ہندوستان بہت جلد سیلفستان بن جائے گا

سہیل انجم

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اب ایک بٹن دبانے سے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچ سکتے ہیں اور کوئی بھی واقعہ جان سکتے ہیں۔ اسمارٹ فون نے تو اس ترقی کو زبردست ایڑ لگائی ہے۔ جس کی وجہ سے آج ہر شخص اپنی مٹھی میں پوری دنیا لیے گھوم رہا ہے۔ جس کو دیکھو وہ اپنے اسمارٹ فون پر اترا رہا ہے۔ لیکن ایک دانشور نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”اسمارٹ“ فون نہیں ہوتا انسان ہوتا ہے۔ غور کریں تو یہ بات بالکل درست ہے۔ کیونکہ انسان ہی نے تو اسمارٹ فون بھی بنایا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے بہت سے فیوض و برکات ہیں اور اگر ہم اس کا بہتر استعمال کریں تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک اچھا دوسرا برا۔ اب یہ آپ کی صوابدید پر ہے کہ آپ اس کے کس پہلو کو استعمال کرتے ہیں۔

جہاں تک اسمارٹ فون کا تعلق ہے تو اس کو صارفین نے سیلفی لینے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سیلفی لینا بری بات نہیں لیکن اس میں بے حد احتیاط اور اعتدال کی ضرورت ہے۔ سیلفی کے بے تحاشہ استعمال نے اسے ایک خطرناک زون میں پہنچا دیا ہے۔ کوئی بھی موقع ہو لوگ سیلفی لینے سے نہیں چوکتے۔ شادی بیاہ میں تو لیتے ہی ہیں اب تو عبادت بھی سیلفی سے مزین ہونے لگی ہے۔ یہ رمضان کا مقدس مہینہ ہے۔ افطار پارٹیوں کا موسم ہے۔ لوگ جوق در جوق ان پارٹیوں میں شریک ہوتے ہیں اور جہاں اسمارٹ فون سے تصویر کشی ہوتی ہے وہیں بہت سے شائقین سیلفی بھی لیتے ہیں۔ کہیں افطار کے لیے صف میں بیٹھے ہوئے تو سیلفی، کہیں کسی سیاست داں یا کسی اور شخصیت سے بغل گیر ہو رہے ہیں تو سیلفی۔ اب کیمرہ مین کی ضرورت نہیں۔ بس اسمارٹ فون نکالیے اور ہاتھ کو لمبا کرکے جہاں تک چاہیے تصویر لے لیجیے۔ جہاں کیمرہ مین تصویر کھینچتے وقت فریم میں یعنی تصویر میں نہیں ہوتا وہیں سیلفی کا کمال یہ ہے کہ سیلفی لینے والا ہی سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

لیکن اس کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ آئے دن ایسی خبریں سننے، پڑھنے یا ٹی وی پر دیکھنے کو مل جاتی ہیں کہ فلاں مقام پر ایک شخص سیلفی لے رہا تھا کہ انتہائی گہری کھائی میں گر گیا اور ہلاک ہو گیا۔ کہیں سیلفی لیتے وقت ٹرین کے نیچے آگئے اور دنیا سے چلے گئے۔ ابھی پچھلے دنوں تین نوجوانوں نے سیلفی کے چکر میں اپنی موت کو اپنے موبائیلوں میں قید کر لیا۔ وہ ایک نہر کے کنارے کھڑے ہو کر سیلفی لے رہے تھے کہ انھوں نے کپڑے اتارے۔ موبائیل کا کیمرہ آن کرکے ایک جگہ فکس کر دیا اور پانی میں اتر گئے۔ لیکن وہ تینوں تیرنا نہیں جانتے تھے اور گہرائی میں چلے گئے پھر سطح آب تھوڑی دیر متلاطم رہنے کے بعد پُرسکون ہو گئی۔ یعنی وہ تینوں غرقاب ہو گئے۔ ان کے گھر والوں کو اس حادثے کا علم ان کے موبائلوں سے ہوا۔ اسی طرح دو بہنیں ایک اونچی عمارت پر چڑھ کر سیلفی لے رہی تھیں کہ نیچے گر گئیں اور ختم ہو گئیں۔ کوئی ہاتھی کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے کچلا گیا اور مارا گیا تو کوئی کسی اور جانور کا شکار ہو گیا۔ اس قسم کے واقعات آئے دن ہو رہے ہیں لیکن سیلفی لینے کا چلن کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ہندوستان میں یہ شوق تو وبا ئی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بچہ ہو یا جوان یا ادھیڑ سبھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان پوری دنیا میں ”سیلفی اموات“ کے سلسلے میں نمبر ون پر ہے۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں نہ صرف اسمارٹ فون مناسب قیمت میں ملتے ہیں بلکہ معیاری انٹرنیٹ بھی کافی ارزاں قیمتوں پر دستیاب ہے۔ اس وجہ سے لوگوں میں سوشل میڈیا کا استعمال بے تحاشہ بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کے امتزاج سے لوگوں خاص کر نئی نسل میں جو سماجی اور نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ واقعی تشویشناک ہیں۔ یہ مرض دوسرے ملکوں میں بھی پھیل رہا ہے۔ 2015 کے ایک سروے کے مطابق صرف انگلستان میں بیس فیصد سے زائد نوجوانوں نے ڈرائیونگ کے دوران سیلفیاںبنائیں۔ سیلفیوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سال 2015 میں دنیا میں ”سیلفی اموات“ کی تعداد شارک حملوں میں ہلاک ہونے والی اموات سے زیادہ ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی تدابیر کی جانے لگی ہیں۔ ہندوستان میں بھی تدارکی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں اب پولیس کے خصوصی دستے اہم اور خطرناک سمجھی جانے والی جگہوں مثلا اونچی تاریخی عمارتوں اور سمندری ساحلوں پر تعینات ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو ایسی خطرناک حرکتوں سے باز رکھا جاسکے جس سے ان کی یا دوسروں کی جانوں کو خطرہ ہو۔ ان حرکتوں میں سیلفی لینا سرفہرست ہے۔ کشتی رانی کے لیے مشہور جگہ اوٹی میں انتظامیہ نے بوٹنگ کرتے وقت سیلفی لینے پر مکمل پابندی لگا دی ہے اور کشتی میں سفر کرتے وقت لائف بیلٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ روس میں سب سے پہلے حکومت نے سوشل میڈیا کی لت اور اس سے جڑی سیلفی لینے کے خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات کا آغاز کیا۔ 2015 میں روسی وزارت داخلہ نے سیلفی سیفٹی گائیڈ کا اجرا کیا تاکہ عوام خاص طورپر نوجوانوں کو اپنے جان و مال کی حفاظت کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔

جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ عبادتوں کو بھی لوگوں نے سیلفی زدہ کر دیا ہے۔ مقدس مقامات کی زیارت اور مذہبی فرائض کی انجام دہی بھی اب سیلفیوں کے عذاب سے بچ نہیں پائی ہے۔ پچھلے چار پانچ برسوں میں حج و عمرہ کے دوران سیلفی لینے کا رواج بے تحاشہ بڑھ گیا ہے۔ راقم نے خود عمرے کے دوران حرم مکی و مدنی میں معتمرین کو سیلفیاں لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک خبر پڑھی تھی جس میں ایک شخص اللہ کے رسول کے روضے کے پاس سیلفیاں لینے کے بعد اپنے گھر پر ویڈیو کالنگ کرتا ہے اور اپنی بیوی سے کہتا کہ لو تم بھی حضور پاک کو اس ویڈیو کے توسط سے سلام بھیج دو۔ دیکھا جائے تو یہ روضہ رسول کی بے حرمتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی تصویروں کی بھرمار ہے کہ صاحب احرام میں ہیں۔ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور ساتھ میں سیلفی بھی لے رہے ہیں۔ خواندہ ناخواندہ سب اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ابھی چند روز قبل پاکستان کے دو وزرا نے عمرہ کرتے وقت خانہ کعبہ کے سائے میں سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔ حاجی صاحبان اور زائرین کرام عبادات اور ارکان کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سیلفیاں بناکر اپنی عبادت کی تصدیق بھی کرتے ہیں اور چشم زدن میں انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرکے اپنے دوست احباب اور چاہنے والوں سے اس کی داد بھی وصول کر لیتے ہیں۔

حج اور عمرے کے دوران لوگوں کا کثرت سے سیلفیاں لینا، تصویریں کھینچنا اور ویڈیو بنانا خطرے سے خالی نہیں۔ اس سے طواف اور دیگر فرائض میں مشغول عازمین حج و معتمرین کی فطری رفتار میں خلل پڑتا ہے جس سے کافی بڑے حادثے رونما ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت نے دوران حج و عمرہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی سمیت بارہ مقامات پر سیلفیاں لینے پر پابندی لگادی ہے۔ مگر اس کے باوجود اس وبا پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔اس پابندی کے اعلان کے وقت حرم شریف کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے لوگوں سے گزارش کی تھی کہ وہ تصویریں کھینچنے کے بجائے عبادات پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ مگرا سمارٹ فون کے اس زمانے میں لوگوں کو سیلفیوں کے بغیر شاید کسی کام میں لطف ہی نہیں آتا۔ اگر یہی شب و روز رہے اور یہ رجحان یوں ہی بڑھتا رہا تو یہ دنیا ”سیلفستان“ بن جائے گی۔

علامہ اقبال کے زمانے میں نہ انفارمیشن ٹیکنالوجی تھی نہ اسمارٹ فون۔ پھر بھی انھوں نے کہا تھا کہ :
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

اور مرزا غالب اس سے پہلے کہہ گئے ہیں کہ:
حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: will india become selfiestan in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar ) Urdu News

Leave a Reply