معروف اداکارہ راکھی70سال کی ہوگئیں

ممبئی : بالی ووڈ میں راکھی کو ایک ایسی اداکارہ کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ستر اور اسی کے عشرے میں اپنی رومانی اور جذباتی اداکاری سے ناظرین کومحظوظ کردیا۔ راکھی کا حقیقی نام راکھی مجمدار تھا ان کی پیدائش 15 اگست 1947 کو مغربی بنگال کے نادیہ ضلع کے راناگھاٹ میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1967 میں بنگلہ فلم’ ودھوور ن‘ سے کیا تھا۔ اسی دوران ان کی ملاقات ہدایت کار سنیل دت سے ہوئی جنہوں نے ان کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی نئی فلم ریشما اور شیرا میں کام کرنے کی تجویز رکھی جسے انہوں نے خوشی خوشی قبول کر لیا۔ حالانکہ فلم کی تخلیق میں تلخی ہونے کی وجہ سے ان کی فلم ’جیون مرتیو‘ پہلے ریلیز ہو گئی۔ راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم ’جیون مرتیو‘ میں ان کے مدمقابل ہیرو دھرمیندر تھے۔ خاندانی پس منظر پر بنی یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی اور ان پر فلمایا یہ نغمہ ’جھلمل ستاروں کا آنگن ہوگا ‘ سامعین کے درمیان آج بھی شدت کے ساتھ سنا جاتا ہے۔
فلم اور نغموں کی کامیابی کے بعد راکھی بطور اداکارہ پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔ .سال 1971 میں راکھی کے فلمی کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’ شرمیلی‘ آئی جس میں انہوں نے دو جڑواں بہنوں کا کردار نبھایا جس میں ایک کردار گرے شیڈس لئے ہوئے تھا۔ حالانکہ گرے شیڈس والا کردار نبھانا کسی بھی نئی اداکارہ کے لیے خطرہ ہو سکتا تھا لیکن راکھی نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اپنی اداکاری سے مبصرین کے ساتھ ناظرین کا بھی دل جیت کر فلم کو سپر ہٹ بنا دیا۔ سال 1976 میں فلم ’ تپسیا‘ راکھی کے فلمی کیریئر کی اہم فلموں میں سے ایک ہے۔ راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی اس گھریلو فلم میں راکھی نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جو اپنے خاندان کے لیے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ لے لیتی ہے اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کو ادا کرتی رہتی ہے۔
اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کوکریکٹر ایکٹر کے طور پر بھی پیش کرنے کے لئے راکھی نے مختلف کردار نبھائے۔1980 میں پرکاش مہرہ کی سپرہٹ فلم لاوارث میں اور رمیش سپی کی فلم شکتی میں وہ فلم اداکار امیتابھ بچن کی ما ں کا کردار ادا کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں۔ حالانکہ اس سے قبل وہ امیتابھ بچن کے ساتھ بطور ہیروئن اداکاری کرچکی ہیں۔ فلم لاوارث میں ان پر فلمایا یہ نغمہ ’ میرے انگنا میں تمہارا کیا کام ہے‘ آج بھی سامعین کے درمیان بے حد مقبول ہے۔90 کے عشرے میں راکھی نے کئی فلموں میں ’ماں ‘ کے کردار کو پردہ سیمیں پر پیش کیا ہے۔ ان فلموں میں رام لکھن،جیون ایک سنگھرش، پرتیکار، سوگندھ، کھلنائیک، اناڑی، بازیگر، کرن ارجن اور سولجر جیسی فلمیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ فلم رام لکھن میں بہترین اداکاری کے لئے انہیں بہترین معاون اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ .
راجستھان کے پس منظر پر بنی 1993 میں فلم ’ رودالی‘ میں راکھی نے ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھایا جو کسی کی موت کے بعد رو کر اپنی گزر بسر کرتی ہے۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی لیکن اپنی بااثر اداکاری سے راکھی نے سامعین کے ساتھ ناقدین کو بھی محظوظ کردیا۔ فلم انڈسٹری کے پردہ سمیں پر راکھی کی جوڑی سپر اسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ خوب پسند کی گئی۔ یہ فلمی جوڑی سب سے پہلے 1976 میں آئی فلم ’ کبھی کبھی ‘ میں نظر آئی۔ اس کے بعد اس جوڑی نے قسمیں وعدے، مقدر کا سکندر، ترشول، جرمانہ، کالا پتھر، برسات کی ایک رات، بے مثال اور رشتہ دی بانڈ آف لو میں ایک ساتھ کام کر کے سامعین کو مسحور کردیا۔
راکھی اپنے فلمی کیریئر میں تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی جا چکی ہیں۔ انہیں سب سے پہلے فلم داغ کے لئے بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔اس کے بعد 1976 میں فلم تپسیا کے لئے بہترین اداکارہ اور 1989 میں فلم رام لکھن کیلئے بہترین معاون اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ سال 2003 میں آئی فلم شبھ مہورت کے لیے راکھی بہترین معاون اداکارہ کے قومی ایوارڈ سے بھی نوازی گیئں۔ فلمی صنعت میں راکھی کی اہم شراکت کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے انہیں سال 2003 میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا۔ راکھی نے اپنے تین دہائی طویل فلمی کیریئر میں تقریباً 90 فلموں میں کام کیا ہے۔ وہ ان دنوں بالی وڈ میں سرگرم نہیں ہیں۔

Read all Latest entertainment news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from entertainment and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Actress rakhi turns 70 on 15th august in Urdu | In Category: انٹرٹینمنٹ Entertainment Urdu News
Tags:

Leave a Reply