بین الاقوامی صوفی کانفرنس: کیوں اور کیسے؟

سہیل انجم
اس وقت جبکہ یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں نئی دہلی میں چار روزہ بین الاقوامی صوفی کانفرنس چل رہی ہے۔ ایک روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے وگیان بھون میں اس کا افتتاح کیا ہے۔ 18 اور 19 مارچ کو انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں مقالے پڑھے جائیں گے جس کا آغاز ہو چکا ہے اور 20 مارچ کو رام لیلا میدان میں ایک عوامی جلسہ کیا جائے گا۔ اس چار روزہ صوفی کانفرنس میں ملک و بیرون ملک سے دو سو سے زائد صوفیا، علما، مفتی، دانشور اور درگاہوں کے سجادہ نشین شرکت کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مقالے بھی پیش کریں گے اور ان میں سے کچھ رام لیلا میدان میں خطاب بھی کریں گے۔ اس عالمی صوفی کانفرنس کا انعقاد آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو ایک دہائی قبل مولانا سید اشرف کچھوچھوی نے قائم کیا تھا۔
سید اشرف کچھوچھوی نے کئی ماہ قبل صوفیا اور سجادہ نشینوں کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر مودی نے کہا تھا کہ اگر مسلمان صوفیا کے اسلام پر چلتے تو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی ملاقات میں یا اس کے بعد ہی ایک بین الاقوامی صوفی کانفرنس کے انعقاد کا خیال پیش کیا گیا اور پھر حکومت کی نگرانی میں اسے منعقد کیا گیا۔ یہ کانفرنس اپنے انعقاد کے بہت پہلے ہی متنازعہ ہو گئی۔ علما و مشائخ بورڈ میں بریلوی مکتب فکر کے لوگ شامل ہیں۔ لیکن بہت سے بریلوی علما اس کانفرنس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اس کانفرنس کے ذریعے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کئی سرکردہ بریلوی علما نے کانفرنس کے خلاف مضامین لکھے ہیں جن میں مولانا یاسین اختر مصباحی قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے تین قسطوں میں مضامین لکھ کر ا س کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوفیا کو حکومت و اقتدار سے کیا لینا دینا۔ صوفیا ان سب چیزوں سے دور دور رہے ہیں۔ لیکن آج حکومت کی سرپرستی میں یہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس پر کروڑوں روپے کا صرفہ آیا ہے۔ انھوں نے منتظمین سے سوال کیا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔ کسی سے چندہ کی بھی کوئی خبر نہیں ہے۔ گویا حکومت ا س کی سرپرستی کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے مندوبین کو شاندار ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ جن میں امریکہ، برطانیہ، عراق، مصر، اردن اور دوسرے کئی ملکوں کے مندوبین شامل ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے ایک بڑے عالم مولانا توقیر رضا خاں بریلوی نے بھی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی اس کانفرنس کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس سے گٹھ جوڑ کرکے ایسی کانفرنس کے انعقاد کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
میڈیا میں آنے والی تحریروں اور اطلاعات سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کی مخالفت کے نام پر ایک مخصوص فکر کے لوگوں کو نشانہ بنانا اور حکومت کی نظرو ں میں ان کو معتوب ٹھہرانا ہے۔ مولانا اشرف کچھوچھوی نے ایک بیان میں مبینہ طور پر کہا بھی ہے کہ آر ایس ایس ملک کا وفادار ہے اور وہابی ملک کے غدار ہیں ہم آر ایس ایس سے ہاتھ ملا کر اس ملک سے وہابیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ جب سے دہشت گردی بڑھی ہے اس کی مخالفت کے نام پر وہابی ازم کی مخالفت بھی تیز ہو گئی ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ دہشت گردی وہابی ازم کے شکم سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ وہابیوں کی بھی مخالفت کرنی چاہیے۔ اس بارے میں نیوز چینلوں پر مباحثے بھی ہو رہے ہیں اور بے بنیاد دلائل کے سہارے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہابی حضرات دہشت گردی کی معاونت کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی مرکزی جمعیت اہلحدیث کی دوروزہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف ایک اجتماعی فتویٰ جاری کیا گیا اور آئی ایس آئی ایس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو غیر اسلامی قرار دیا گیا اور ان کی سرگرمیوں کو اسلام کے منافی بتایا گیا۔ اس سے قبل بھی اس نے داعش اور دوسری تنظیموں کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔ جمعیة علمائے ہند کی جانب سے بھی دہشت گردی کے خلاف فتوے جاری کیے گئے ہیں۔ لیکن ایک مقصد کے تحت صوفی کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بریلوی مکتب فکر کے لوگ امن پسند ہیں باقی سب دہشت گرد ہیں یا دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ کچھ دنوں قبل بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم لوگ مسلک کی بنیاد پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوائیں گے اور ان کو آپس میں لڑوائیں گے۔ سمجھا جا رہا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد یہی ہے۔ اس سے قبل دہلی کے تالکٹورا اسٹیڈیم میں ایک کانفرنس کی گئی تھی جس میں کھل کر دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کو برا بھلا کہا گیا تھا اور الزام عائد کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اور قطر سے پیسے دے کر دہشت گردی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ ملک کے سنجیدہ مسلمانوں نے خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اس رویے کی مخالفت کی ہے اور آر ایس ایس سے ہاتھ ملا کر مسلمانوں میں انتشار پیدا کروانے کی مذمت کی ہے۔
جہاں تک صوفیا کا تعلق ہے تو جو حقیقی صوفی ہیں وہ کسی سے منافرت کا جذبہ نہیں رکھتے، کسی کی مخالفت نہیں کرتے، کسی کو برا بھلا نہیں کہتے۔ وہ ہر کسی کو امن و شانتی کی دعوت دیتے ہیں اور خلق خدا کے ساتھ پیار محبت سے پیش آنے کی بات کرتے ہیں۔ جو صوفیا گزرے ہیں اور ہندوستان یا پاکستان میں جن کی درگاہیں مرجع خلائق ہیں انھوں نے کبھی بھی اس قسم کی باتیں نہیں کیں۔ ہاں موجودہ صوفیا ان سے بالکل الگ ہیں۔ جو نام نہاد صوفیا اس کانفرنس کو منعقد کر رہے ہیں ان کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حقیقی صوفیا کے نقش قدم پر چل رہے ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر وگیان بھون میں افتتاحی تقریب کے دوران نریندر مودی کی موجودگی میں خیر مقدمی تقریر کرتے ہوئے مولانا سید اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ہم اکھنڈ بھارت میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن اس سے آگے انھوں نے یہ جملہ ادا کیا کہ اگر کوئی شخص ہمارے ملک کی ایک انچ زمین بھی اس سے الگ کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کو وہاں پہنچا دیں گے جہاں اس کو ہونا چاہیے۔ کیا یہ صوفیا کی زبان ہے، ان کا لب و لہجہ ہے۔ کوئی بھی مسلمان ملک کو توڑنے والوں کی حمایت نہیں کرتا اور موقع پڑنے پر ایسے لوگوں سے جنگ بھی لڑے گا اور ماضی میں جنگ لڑی بھی گئی ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ ہم اس کو وہاں پہنچا دیں گے جہاں اس کو ہونا چاہیے، صوفیا کی زبان سے الگ زبان ہے۔ صوفیا کسی کو نقصان پہنچانے کی بات نہیں کرتے بلکہ وہ پیار محبت سے دلوں کو بدلنے کی بات کرتے ہیں۔ اس سوال سے قطع نظر کہ صوفیا نے ہندوستان میں اسلام کو پھیلایا یا نہیں، اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا کہ انھوں نے سب کو اپنے گلے لگایا ہے، خواہ وہ دوست ہو یا دشمن۔ وہ جس ملک میں گئے وہاں کی ثقافت کو انھوں نے اپنایا اور وہاں کے لوگوں کے انداز میں اسلام کی تبلیغ کی۔ یا اپنے اخلاق کی بدولت اسلام کی تبلیغ کی۔ لیکن یہ جو صوفی کانفرنس ہو رہی ہے اس کے منتظمین جس قسم کی بھاشا بول رہے وہیں وہ صوفیا کی بھاشا تو بالکل بھی نہیں ہو سکتی۔
بہر حال کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اسی مکتب فکر کے ایک صحافی نے اس کے خلاف ایک مضمون قلمبند کیا تھا جس کا عنوان انھوں نے رکھا تھا ”اکیسویں صدی کے صوفیا کی نریندر مودی کے ہاتھ پر بیعت“۔ یہ بات درست ہو یا نہ ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کانفرنس حکومت کی زیر سرپرستی ہو رہی ہے اور ذرائع کے مطابق آئی بی کے سابق سربراہ آصف ابراہیم اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کا اس کا افتتاح کرنا بھی بڑا معنی خیز ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں صوفیا کو ظلم و تشدد کی بڑھتی تاریکی میں امید کا نور قرار دیا۔ انھوں نے کئی بار اللہ کا نام بھی لیا اور کہا کہ اللہ کے 99 نام ہیں لیکن کوئی بھی نام دہشت گردی کا حامی نہیں ہے۔ اگر وہ یہ بات سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور جیسا کہ انھوں نے کہا کہ اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے، تو کم از کم حکومت کے اہلکاروں کو یہ ہدایت دیں کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں کسی بے قصور کو گرفتار کرکے اس کی زندگی برباد نہ کریں۔ ہاں اگر کوئی ایسی وارداتوں میں ملوث ہے تو اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ لیکن بے قصوروں کو تو نشانہ نہ بنایا جائے۔
sanjumdelhi@gmail.com
(ادارے کا مضمون نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: World sufi conference its aims and objevtives in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply