دنیا سے رخصت ہوئے37برس گذرجانے کے باوجود گلوکار محمد رفیع کے مداحوں میں کمی واقع نہیں ہوئی

ممبئی:ہندی فلموں کے مشہور ومعروف گلوکار محمدرفیع کو ا،جن کی آج 37ویں برسی ہے،س دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً 37 برس بیت چکے ہیں، لیکن ان کے مداح اور شائقین کی تعداد میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔محمدرفیع کو یہ خداداد صلاحیت حاصل تھی کہ انہوں نے ہر موقع کے نغمے گائے، لیکن جذباتی، دکھ بھرے اور بھجن ومذہبی گیتوں کو آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔بلکہ ان کے بھجن ہندؤوں کے تہواروں پر بجائے جاتے ہیں۔ یہ عام خیال ہے کہ وقت کی گرد میں ہرستارہ اپنی چمک کھودیتا ہے،لیکن محمد رفیع کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا ۔ تقریباً چار عشروںکے بعد بھی ان کے مداحوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور ہندوستان اور برصغیرہی نہیں دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی انہیں احترام سے یاد کیا جاتا ہے بلکہ سنا جاتا ہے۔ ان کے مداح ہندوستان و پاکستان میں ہی نہیں سعودی عرب میں بھی موجود ہیں۔امان اللہ خان نظامی کئی عشروں سے سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم ہیں، حالانکہ ان کاتعلق افغانستان سے ہے، مگر ممبئی کی فلم انڈسٹری کے وہ دیوانے ہیں۔انہیں فلموں کاانسکلوپیڈیا کہاجائے تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔1940سے حال تک انہیں فلم کانام بتایا جائے اور وہ پوری تفصیل آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔ وہ محمد رفیع کے تو عاشق ہیں۔ آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع کو گلوکاری کی تحریک ایک فقیر سے ملی تھی۔
پنجاب کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں 24دسمبر 1924 کو ایک متوسط مسلم خاندان میں پیدا ہوئے محمد رفیع ایک فقیر کے نغموں کو سنا کرتے تھے،جس سے ان کے دل میں موسیقی کے تئیں ایک لگاؤ پیدا ہوگیا۔رفیع کے بڑے بھائی حمید نے محمد رفیع کے دل میں موسیقی کے تئیںرجحان دیکھ لیاتھا اور انہیں اس راہ پر آگے بڑھنے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ لاہور میں رفیع موسیقی کی تعلیم استاد عبدالواحد خان سے لینے لگے اور ساتھ ہی انہوں نے غلام علی خان سے کلاسیکی موسیقی بھی سیکھنا شروع کیا۔ایک بار حمید رفیع کو لے کر کے ایل سہگل کے موسیقی پروگرام میں گئے،لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کے ایل سہگل نے گانے سے انکار کردیا۔ حمید نے پروگرام کے کنوینر سے گزارش کی کہ وہ ان کے بھائی کو پروگرام میں گانے کا موقع دیں۔کنوینر کے راضی ہونے پر رفیع نے پہلی بار 13سال کی عمر میں اپنا پہلا نغمہ اسٹیج پر پیش کیا۔شائقین کے درمیان بیٹھے موسیقار شیام سندر کو ان کا گانااچھا لگا اور انہوں نے رفیع کو ممبئی آنے کی دعوت دی۔ شیام سندر کی موسیقی کی ہدایت میں رفیع نے اپنا پہلا گانا ’سونیے نی ہیریے نی‘ ،زینت بیگم کے ساتھ ایک پنجابی فلم ’گل بلوچ‘کے لیے گایا۔
سال 1944 میں نوشاد کی موسیقی میں انہوں نے اپنا پہلا ہندی گانا ’ہندوستان کے ہم ہیں‘فلم ’پہلے آپ‘ کے لیے گایا۔ سال 1949 میں نوشاد کی موسیقی کی ہدایت میں فلم دلاری میں گائے گانے سہان?ی رات ڈھل چکی کے ذریعے ان پر کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ دلیپ کمار، دیو آنند، شمی کپور، راجندر کمار، ششی کپور، راجکمارجیسے نامور ہیرو کی آواز کہے جانے والے رفیع نے اپنے طویل کریئر میں تقریباً 700 فلموں کے لیے 26000 سے بھی زیادہ گانے گائے۔ محمد رفیع فلم انڈسٹری میں اپنی خوش مزاجی کےلئے جانے جاتے تھے، لیکن ایک بار ان کی مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کے ساتھ ان بن ہو گئی۔انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ سینکڑوں گانے گائے تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب رفیع نے ان سے بات تک کرنا بند کر دی تھی۔ لتا منگیشکر گانوں پر رایلٹی کی حامی تھیں جبکہ رفیع نے کبھی بھی رایلٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔ رفیع صاحب کا خیال تھا کہ ایک بار جب فلم سازوں نے گانے کے پیسے دے دیئے تو پھر رایلٹی کا کوئی مطلب نہیں۔دونو ں کے درمیان تنازعہ اتنا بڑھا کہ محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان بات چیت بھی بند ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ گانا گانے سے انکار کر دیا، تاہم چار سال کے بعد اداکارہ نرگس کی کوشش سے دونوں نے ایک ساتھ ایک پروگرام میں دل پکارے گانا گایا۔ محمد رفیع نے ہندی فلموں کے علاوہ مراٹھی اور تیلگو فلموں کے لئے بھی گانے گائے۔
محمد رفیع کو اپنے کریئر میں چھ بار فلم فیئر ایوارڈ سے اور 1965 میں پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔ رفیع صاحب اداکار امیتابھ بچن کے بہت بڑے پرستار تھے۔جبکہ انہیں فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں تھا لیکن کبھی کبھی وہ فلم دیکھ لیا کرتے تھے۔ایک بار انہوں نے امیتابھ بچن کی فلم دیوار دیکھی تھی۔اس کے بعد ہی وہ امیتابھ کے بہت بڑے پرستار بن گئے۔ سال 1980 میں آئی فلم نصیب میں رفیع صاحب کو امیتابھ کے ساتھ ”چل چل میرے بھائی“گانا گانے کا موقع ملا،امیتابھ کے ساتھ اس گانے کو گانے کے بعد وہ بہت خوش ہوئے تھے۔امیتابھ کے علاوہ انہیں شمی کپور اور دھرمیندر کی فلمیں بھی بہت پسند آتی تھیں۔انہیں امیتابھ۔دھرمیندر کی فلم شعلے بہت بے حد پسند تھی اور انہوں نے اسے تین بار دیکھا تھا۔ 30 جولائی 1980 کوفلم ’آس پاس‘کے گانے ”شام کیوں اداس ہے دوست“ مکمل کرنے کے بعد جب رفیع نے لکشمی کانت پیارے لال سے کہا ’کیا میں جا سکتا ہوں؟‘ جسے سن کر وہ حیران ہوگئے، کیونکہ اس سے پہلے رفیع نے ان سے کبھی اس طرح اجازت نہیں مانگی تھی۔اگلے دن 31 جولائی 1980 کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

Title: mohd rafi remembered on 37th death anniversary | In Category: انٹرٹینمنٹ  ( entertainment )

Leave a Reply