فلم’ فیشن ‘سے ’ اعلان جنگ‘ تک فلمی مسافت طے کرنے والے منوج کمار کی 81ویں سالگرہ

ایم سلیم

نئی دہلی: ہندی فلم انڈسٹری میں منوج کمار کا نام ایسے فنکار کے طور پر لیا جاتا ہے ، جس نے فلم سازی کے ساتھ ساتھ ، ہدایت کار،کہانی کار اور بے مثال اداکارانہ صلاحیتوں سے بھی ناظرین کے دلوں میں اپنا ایک مخصوص مقام بنایا ہے۔سال 1957سے 1962تک منو ج کمار فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور آخر کار ان کی جدوجہد کام آئی اور فلم ”فیشن“ سے انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔اس کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا اسے وہ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے گئے۔منوج کمار کااصل نام ہر ی کرشن گوسوامی ،جن کی پیدا ئش 24جولائی1937 کوگاﺅں جنڈیالہ ،شیرخاں ،ہیر،ضلع ہزارہ ،موجودہ پاکستان میں ہوئی۔آپ نے چوتھی جماعت تک کی تعلیم اردو میں لاہور میں حاصل کی۔1947میں ملک تقسیم ہوا اور آپ ہندوستان آگئے۔پاکستان سے آئے مہاجرین کا قیام دہلی میں کنگزوے کیمپ میں ہوا۔اس کیمپ کاصدر منوج کمار کے والد پنڈت ہر بنس لال گوسوامی جی کو بنایا گیا۔

کیمپ کے بعد منوج کمار کے گھر والوں کو نانگلوئی میں رہنے کیلئے کوارٹر ملاجہاں چند کوارٹر اوربھی تھے جس میں رہنے والے مہاجر سب ایک ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔لہٰذا منوج کمار نے نانگلوئی کے ایک سرکاری مڈل اسکول میں پانچویں جماعت میں داخلہ لیا اور آٹھویں جماعت تک اردو تعلیم حاصل کی۔

ہائیرسیکنڈری کے بعد آپ نے دہلی کے ہندو کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا۔تعلیم کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ آپ کی ملاقات اپنے پھوپی زاد بھائی فلم ساز لیکھ راج باکھڑی اور ان کے عزیز ترین بھائی جیسے دوست کلدیپ سہگل سے ہوئی۔یہ دونوں آزادی سے پہلے لاہور میں فلم لائن سے وابستہ تھے اور آزادی کے بعد ممبئی آ بسے تھے۔ انہوںنے منوج کمار کو دیکھ کر کہا کہ تم تو ہیرو لگتے ہو۔فلم میں کام کرو گے؟اور منو ج کمار نے حامی بھر دی۔ منوج کمار تعلیم میں مصروف تھے کہ کچھ عرصے بعد منوج کمار سے ان کے والد نے کہا کہ لیکھ راج کے خطوط تمہارے نام سے آرہے ہیں۔کیا تم فلم لائن میں جانا چاہتے ہو؟منوج کمار نے اپنے والد کو بھی ہاں میں جواب دیااور پھر وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر ممبئی چلے گئے۔

منوج کمار کو اداکاری کا ری کرنے کا پہلا موقع 1957میں آئی فلم ”فیشن “میںملا۔ اس فلم کے مرکزی کردار میں پردیپ کمار اور مالا سنہا تھے۔اس کے بعد فلم ”سہارا“ میں منوج کمار کو مختصر اداکاری کا موقع ملا۔اس فلم میں مینا کماری اور بلراج ساہنی مرکزی کردار میں تھے۔فلم چاند ،مینا ،ضعیف ،ریشمی رومال،نقلی نواب ،کانچ کی گڑیا،ڈاکٹر ودیا جیسی فلموں سے فلمی دنیا میں منوج کمارنے اپنی بہترین اداکارانہ صلاحیتوں کے سبب فلم انڈسٹری میں اپنا ایک مخصوص مقام بنایا۔فلم سازوجئے بھٹ کی فلم ”ہریالی اور راستہ “سے منوج کمار کو زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ کیونکہ یہ فلم تیاری کے قریب ہی تھی کہ منوج کمار کی شادی دہلی کی ایک نامور سماجی کارکن اور وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو راکھی باندھنے والی بہن سویتا بین کی بیٹی ششی سے ہوگئی۔یہ شادی منوج کمار کیلئے اتنی لکی ثابت ہوئی کہ فلم ”ہریالی اور راستہ“ نے سلور جوبلی منائی۔منوج کمار نے تقریباً44فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ان میں قریب دس فلمیں ایسی ہیں ،جن میں فلم ساز، ہدایت کار،کہانی کار اوراداکارکی حیثیت سے منوج کمار کی شہرت بلندیوں تک پہنچ گئی۔یہ فلمیں ہیں اپکار،شور،روٹی کپڑااور مکان ،سنتوش ،پورب پچھم ،کلیگ اوررامائن ،کرانتی، جئے ہند،پینٹر بابو اورکلرک۔

منوج کمار نے دوفلموں ”آدمی “اور”کرانتی “میں دلیپ کمار کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔دلیپ کمار کے بارے میں منوج کمار کا کہنا ہے کہ دلیپ صرف شہنشاہ جذبات ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل شہنشاہ ہیں۔انہوںنے کہا کہ اتنی بڑی دنیا اور صرف ایک دلیپ کمار،اس سے بڑی شہنشاہیت اور کیا ہوسکتی ہے؟وہ قدرت کا دیا ہوا دنیا کوایک تحفہ ہیں۔ فلم آدمی میں منوج کمار سے پہلے دھرمیندر کو لیا گیا تھا لیکن وہ فلم سے کس لئے الگ ہوگئے یہ اندر کی بات ہے منوج کی اس فلم میں وہ پر ان کے کہنے پر راضی ہوئے۔منوج کمار کی فنکارکاایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فلموں کی کہانیاں خود اردو میں قلم بند کرتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔کیونکہ ان کے والد پنڈت ہربنس لال گوسوامی اردو فارسی کے ایک نامور شاعر تھے۔ان کے کلام کا جلوہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب وہ صرف پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔اور اس وقت شاعر مشرق علامہ اقبال سے ان کی ملاقات ہوئی جس میں شاعر مشرق نے ان کاکلام سن کر انہیں خضرکا تخلص عطا کیاتھا۔ خضر صاحب اپنی فطری بے نیازی کی وجہ سے اپنا مجموعہ کلام شائع نہیں کراسکے۔

البتہ ان کے انتقال کے بعد ان کی بہو اورمنوج کمار کی اہلیہ ششی گوسوامی نے مئی 1984 میں سمرن نام سے ان کا مجموعہ شائع کیا۔اس مجموعہ کلام کا مقبول شاعرقمر جلال آبادی نے ترتیب دیا۔سمرن میں انڈوپاک کے نامور فلمی وغیر فلمی شاعروں نے خضر صاحب اور ان کی شاعری پر اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کیا ہے۔لہٰذا 2007میں وہ شاہ رخ خان کی ہٹ فلم ”اوم شانتی اوم“کے گانے سے ہونے والے تنازعہ سے کافی سرخیوں میں رہے تھے۔ جس میں انھوں نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ اس فلم کے ایک گانے میں ان کا مذاق اڑایا گیا ہے۔منوج کمار نے 1995میںبنی فلم ”اعلان جنگ“ میں بھی اپنی اداکاری کی جو ان کی آخری فلم تھی۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Happy birthday manoj kumar heres looking back at the journey of this legend in the hindi film industry in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply