یہ کون سا اسلام ہے، یہ کیسے مسلمان ہیں؟

سہیل انجم

جب اسلام کے نام پر اسلام کے ماننے والوں کو ہی خاک و خون میں لت پت کر دیا جائے، جب خود کو اسلام کا علمبردار بتا کر غیر اسلامی افعال کا ارتکاب کیا جائے اور جب ہر وہ کام کیا جائے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے تو پھر یہ شبہ فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کا نام لے کر غیر اسلامی سرگرمیوں میں ملوث ٹولے کہیں اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار تو نہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ جبہ و دستار پوش در اصل مسلمان ہی نہیں ہیں۔ وہ اسلام مخالف قوتوں کا حصہ ہیں اور پوری دنیا میں اسلام کے پیروکاروں کو نقصان پہنچانے اور اس سے زیادہ انھیں بدنام کرنے کی ایک عالمی مہم کے کارپرداز ہیں۔ یہ شبہات یوں ہی نہیں اٹھ رہے ہیں بلکہ ان کی معقول وجوہات ہیں۔ آج دنیا میں جہا ںجہاں اسلامی یا مسلم ناموں والی تنظیمیں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ ان کا اسلام سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں۔ کم از کم داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے اور دنیا بھر کے علما کا یہ مشترکہ فتویٰ بھی ہے کہ داعش نے اسلام کے نام پر جو طوفانِ قتل و خون برپا کر رکھا ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اس کی سرگرمیوں کو اسلامی شریعت کی رو سے کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھرایا جا سکتا۔

ہم اس قسم کے مضامین پہلے بھی لکھتے رہے ہیں لیکن اس مضمون کے لکھنے کی ترغیب نبی آخرالزماں اور رحمت اللعالمین، پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے موقع پر افغانستان میں ہونے والے ایک انتہائی خوں ریز خود کش حملے نے دی ہے جس میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہو ئے اور بے شمار زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکہ کابل میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے نزدیک ایک شادی ہال میں منعقد ایک تقریب میں کیا گیا۔ یہ تقریب پیغمبر اسلام کے جشن ولادت کے سلسلے میں منعقد ہوئی تھی اور شرکا اللہ کا کلام یعنی قرآن مجید کی تلاوت کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہاں اکثریت اسلامی اسکالروں کی تھی اور وہ سب خاتم النبیین سے قلبی عقیدت کی بنیاد پر مجتمع ہوئے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کا کوئی پیروکار اور پیغمبر اسلام کا نام لیوا ان لوگوں کو اپنے ہلاکت خیز حملے کا نشانہ بنائے جو خود پیغمبر اسلام کی ولادت کی یاد میں جمع ہوئے ہوں اور جو اللہ کے کلام کی تلاوت کرنے والے ہوں۔

اس بات پر تو احتلاف ہو سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا جشن ولادت منایا جائے یا نہ منایا جائے۔ لیکن اس سے کوئی بھی اتفاق نہیں کر سکتا کہ اللہ کے رسول کی یاد میں منعقد ہونے والے اجلاس کے شرکا کی شمع حیات گل کر دی جائے۔ اور ایسے میں جبکہ وہ اللہ کا کلام پڑھنے کے لیے اکٹھا ہوئے ہوں۔ آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد جشن عید میلاد النبی کا اہتمام کرتی ہے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس کو جائزہ نہیں سمجھتا اور وہ نہ تو ایسے کسی پروگرام کا انعقاد کرتا ہے اور نہ ہی ایسے کسی پروگرام میں شریک ہوتا ہے۔ لیکن اس کی مخالفت کرنے والوں نے بھی کبھی یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جو لوگ ایسا جشن منعقد کرتے ہوں ان کا خاتمہ بالخیر کر دیا جائے، انہیں ہلاک کر دیا جائے۔

ذرا تصور کیجیے کہ جو شخصیت رحمت اللعالمین بنا کر دنیا میں بھیجی گئی ہو اور جس نے دنیائے انسانیت پر بے پناہ احسانات کیے ہوں اس کے نام لیواو¿ں کو خود کش بم دھماکے سے اڑا دیا جائے اور اس کے دیوانوں کو خاک و خون میں لت پت ہو کر تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ کیا ایسی تباہ کن حرکت کوئی مسلمان کر سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں پر حملے ہوئے ہیں۔ مساجد میں نماز کی ادائیگی کے وقت خود کش حملے کرکے سیکڑوں بے قصور افراد کو شہید کیا گیا ہے۔ جنازوں تک کو نہیں بخشا گیا ہے۔ ایسے حملوں میں طالبان کی بھی شمولیت رہی ہے اور دوسری شدت پسند جماعتوں کی بھی۔ لیکن مذکورہ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حرکت ان کی نہیں ہے۔ لہٰذا شبہے کی سوئی داعش کی جانب گھوم رہی ہے۔ طالبان نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ لہٰذا اگر داعش نے یہ حملہ کروایا ہے تو ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اسلام دشمن قوتوں کا آلہ کار ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے کارکن در اصل مسلمان ہی نہیں ہیں۔ ہاں انھوں نے جبہ و دستار ضرور زیب تن کر رکھی ہے۔ انھوں نے خود کو اسلام کا ٹھیکیدار بنا کر پیش کیا ہے۔ لیکن حقیقتاً وہ یہودی و نصرانی ہو سکتے ہیں مسلمان قطعاً نہیں۔

اب ہم ایک بار پھر اس جانب لوٹتے ہیں کہ مذکورہ حملے میں اس شخصیت کے نام پر یکجا ہونے والوں کو نشانہ بنایا گیا جو پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجی گئی۔ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی۔ اس شخصیت کے ماننے والوں کو ہلاک کرنا کون سا ثواب کا کام ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس کا احترام نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔ دنیائے انسانیت پر جس کے احسانات کا اعتراف ان کے دشمنوں کو بھی ہے۔ جن کی شان میں غیر مسلموں نے بھی قصیدے لکھے ہیں۔ جن سے وہ بھی عقیدت رکھتے ہیں جو مسلمان نہیں ہیں۔

ہندوستان کے ایک سکھ شاعر کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر نے ایک شاندار نعت لکھی تھی جو کہ پوری دنیا میں مشہور ہوئی اور جس نعت نے سحر کے اعزاز و اکرام میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ انھوں نے لکھا ہے:
ہم کسی دین سے ہوں قائلِ کردار تو ہیں
ہم ثناءخوانِ شہِ حیدرِ کرّار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمد کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور پئے احمدِ مختار تو ہیں
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
میری نظروں میں تو اسلام محبت کا ہے نام
امن کا آشتی کا مہر و مروت کا ہے نام
وسعتِ قلب کا اخلاص و اخوت کا ہے نام
تختہ¿ دار پہ بھی حق و صداقت کا ہے نام
میرا اسلام نکو نام ہے بد نام نہیں
بات اتنی ہے کہ اب عام یہ اسلام نہیں

غیر مسلموں نے صرف شاعری ہی میں نہیں بلکہ نثر میں بھی پیغمبر اسلام رحمت اللعالمین آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار عقیدت کیا ہے۔ بارہ ربیع الاول کو کراچی کے اخبار روزنامہ جنگ میں ایک غیر مسلم کالم نگار ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا عقیدت میں ڈوبا ہوا ایک کالم شائع ہوا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ کالم نگار کو نبی آخر الزماں سے کس قدر عقیدت و محبت ہے۔ ہم اس قیمتی کالم کے بعض اقتباسات نذر قارئین کرتے ہیں:
”ربیع الاول کے مبارک مہینے کی بارہ تاریخ کو آج میرا یہ کالم دنیا کی اس عظیم ترین ہستی کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش ہے جو تمام جہانوں کے لیے سراپارحمت ، شفقت اور ہمدردتھے۔ جنہیں خود خدا نے رحمت اللعالمین کے نام سے پکارا۔پیغمبر اسلام کی پوری زندگی آزمائشوں سے بھرپور تھی۔ لیکن وہ رہتی انسانیت کے لیے ایسی روشن تعلیمات دے گئے کہ ان کے ماننے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے انسان ہیں۔

