مجروح سلطان پوری اپنی شاعری کو معاشرے میں پھیلی منافقت کا ردّعمل کہتے تھے

نئی دہلی: ”اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول“ جیسے گانوں کے خالق مجروح سلطان پوری کا ،جن کی آج 24مئی کو18واں یوم وفات ہے، اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔ وہ اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد سب انسپکٹر تھے۔ مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھا پھر عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور سات سال کا کورس پورا کیا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم بنے، جس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔

مجروح اردو غزل کے منفرد شاعر تھے۔ ان کا شمار ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے۔ جگر مرادآبادی کو مجروح اپنا استاد مانتے تھے۔ مجروح نے اپنا پہلا فلمی گیت ’غم دئے مستقل۔۔۔‘ 1945میں فلم شاہجہاں کے لیے تحریر کیا تھا۔ اسی نغمے نے مجروح کو فلمی نغمہ نگاروں کی پہلی صف میں لا کھڑا کیا۔ پھر مجروح کا یہ فلمی سفر پانچ دہائیوں تک چلتا رہا۔ البتہ مجروح کو یہ پسند نہیں تھا کہ ان کی شاعری کو فلم یا فلمی دنیا کے حوالے سے جانا جائے۔ وہ اپنی شاعری کو معاشرے میں پھیلی منافقت کا ردّعمل باور کرتے تھے۔

فلمی دنیا کی مقبول نغمہ نگاری اور اردو شاعری کی لازوال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مجروح کو ہندوستان کے دو عظیم فنی ایوارڈوں ”اقبال سمّان ایوارڈ“ اور ”دادا صاحب پھالکے ایوارڈ“سے نوازا گیا۔

بعض ناقدین کے بقول مجروح ادبی شاعری پر توجہ دینے کے بجائے فلمی دنیا کی نذر ہوگئے۔ ان کا فلمی گیت لکھنے کا اپنا ایک خاص انداز تھا فلمی گیتوں میں بھی مجروح نے ادبی تقاضوں کو برقرار رکھا۔ ان کے فلمی نغموں کی مقبولیت آج بھی اسی طرح ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے فلم شاہ جہاں کے گیت لکھے جن کی ہر طرف دھوم مچ گئی ان کا یہ گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے:
کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا۔۔۔ ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ

مجروح کا گیت:جب دل ہی ٹوٹ گیا۔۔۔۔بے حد مقبول ہوا۔ اس گیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کے۔ ایل۔ سہگل کے جنازے کے ساتھ بجایا گیا۔
ان کے فلمی گیتوں میں خیالات کی نازکی سے بخوبی اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیق کار کے قلم سے وجود میں آئے ہیں جوغزلیہ شاعری کا گہرا ادراک رکھتا ہے اور جس نے تمام رموز سامنے رکھ کر اپنے تجربات اشعار کے قالب میں ڈھالے ہیں۔

مجروح نے پچاس سال فلمی دنیا کو دیئے۔ انھوں نے300 سے بھی زائد فلموں میں ہزاروں گیت لکھے۔ ان کے سینکڑوں نغمے آج بھی ان کے شیدائیوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔

اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول۔۔۔ ہمیں تم سے پیار کتنا۔۔۔ ان کے چند مشہور گیتوں میں سے ہیں۔اردو غزل کا یہ البیلا شاعر 24 مئی 2000 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Majrooh sultanpuris 18th death anniversary in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply