گلو کاری کی ملکہ آشا بھونسلے کی 83ویں سالگرہ پر بڑی بہن لتا منگیشکر کا اظہار نیک خواہشات

ممبئی: اپنی پر کشش آواز کےلئے مشہور اورمتعدد نئے تجربات کے ساتھ گزشتہ چھ دہائی میں بالی ووڈ کی دنیا کو 12 ہزار سے زیادہ دلکش اور مدہوش کرنے والے نغمے گا چکی آشا بھونسلے 83سال کی ہو گئیں۔ ان کے یوم پیدائش پر ان کی بڑی بہن ا لتا منگیشکر نے ان کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے درازی عمر کی دائیں دی ہیں۔آشا بھونسلے نے ہندی کے علاوہ انہوں نے مراٹھی، بنگالی، گجراتی پنجابی، تمل، ملیالم اور انگریزی زبانوں میں بھی نغمے گائے ہیں۔
08 ستمبر 1933 کو مہاراشٹر کے سانگلی گاؤں میں پیدا ہونے والی آشا بھونسلے کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر مراٹھی تھیٹر سے وابستہ تھے۔ نو سال کی چھوٹی سی عمر میں ہی آشا کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور خاندان کی اقتصادی ذمہ داری کو اٹھاتے ہوئے انہوں نے اور ان کی بہن لتا منگیشکر نے فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ گانا بھی شروع کر دیا۔ آشا بھونسلے نے اپنا پہلا گانا سال 1948 میں ’ساون آیا‘ فلم میں گایا۔ سولہ سال کی عمر میں اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف آشا نے اپنی عمر سے کافی بڑے گنپت راؤ بھونسلے سے شادی کر لی۔ ان کی شادی زیادہ کامیاب نہیں رہی اور بالآخر انہیں ممبئی سے واپس اپنے گھر پونے آنا پڑا۔ اس وقت تک گیتادتت، شمشاد بیگم اور لتا منگیشکر فلموں میں بطور پلے بیک سنگر مقبول ہوچکی تھیں۔ 1957میں موسیقار او پی نئیر کی ہدایت میں بنی، بی آر چوپڑا کی فلم ”نیا دور“ آشا بھونسلے کے فلمی کریئر کے لئے بے حد اہم ثابت ہوئی۔ 1966 میں تیسری منزل میں آشا بھونسلے نے آرڈی برمن کی موسیقی میں” آجا آجا میں ہوں پیارتیرا ..“ گانے کو اپنی آواز دی جس سے انہیں کافی مقبولیت ملی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں آشا بھونسلے ہندی فلموں کی نامور رقاصہ اداکارہ ’ہیلن‘ کی آواز سمجھی جاتی تھیں۔
آشا بھونسلے نے ہیلن کے لیے تیسری منزل میں ”او حسینہ زلفوں والی‘، کارواں میں ’پیا تو اب تو آجا‘، ’میرے جیون ساتھی‘ میں ’آؤ نا گلے لگا لو نا‘ اور ’ڈان‘ میں ’یہ میرا دل یار کا دیوانہ‘جیسے مشہور گانے گائے۔ کلاسیکی موسیقی سے لے کر مغربی دھنوں پر گانے، نغموں میں مہارت حاصل کرنے والی آشا بھونسلے نے 1981 میں آئی فلم امرا و جان سے اپنے گانے کے اسٹائل میں تبدیلی کی۔ فلم امرا ؤ جان سے آشا بھونسلے ایک کیبرے سنگر اور پوپ سنگر کی تصویر سے باہر نکلیں اور لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ وہ ہر طرح کے نغمے گانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ امرا ؤ جان کے لئے ’دل چیز کیا ہے‘ اور’’ان آنکھوں کی مستی کے‘جیسی غزلیں گاکر آشا کوخود بھی حیرت ہوئی کہ وہ اس طرح کے نغمے بھی گا سکتی ہیں۔ اس فلم کے لیے انہیں اپنے کریئر کا پہلا نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔ 1994 میں اپنے دوسرے شوہر آر ڈی برمن کی موت سے آشا بھونسلے کو گہرا صدمہ پہنچا اور انہوں نے گلوکاری چھوڑ دی۔لیکن ان کی دلکش آواز آخر دنیا سے کب تک منہ موڑے رہتی، ان کی آواز کی ضرورت ہر موسیقار کو تھی۔
چنانچہ چند ماہ کی خاموشی کے بعد اس کی پہل موسیقار اے آر رحمان نے کی۔ ..رحمان کو اپنی فلم رنگیلا کے لیے آشا کی آواز کی ضرورت تھی۔ انہوں 1995 میں ”تنہا تنہا“ گانافلم رنگیلا کے لئے گایا۔آشا کے فلمی کریئر میں ایک بار پھر اہم موڑ آیا اور اس کے بعد انہوں نے آج کل کی دھوم دھڑاکے سے بھری موسیقی کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ آشا بھونسلے کو بطور گلوکارہ آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں۔2001 میں انہیں فلمی دنیا کے اعلی ترین اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کے بعد انہیں امرا ؤ جان اور اجازت میں ان کی گلوکاری کے لئے نیشنل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ آج ری مکس گانوں کے دور میں بنائے گئے گانوں پر اگر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے زیادہ تر نغمے آشا بھونسلے نے ہی گائے تھے۔
ان ری مکس گانوں میں”پان کھائے سیا ہمارا“، ’پردے میں رہنے دو‘،’جب چلی ٹھنڈی ہوا،’شہری بابو دل لہری بابو‘، ’جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں‘،’کالی گھٹا چھائے مورا جیا گھبرائے‘، ‘لوگوں نہ مارو اسے‘، ’کہہ دوں تمہیں یا چپ رہوں‘اور ’میری بیری کے بیر مت توڑو ‘جیسے سپرہٹ گیت شامل ہے۔ آشا بھونسلے نے ہندی فلمی گیتوں کے علاوہ غیر فلمی گانے غزل، بھجن اور قوالیاں بھی بخوبی گائی ہیں۔جہاں ایک طرف موسیقار جے دیو کی موسیقی میں جے شنکر پرساد اور مہادےوی ورما کی نظموں کو آشا نے اپنی آواز دی وہیں فراق گورکھپوری اور جگر مرادآبادی کے اشعار بھی گائے۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Asha bhosle turn 83 years in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News

Leave a Reply