جب کیفی اعظمی نے کہا تھااماّں دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا

مشہور شاعر اور گیت کار کیفی اعظمی کی شعر وشاعری کی صلاحیت ان کے بچن کے دنوں سے ہی دکھائی دینے لگی تھی۔ ریاست اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے مزواں گاو¿ں میں پیدا ہوئے سید اطہر حسین رضوی عرف کیفی اعظمی کوان کے والد انہیں اعلیٰ تعلیم دینا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوںنے ان کا داخلہ لکھنو¿ کے مشہور مدرسہ ’ سلطان المدارس‘ میں کرایا تھا۔ کیفی اعظمی کے اندر کا شاعر بچپن سے زندہ تھا۔ صرف 11سال کی عمر سے ہی کیفی اعظمی نے مشاعرہ میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں انہیں کافی داد بھی ملا کرتی تھی لیکن بہت سے لوگ جن میں ان کے والد بھی شامل تھے ایسا سوچا کرتے تھے کہ کیفی اعظمی مشاعروں کے دوران خود کی نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی غزلوں کو سنایا کرتے ہیں۔

ایک بار بیٹے کا امتحان لینے کے لئے والد نے انہیں گانے کی ایک لائن دی اور اس پر انہیں عزل لکھنے کوکہا؟ کیفی اعظمی نے اسے ایک چیلنج کی شکل میں لیتے ہوئے ان لائن پر ایک غزل لکھ ڈالی اور وہ غزل ان دنوں کافی مشہور ہوئی اور بعد میں مشہور گلوکارہ بیگم اختر نے اسے اپنی آواز دی۔ غزل کے بول کچھ اس طرح تھے۔۔۔۔۔
اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
نا ہنسنے سے ہو سکون نا رونے سے کل پڑے
کیفی اعظمی محفلوں میں شرکت کرتے وقت نظموں کو بڑے پیار سے سنایا کرتے تھے۔ ا سکے لئے انہیں کئی بار ڈانٹ بھی سننی پڑی، جس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے ” امّاں دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاو¿ں گا“۔

کیفی اعظمی کبھی اعلی تعلیم کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ مدرسہ میں اپنے تعلیمی سفر کے دوران وہاں کے نظام کو دیکھ کر کیفی نے اسٹوڈینٹس یونین بنائی اور اپنا مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے پر طلباءکے ساتھ ہڑتال پر جانے کی اپیل کی۔ کیفی اعظمی کی اس اپیل پر طلبہ ہڑتال پر چلے گئے اور اس دوران ان کا مظاہرہ تقریباً ڈیڑھ سال تک چلا لیکن اس ہرتال کی وجہ سے کیفی اعظمی مدرسہ کی انتظامیہ کے آنکھوں میں کھٹکنے لگے اور مظاہرہ ختم ہونے کے بعد انہیں مدرسے سے نکال دیا گیا۔

اسہڑتال سے کیفی اعظمی کو فائدہ بھی پہنچا اور اس دوران اس وقت کے کچھ ترقی یافتہ رائٹرز کی نظریں ان پر پڑی جو ان کی رہنمائی کو دیکھ کر کافی متاثر ہوئے تھے۔ کیفی صاحب کے اندر انہیں ایک بلندیوں پر پہنچنے والا شاعر دکھائی دیا اور انہوں نے ان کو حوصلہ دیا اور مدد دینے کی پیشکش کی ۔ اس کے بعد ایک اسٹوڈینٹ لیڈر اطہر حسین کے اندر شاعر کیفی اعظمی نے جنم لیا۔

سال 1942میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم کے لئے لکھنو¿ اور الہٰ آباد بھیجے گئے لیکن کیفی نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ممبر بن کے رضا کار کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر بھارت چھوڑو تحریکمیں شامل ہو گئے۔ اسی درمیا ن مشاعروں میں کیفی اعظمی کی شرکت جاری رہی۔ اسی بیچ سال 1947میں ایک مشاعرہ میں حصہ لینے کےلئے وہ حیدرآباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات شو کت اعظمی سے ہوئی اور ان کی یہ ملاقات جلد ہی شادی میں تبدیل ہوگئی۔

آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ لیا۔ شادی کے بعد بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کے لئے لکھنا شروع کر دیا جہاں سے انہیں 150روپیہ ماہنامہ تنخواہ ملتی تھی۔
ان کی پہلی نظم ’ سرفراز لکھنو¿‘ میں چھپی ۔ شادی کے بعد ان کے گھر کا خرچ بہت مشکل سے چل پاتا تھا۔ انہوں نے ایک دیگر روزنامہ اخبار میں مزاحیہ تنز بھی لکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد اپنے گھر کے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کیفی اعظمی نے فلمی گیت لکھنے کا فیصلہ کیا۔ کیفی صاحب نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم ’ بزدل‘ کے لئے دو گیت لکھے جس کے عوض انہیں 1000روپے ملے۔ ا سکے بعد سال 1959میں ریلیز ہوئی فلم ’ کاغذکے پھول ‘ کے لئے کیفی نے

وقت نے کیا کیا ہنسی ستم تم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم ۔۔۔جیسا صدا بہار گیت لکھے۔ سال 1965میں ریلیز فلم ’ حقیقت‘ میں ان کے لکھے گیت ” کر چلے ہم فدا جان و طن ساتھیو، اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو کی کامیابی کے بعد کیفی اعظمی بلندیوں کے انتہا پر جا پہنچے۔
کیفی اعظمی نے فلم گرم کی کہانی اسکرپٹ اور اسکرین پلے بھی لکھے جن کے لےءانہیں فلم فیئر کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ۔ تقریباً 75سال کے بعد کیفی اعظمی نے اپنے گاو¿ں مزاوں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اپنے لکھے گیتوں سے ناظرین کو متاثر کرنے والے لیجنڈ شاعر اور گیت کار کیفی اعظمی 10مئی 2002کو اس دنیا سے رخصت فرما گئے۔

Title: kaifi azmi 16th anniversary | In Category: انٹرٹینمنٹ  ( entertainment )

Leave a Reply