آپ کو اپنے آبائی وطن مکہ میں دعوت حق دینے کی پاداش میں ساتھیوں سمیت مختلف مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن جب مکہ ان کے سامنے سرنگوں ہوگیا تو آپ نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کرکے دل جیت لئے۔طائف کے نافرمان لوگوں نے جب ان پر پتھر برسانے کی جسارت کی تو فرشتے نے عرض کیا کہ آپ دعا کریں تو ان پر تباہی نازل ہوجائے۔ لیکن اللہ کے محبوب نے ان کے حق میں دعائے خیر کی۔ ایک بوڑھی عورت اپنی ناسمجھی کی بناءپر ان پر کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی لیکن جب وہ بیمار ہوئی تو انہوں نے اس کی عیادت کرکے اعلیٰ اخلاق کی روشن مثال قائم کردی۔ جنگ بدر کے نتیجے میں قید ہونے والے دشمنوں کے بارے میں حکم دیا کہ وہ مدینہ میں بسنے والے مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیکر آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے چرند پرند تک کو تکلیف پہنچانے سے منع کیا۔ مدینہ جو کبھی بیماریوں اور مصیبتوں کے گڑھ یثرب کے نام سے پہچانا جاتا تھا ، پیغمبر اسلام کی تشریف آوری کے بعد مدینہ کہلانے لگا۔ شیطان انسان کو انتقام کے لیے اکساتا ہے لیکن آپ نے غصہ پینے اور درگزر کرنے کی تعلیمات دیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایک اچھے انسان کے لیے لازم ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا انسان محفوظ ہو۔

انہوں نے ہمیشہ مظلوم، بے بس ، بے کس اور سماجی طور پر کمزور طبقات کی مدد کرنے پر زور دیا۔آپ کی تعلیمات کا محور دکھی انسانیت کو راہ نجات دکھانا تھا۔ بطور رحمت اللعالمین آپ نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بھلائی اور امن و سلامتی کا درس عام کرنے میں گزاری۔ پیغمبر اسلام نے آخری حج کے خطبے میںجو درس دیا وہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ آپ کی مدینہ آمد کے وقت وہاں مختلف قبائل اور مذاہب کے پیروکار بستے تھے۔ پیغمبر اسلام نے تمام مقامی افراد کے مابین ہم آہنگی کے فروغ کیلئے میثاقِ مدینہ کے نام سے معاہدہ امن کیا۔ یہ انسانی تاریخ کا ایسا بے مثال معاہدہ ہے جس کا تذکرہ میں گزشتہ ایک عرصے سے مختلف پلیٹ فارموں پر کرتا آرہا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آج بھی نافذ العمل ہوسکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسلامی ریاست میں بسنے والے غیرمسلموں کو یکساں شہری حقوق کی فراہمی یقینی بنائی گئی تھی۔ بیرونی حملے کی صورت میں تمام شہریوں کو مشترکہ دفاع کیلئے پابند کیا گیا۔ غیر مسلموں کے مذہبی عقیدے کا احترام کرتے ہوئے انہیں اپنے عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کی گئی۔

آج بارہ ربیع الاول منانے کا بہترین طریقہ میری نظر میںیہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذکرنے کے لیے حیاتِ مبارکہ کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔ بارہ ربیع الاول کا دن تقاضا کرتا ہے کہ رحمت اللعالمین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات بنایا جائے۔جو لوگ اپنی ناسمجھی کی بناءپر ناپسندیدہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں ان کے لیے دعا کی جائے کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔ میں کالم کا اختتام پیغمبر اسلام کی خدمت میںنہایت ادب و احترام سے ایک ہندو شاعرکے اشعار سے کرنا چاہتا ہوں۔

میرے سینے کی دھڑکن ہیں
میری آنکھوں کے تارے ہیں
سہارا بے سہاروں کا
خدا کے وہ دلارے ہیں
سمجھ کر تم فقط اپنا انہیں تقسیم نہ کرنا
نبی جتنے تمھارے ہیں
نبی اتنے ہمارے ہیں“۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Yeh kaun sa islam hai ye kaise musalman hain in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment