موٹر مکینک سے شہرہ آفاق نغمہ نگار اور ہدایت کار بننے والے گلزار کی83ویں سالگرہ

ممبئی:مشاعروں اور محفلوں سے ملی شہرت اور کامیابی نے موٹر میکینک کے طور پر کام کرنے والے گلزار کو جن کی آج (18اگست) 83ویں سالگرہ منائی جارہی ہے،گزشتہ چار عشرے میں فلمی دنیا کا ایک عظیم شاعر اور نغمہ نگار بنا دیا ہے۔ اردو شاعری کو ایک نئی جہت دینے والے ہندستان کے مشہور نغمہ نگار اور ہدایتکار گلزار پاکستان کے ضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے قصبے دینہ میں کالرا اروڑہ سکھ خاندان میں 18 اگست 1934 کو پیدا ہوئے۔سمپورن سنگھ کالرا (گلزار) کو اسکول کے دنوں سے ہی شعر و شاعری اورساز موسیقی کا بے حد شوق تھا۔کالج کے دنوں میں ان کا یہ شوق روز بروزبڑھنے لگا اور وہ اکثر مشہور ستار نواز روی شنکر اور سرود نواز علی اکبر خان کے پروگراموں میں جایا کرتے تھے۔ ہندستان کی تقسیم کے بعد گلزار کا خاندان امرتسر میں بس گیا لیکن گلزار نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے ممبئی کا رخ کیا اور ورلی میں ایک گیراج میں کار مکیکنک کے طور پر کام کرنے لگے۔ فرصت کے لمحات میں وہ نظمیں لکھا کرتے تھے۔ اسی دوران وہ ڈائرکٹر بمل رائے کے رابطے میں آئے اور ان کے اسسٹنٹ بن گئے۔ بعد میں انہوں نے ڈائریکٹر رشی کیش مکھرجی اور ہیمنت کمار کے اسسٹنٹ طور پر بھی کام کیا۔
.اس کے بعد شاعر کے طور پر گلزار پروگریسو رائٹرس ایسوسی ایشن (پی ڈبلیو اے ) سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1961 میں ومل رائے کے اسسٹنٹ کے طور پر کیا۔ نغمہ نگار کے طور پر گلزار نے اپنا پہلا نغمہ ”میرا گورا انگ لئی لے“ 1963 میں ریلیز ومل رائے کی فلم بندنی کیلئے لکھا۔ گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں نغمے لکھے، ان کی فلمی شاعری میں ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ شاعری میں تشبیہات کا استعمال ان کے نغموں کو منفرد بناتا ہے۔ انہوں نے 1971 میں فلم ”میرے اپنے“کے ذریعے ہدایتکاری کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد کوشش، پریچے، اچانک، خوشبو، آندھی، موسم، کنارا، کتاب، نمکین، انگور، اجازت،لباس ، لیکن، ماچس اور ہو تو تو جیسی کئی فلموں کی ہدایتکاری کی۔ اپنے ابتدائی دنوں میں گلزار کاجھکاؤ بائیں بازو نظریات کی جانب تھا جو ”میرے اپنے اور آندھی“ جیسی فلموں میں ظاہر ہوتا ہے۔ آندھی میں ہندستانی سیاسی نظام کی بالواسطہ تنقید کی گئی تھی حالانکہ اس فلم پر کچھ وقت کے لئے پابندی بھی لگا دی گئی تھی۔ گلزار ادبی کہانیوں اور خیالات کو فلموں میں بخوبی پیش کرتے ہیں۔
راہل دیو برمن کی موسیقی میں بطور نغمہ نگار گلزار کی صلاحیت نکھر کر سامنے آئی اور انہوں نے ناظرین اور سامعین کو” مسافر ہوں یارو (پریچے)، تیرے بغیر زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں (آندھی)، گھر جائے گی (خوشبو)، میرا کچھ سامان (اجازت)،تجھ سے ناراض نہیں زندگی(معصوم) جیسے ادبی طرز کے نغمات دیئے۔ سنجیو کمار، جتیندر اور جیا بہادری کی اداکاری کو نکھارنے میں گلزار نے اہم کردار نبھایا تھا۔ ہدایت کے علاوہ گلزار نے کئی فلموں کی اسکرپٹ اور ڈائیلاگ بھی لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1977 میں کتاب اور کنارا جیسی فلموں کی تخلیق بھی کی۔ اپنے نغموں کے لئے وہ اب تک 11 مرتبہ فلم فیئرایوارڈ اور تین مرتبہ قومی ایوارڈسے نوازے جا چکے ہیں۔ 2009 میں فلم ”سلم ڈاگ ملینیئر“ میں ان کا نغمہ ”جے ہو“ کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہندوستانی سنیما میں ان کی شراکت کو دیکھتے ہوئے 2004 میں انہیں ملک کے تیسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے سرفراز کیا گیا۔ اردو زبان میں گلزار کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ ”دھواں“ کو 2002 میں ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ گلزار نے اپنی شاعری کو ایک نئے انداز میں پیش کیا جسے ”تروینی“کہا جاتا ہے۔ہندوستانی سنیما کی دنیا میں قابل ذکر شراکت کو دیکھتے ہوئے گلزار فلم انڈسٹری کے اعلیٰ ترین اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازے جا چکے ہیں۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Happy birthday gulzar poet lyricist and film director bollywood in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply