جگجیت سنگھ کی مسحور کن آواز آج بھی کانوں میں رس گھو ل رہی ہے

نئی دہلی: ہندوستان کے شہرہ آفاق گلو کار و شہنشاہ غزل جگجیت سنگھ اگرچہ آج اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن کانوں کے راستے دل میں اترجانے والی ان کی سحر انگیزآواز کا رس آج بھی ان کے کروڑوں عاشقوں کے کانوں میں گھل رہا ہے اور وہ ان سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔ دماغ کی رگ پھٹ جانے کے باعث 10اکتوبر 2011کو ممبئی کے لیلا وتی اسپتال میں انتقال کر جانے والے شہنشاہ غزل دو ہفتے سے بھی زائد عرصہ تک کومہ میں رہے تھے۔ جگجیت سنگھ راجستھان کے شہر بیکانیر میں پیداہوئے تھے ۔ پیدائش کے بعد اگرچہ ان کا نام جگ جیون سنگھ رکھا گیا تھا لیکن جیوتشی کے کہنے پروالدین نے ان کا نام بدل کرجگجیت سنگھ رکھ دیا۔

جگجیت سنگھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہی غزل کو ادبی محفلوں کے حصارسے نکال کرنئی نسل تک پہنچایا۔جگجیت سنگھ کی اہلیہ چترا سنگھ بھی نہایت خوش گلو ہیں اور انہوں نے 70اور80کے عشرے میں جگجیت کے ساتھ بے شمار غزلیں گائی ہیں۔ انہوںنے چترا کے علاوہ بھارت رتن کے اعزاز سے سرفراز کی جانے والی گلو کارہ لتا منگیشکرکے ساتھ کئی لازوال غزلیں گائیں۔ہندوستان میں جب بھی غزل سرائی کا ذکر ہوگا تو جگجیت سنگھ کا نام بڑے ادب سے لیا جائے گا۔شہنشاہ غزل کا لقب پانے والے جگجیت سنگھ کو موسیقی سے زبردست لگاو¿ تھا ۔جگجیت کی آواز میں جتنا سحر اور خوبصورت اتار چڑھاو¿ تھا ان کی ذاتی زندگی اتنے ہی تلخی بھرے اتار چڑھاو¿ سے بھری ہوئی تھی۔

اور کبھی کبھی ان کا یہ درد گزل سرائی کے دوران ان کی آواز سے جھلکتا تھا جسے ہر کس و ناکس محسوس کر لیتا تھا۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے جالندھر اسٹیشن میں گلو کار اور میوزک ڈائریکٹر کے طور پر اپنا کیریر شروع کیا۔1965میں جگجیت سنگھ اپنے گھر والوں کو مطلع کیے بغیر ممبئی چلے گئے اور مو سیقی کی دنیا میں ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیے۔ ممبئی میں ہی ان کی ملاقات ایک بنگالی خاتون چترا دتہ سے ہوئی ۔دونوں میں محبت ہوگئی جو شادی پر منطبق ہوئی۔

ان دونوں کو 1969میں ا یک بیٹا بھی تولد ہوا جس کا نام وویک تھا۔1976میں جگجیت اور چترا کی ایک البم ’دی ان فارگیٹ ایبل‘ ریلیز ہوئی جس کی ہر طرف ستائش اور خوب پذیرائی ہوئی۔1980کے عشرے تک جگجیت سنگھ شہنشاہ غزل بن چکے تھے۔جگجیت سنگھ نے فلموں کے لیے بھی غزلیں گائیں جن میں پریم گیت، جسم، تم بن ، جوگرس پارک جیسی فلمیں ہیں۔1987میں 18سال کی عمر میں ان کے بیٹے وویک کی ایک سڑک حادثہ میں موت واقع ہوگئی۔

جس نے جگجیت اور چترا کو توڑ کر رکھ دیا۔ دونوں نہایت غمگین و اداس رہنے لگے۔ان کی بیوی چترا نے بیٹے کی موت کے بعد سے گانا ہی چھوڑ دیا۔ اور پھر اس کے بعد جگجیت اور چترا کی جوڑی کوکوئی نہیں سن سکا۔ البتہ جگجیت سنگھ اپنا غم بھلانے کے لیے اپنی سحر انگیز آواز سے انتقال کر جانے تک اپنا،اہلیہ چترا اور اپنے کروڑوں عاشقوں و مداحوں کا دل بہلاتے رہے۔جگجیت سنگھ کو 2003میں پدم بھوشن اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا۔

جگجیت سنگھ کی یوں تو ہر غزل پر سامعین پہلے بھی جھوم اٹھتے تھے اور آج بھی جھوم اٹھتے ہیں ۔اور جب بھی ان کی غزل سنی جاتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ زندہ سلامت بالکل سامنے بیٹھے ہوں ۔انکی چند غزلیں خاص طور پر ” ہونٹوں سے چھو لو تم، میرا گیت امر کر دو۔”چٹھی نہ کوئی سندیش ، جانے وہ کون سا دیش جہاں تک چلے گئے“۔ ”مسکرا کر ملا کرو ہم سے“۔”وہ کاغذ کی کشتی“ اور تیرا چہرہ ہے آئینہ جیسا وہ غزلیں ہیں جنہیں پورے دن اور شب بھر بھی سنا جاتا رہے تب بھی دل نہیں بھرتا۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ghazal king jagjit singh 7th death anniversary in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News
What do you think? Write Your Comment