی ادھوری فلم” رضیہ سلطان“ کےلئے نغمے لکھنے کا موقع دیا۔ فلمی دنیا کے سفر کے بارے میں ندا نے فلمی رسالے فلم فیئر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فلم رضیہ سلطان کے خالق کمال امروہی کو فلم کے اصل نغمہ نگار جانثار اختر کے اچانک انتقال کے بعد ایک شاعر کی ضرورت تھی، چنانچہ انھوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور میں نے فلم کے لیے دو گیت لکھے۔ اس فلم کو بننے میں تو بہت دیر لگی لیکن اس دوران مجھے دوسری فلموں میں کام ملنا شروع ہو گیا۔ندا فاضلی نے ’رضیہ سلطان،‘ کے علاوہ ’سرفروش،‘ ’اس رات کی صبح نہیں،‘ ’آپ ایسے تو نہ تھے،‘ اور ’گڑیا‘ کے گیت لکھے جنھوں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ 2003 میں انھیں فلم ’س±ر‘ کے لیے سٹار سکرین ایوارڈ کے بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ ملا۔فلم ’آپ ایسے تو نہ تھے‘ کے لئے ان کا لکھا ہوا اور محمد رفیع کا گایا ہوا نغمہ ’تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہے‘ آج بھی بہت مقبول ہے۔ندا فاضلی انسان دوست شاعر تھے اور اس سلسلے میں وہ سماج کی جانب سے عائد پابندیوں، خاص طور پر مذہبی قید و بند پر تنقید کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا شعر ہے:

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

یہ شعر بےحد مشہور ہوا تھا اور مشاعروں میں فرمائش کر کے ان سے سنا جاتا تھا۔ اسی موضوع پر ان کا قطعہ ہے:

گھاس پر کھیلتا ہے اک بچّہ
پاس ماں بیٹھی مسکراتی ہے
مجھ کو حیرت ہے جانے کیوں دنیا
کعبہ و سومنات جاتی ہے

ندا فاضلی کو اپنے احساسات‘جذبات او رخیالات کوروزمرہ بولی جانی والی سیدھی سادی زبان میں بیان کرنے پر قدرت حاصل تھی۔ لیکن 1980 کی دہائی میں ادب میں ابھرنے والی علامت نگاری کی غیر منظم تحریک سے وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس ضمن میں ان کا ایک شعر اس زمانے میں خاصا بدنام ہوا تھا:

سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی

ان کے فلمی نغموں ‘دوہوں اور غزلوں کو مشہور گلوکار جگجیت سنگھ‘بھوپیئندر اور طلعت عزیز نے گایاتھا۔ انھیں بھارتی حکومت نے 1993میں پدم شری کے ایوارڈسے نوازاگیا۔ان ایوارڈ کے علاوہ دیگر سرکاری اور ادبی اداروں کی جانب سے انھیں غالب ایوارڈ‘ میری تقی میر ایوارڈ ‘ساہتیہ اکادیمی ایوارڈ ایم بی شاسن ساہتیہ پریشد پرسکار اور جئے دیال ہارمونی ایوارڈعطا کئے گئے تھے۔ ان کے اردو میں چھ شعری مجموعے لفظوں کے پھول ‘ مورناچ‘آنکھ اور خواب کے درمیان‘لفظوں کا پل‘ شہرتو میرے ساتھ چل ‘ کھویا ہو اساکچھ‘شائع ہوکر ادبی حلقوں میں بے حد دادوتحسین حاصل کرچکے ہیں۔ہند ی زبان میںشائع ہونے والے ان کے شعری مجموعو ں میں آنکھوں بھرا آکاش‘ کھویا ہواسا کچھ‘ سفر میںدھوپ تو ہوگی اور ہم قدم شامل ہیں۔

ندا فاضلی کی نثری تصانیف میں دو ناول ‘دیواروں کے بیچ ‘دیواروں کے باہر کے علاوہ ایک تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”ملاقاتیں“ بھی ہیں۔ ان تینوں تصانیف کو ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے وکر م یونیورسٹی اجین سے اردو اور ہندی میں ایم۔اے۔ کیا۔ جب ایم اے کے طالب علم تھے تو انھیں اپنی ایک حسین و جمیل کلاس فیلومس ٹنڈن سے والہانہ عشق ہوگیاتھا۔جب وہ ایم۔اے۔ سال آخر کے طالب علم تھے توان کے کالج کے نوٹس بورڈ پر ایک خبر غم چسپاں کی گئی تھی یہ خبر غم ان کی اس کلا س فیلو کے تعلق سے تھی جس کا ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہوگیاتھا۔ اپنی معشوقہ کے اچانک انتقال سے ندافاضلی کافی دنوں تک مغموم رہے۔ اس واقعہ نے ان کی شاعری کو بھی متاثر کیا۔ ندا نے اردو منزل ٹی وی چینل کودئےے اپنے انٹرویو میں زندگی کے تعلق سے بہت پیارا جملہ کہاتھا کہ”زندگی جدوجہد کا نام “ انھوں نے گوالیار سے ممبئی ہجرت کو ایک حادثہ قراردیتے ہوئے کہاتھا کہ زمین تبدیل ہوجانے سے مسائل تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ آدمی جہاں جاتا ہے مسائل بھی اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ ان مسائل کو فیس کرکے انھیںشکست دینا ہی زندگی کا اصل لطف ہے۔ انھوں نے اپنے والدین کے پاکستان منتقل ہوجانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ یہ والدین کا فیصلہ تھا لیکن میں نے ہندوستان میں ہی رہنا پسند کیاتھا۔ اور میں اس فیصلے پرقطعی شرمندہ نہیں ہوں۔ ہندوستان ایک خوبصورت ملک ہے۔ اور یہ مجھے بے حد عزیز ہے۔ندا نے ملک کی انتخابی سیاست پرچوٹ کرتے ہوئے کہاتھا کہ سیاست داں ‘ اپناووٹ بینک مضبوط کرنے ہر طرح کی ترکیبیں استعمال کرتے ہیں اور ان ترکیبوں کے دوران انھیں جب بھی موقع ملتا ہے آدمی کو آدمی سے مذہب کے نام پر لڑادیتے ہیں۔

ندا کی شاعری اپنی مٹی اور اپنے معاشرے سے جڑی شاعری ہے۔ ان کے شعروں میں نہ تو کسی نظریہ حیات کی تبلیغ ملتی ہے اور نہ ہی تشہیر۔ انھوں نے زندگی کی کڑوی اورمیٹھی سچائیوں کو بڑی دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ اپنے شعروں میںڈھالا ہے۔نئی لفظیات اور مانوس علامتوں کے توسط سے اپنی بات جو سارے انسانوں کے دل کی بات ہوا کرتی ہے کو بہت ہی سادہ الفاظ میں پیش کیا ہے۔اسی لئے ان کے شعر دل کے تاروں کو نہ صرف چھوتے ہیں بلکہ پڑھنے والے پرایک خوشگوارتاثر بھی چھوڑ جاتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ہے مٹی کاسفر صدیوں سے
کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
دیوار و در سے اترکر پرچھائیاں بولتی ہیں
کوئی نہیں بولتا ہے جب تنہائیاں بولتی ہیں
مندروں میں بھجن ‘مسجدوں میں اذاں ‘آدمی ہے کہاں
آدمی کے لئے ایک تازہ غزل‘جو ہوا سو ہوا

ندافاضلی نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک کے عالمی مشاعروں میںشرکت کی تھی۔جدیدیت کے ایک نمائندہ شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں اپنا لوہا منوانے کےلئے اس شاعر کے کلام کا کئی عالمی زبانوں میںترجمہ ہوا ہے۔انھوں نے امریکہ‘اٹلی ‘ کینڈا‘ آسٹریلیا‘برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی ادب کے معتبرو محترم شاعروادیب کی حیثیت سے نمائندگی کی۔
ان کے پسماندگان میں انکی بیوی مالتی جوشی اورایک بیٹی تحریر ہیں۔آج ان کے انتقال پرادبی دنیا کے ساتھ ہی ہندوستانی فلمی دنیا بھی سکتے کے عالم میں ہے۔ خدا وندِ قدوس انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پسماندگان کو صبر وتحمل دے۔ (آمین)

لفظوں میں سانس لیتے ہیں مرتے نہیں کبھی
اہلِ سخن جہاں سے گزرتے نہیں کبھی

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Nida fazli the last of the great urdu poets in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply