معروف موسیقار مدن موہن کی42ویں برسی پر پرستاروںکا خراج عقیدت

ممبئی:ہندی فلموں کے مشہور موسیقار مدن موہن کا نغمہ، جن کی آج 42ویں برسی منائی جا رہی ہے،آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے۔۔۔ دل کی اے دھڑکن ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے۔۔۔سے مشہوراس فنکار سے موسیقار نوشاد اس قدر متاثر ہوئے تھے کہ انہوں نے مدن موہن سے اس دھن کے بدلے اپنی موسیقی کا مکمل خزانہ لٹا دینے کی خواہش ظاہر کر دی تھی۔ مدن موہن کی پیدائش 25 جون، 1924 میں عراقی کردستان کے مقام ” ایربیل” میں ہوئی۔ ان کے والد رائے بہادر چنی لال فلمی کاروبار سے وابستہ تھے اور بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے بڑے فلم اسٹوڈیو میں بحیثیت کارباری شراکت دار تھے۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے مدن موہن بھی فلموں میں کام کرکے بڑا نام کمانا چاہتے تھے لیکن ان کے والد کے کہنے پر انہوں نے فوج میں بھرتی ہونے کا فیصلہ لے لیا اور دہرہ دون میں ملازمت شروع کر دی۔ کچھدنوں بعد ان کا تبادلہ دہلی ہو گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد وہ فوج کی نوکری چھوڑ کر لکھنؤ آ گئے اور ریڈیو کے لیے کام کرنے لگے جہان پر انھوں نے طلعت محمود، استاد فیاض علی خان، استاد اکبر علی خان اور بیگم اختر سے موسیقی کے رموز سیکھے۔ان کا اردو کا لہجہ بہت ہی اچھا تھا۔
اردو لکھتے بھی اچھی تھے۔بہت اچھی اردو میں گفتگو بھی کرتے تھے۔ ..ممبئی آنے کے بعد مدن موہن کی ملاقات ایس ڈی برمن، شیام سندر اور سک رامچندر جی سے مشہور موسیقاروں سے ہوئی اور وہ ان کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔1950 میں آئی فلم ’آنکھیں‘ کے ذریعہ بطور موسیقار وہ فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس فلم کے بعد لتا منگیشکر مدن موہن کی چہیتی گلوکارہ بن گئیں اور وہ اپنی ہر فلم کے لئے انہیں ہی گانے کی پیشکش کیا کرتے تھے۔ لتا بھی مدن موہن کی موسیقی سے کافی متاثر تھیں۔ انہوں نےمدن موہن کو ”غزلوں کا شہزادہ“ کا لقب دیا تھا۔ موسیقار او پی نیر اکثر کہا کرتے تھے ”میں نہیں سمجھتا کہ لتا منگیشکر مدن موہن کے لیے بنی ہوئی ہے یا مدن موہن لتا منگیشکرکیلئے لیکن اب تک نہ تو مدن موہن جیسا موسیقار ہوا اور نہ ہی لتا جیسی گلوکارہ“۔ مدن موہن کی موسیقی ہدایت میں آشا بھونسلے نے فلم میرا سایہ کیلئے ”جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں“ نغمہ ا گایا تھا جسے سن کر سامعین آج بھی جھوم اٹھتےہیں۔ آشا بھونسلے کو ان سے اکثر یہ شکایت رہتی تھی کہ ”وہ اپنی ہر فلم کے لئے لتا دیدی کو ہی کیوں لیتے ہیں“ اس پر مدن موہن کہتے جب تک لتا زندہ ہے ان کی فلموں کے نغمے وہی گائے گی“۔.
پچاس کی دہائی میں فلم انڈسٹری میں یہ بات زوروں پر تھی کہ مدن موہن صرف خواتین گلوکاراؤں کیلئے ہی موسیقی دے سکتے ہیں وہ بھی خاص طور پر لتا منگیشکرکیلئے،لیکن 1957 میں آئی فلم ”دیکھ کبیرہ رویا“ میں گلوکار منا ڈے کے لئے ”کون آیا میرے من کے دوارے“ جیسا دل کو چھو لینے والی موسیقی دے کر انہوں نے اپنے بارے میں اس تاثر کو غلط قرار دے دیا۔ سال 1965 میں فلم ”حقیقت“ میں محمد رفیع کی آواز میں مدن موہن کی موسیقی سے سجا یہ نغمہ”کر چلے ہم فدا جا ن و تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں“ آج بھی سامعین میں حب الوطنی کے جذبے کو بلند کر دیتا ہے۔ آنکھوں کو نم کر دینے والی ایسی موسیقی مدن موہن ہی دے سکتے تھے۔ سال 1970 میں آئی فلم ”دستک“ کے لئے مدن موہن بہترین موسیقار کے قومی ایوارڈ سے نوازے گئے۔ انہوں نے اپنے طویل فلمی کیریئر میں تقریبا 100 فلموں کے لئے موسیقی دی۔ اپنی موسیقی سے سامعین کے دل میں خاص جگہ بنا لینے والا یہ موسیقار 14 جولائی 1975 کو اس دنیا سے الودا کہہ گیا۔ مدن موہن کے انتقال کے بعد 1975 میں ہی ان کی”موسم اور لیلی مجنوں“جیسی فلمیں جلوہ گر ہوئیں جن کی موسیقی کا جادو آج بھی سامعین کو مسحور کرتا ہے۔ مدن موہن کے بیٹے سنجیو کوہلی نے اپنے والد کی بغیر استعمال کی ہوئی 30 دھنیں یش چوپڑا کو سنائیں جن میں آٹھ کا استعمال انہوں نے اپنی فلم ”ویر جارا“ کے لئے کیا ہے۔ اس فلم کے نغمے بھی سامعین کے درمیان کافی مقبول ہوئے۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Death anniversary of famous musician madan mohan in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply