کیا کانگریس تاریخ کا حصہ بن جائے گی؟

سہیل انجم

اس وقت کانگریس پارٹی کی حالت بالکل اُس فوج کی سی ہو گئی ہے جو ایک بڑی جنگ لڑنے اور اس میں بری طرح شکست کھانے کے بعد صدمے سے دوچار ہو اور اس کی سمجھ میں کچھ نہ آرہا ہو کہ یہ کیا ہو گیا۔ جس کے کمانڈر ان چیف نے اپنے خیمے میں خود کو قید کر لیا ہو اور جنرلوں اور سپاہیوں سے ملنے سے انکار کر دیا ہو۔ جس کے سپاہی دشمن فوج کے سامنے منہ کی کھانے کے بعد خود اپنے ہی ساتھیوں سے لڑنے لگے ہوں اور پوری فوج کو یہ سمجھ میں نہ آرہا ہو کہ اسے اب کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔

134 سالہ تاریخ میں ایسا برا وقت کانگریس پر کبھی نہیں آیا تھا جب وہ پست ہمتی، شکست خوردگی اور اسی کے ساتھ ساتھ شکست و ریخت سے دوچار ہوئی ہو۔ اس وقت اس کی متعدد ریاستی اکائیوں میں باہمی چپقلش زوروں پر ہے اور لوگ اس کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ جو چند ریاستیں اس کے ہاتھوں میں بچی ہیں وہاں اقتدار کی باگ ڈور اپنے قبضے میں کرنے کی لڑائی جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کانگریسی لیڈروں کا دوسری پارٹیوں بالخصوص بی جے پی میں جانے کا رجحان اس پر مستزاد ہے۔ تیلنگانہ میں کانگریس کے 18 ممبران اسمبلی تھے جن میں سے دو تہائی یعنی 12 ممبران نے خود کو برسراقتدار ٹی آر ایس میں ضم کر لیا ہے۔ دل بدلی قانون کے مطابق اگر دو تہائی ممبران کسی پارٹی میں ضم ہو جائیں تو ان کی رکنیت ختم نہیں ہوتی۔ لہٰذا اب اس ریاست میں کانگریس کے اپوزیشن قائد بننے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ پارلیمنٹ میں اسے قائد حزب اختلاف کی پوزیشن ملنے سے رہی۔

پنجاب میں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور ان کے کابینی رفیق نوجوت سدھو کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں فی الحال کیپٹن کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ انھوں نے سدھو کی طاقت کم کرنے کے لیے ان سے ایک بھاری بھرکم وزارت چھین کر ہلکی پھلکی وزارت تفویض کر دی ہے۔

راجستھان میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان اقتدار پر قبضے کی جنگ چل رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ اور اشوک گہلوت پر اقربا پروری اور حبِّ فرزند کا الزام خود کانگریس صدر راہل گاندھی لگاچکے ہیں۔ انھوں نے یہی الزام تمل ناڈو کے پی چدمبرم پر بھی لگایا ہے۔ مہاراشٹر میں دونوں شکست خوردہ پارٹیاں یعنی کانگریس اور این سی پی اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہیں۔ راہل گاندھی کی شرد پوار سے ملاقات نے دونوں پارٹیوں کے آپس میں ضم ہو جانے کی قیاس آرائیاں تیز کر دی ہیں۔

کرناٹک میں کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت ہے مگر دونوں کے درمیان تلواریں تنی رہتی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر کانگریس کے لیے کسی بھی ریاست سے خوشی کی کوئی خبر نہیں ہے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کانگریس تاریخ کا حصہ بن جائے گی؟

جب ہندوستان کو آزادی مل گئی تو گاندھی جی نے کہا تھا کہ اب کانگریس کا مقصد پورا ہو گیا لہٰذا اسے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ لیکن چونکہ گاندھی جی کو دوسرے انسانوں کی مانند مستقبل کا کوئی علم نہیں تھا اس لیے انھیں نہیں معلوم تھا کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔ کیا واقعی کانگریس کا وجود غیر ضروری ہو جائے گا یا ایسے حالات بنیں گے کہ ریزہ ریزہ بکھرنے کی راہ پر گامزن ہونے کے باوجود ملک کو اس کی ضرورت رہے گی۔ جو سوال اٹھایا گیا ہے اس کو موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اس دھمکی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ وہ ہندوستان کو ”کانگریس مکت“یعنی کانگریس سے پاک ہندوستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس عزم و ارادے میں سیاسی مفاد پرستی کی آمیزش ہے۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ صرف کانگریس ہی ایک ایسی پارٹی ہے جس کا شاندار ماضی ہے، جس کی شاندار تاریخ ہے اور جو ملک گیر حیثیت کی پارٹی ہے اور جس کے پاس ایک نظریہ ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو ہندتوا کو ہندوستان پر حاوی ہونے سے باز رکھنے کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا اگر کانگریس ختم ہو جائے تو بی جے پی کا راستہ روکنے کی طاقت کسی بھی پارٹی میں نہیں رہے گی اور پھر وہ چاہے تو ہندوستان کو ایک ہندو راشٹرا بنا دے یا اسے سیکولر ملک رہنے دے۔

مذکورہ سوال کے جواب میں ایک نظریہ یہ ہے کہ اگر کانگریس نے اس نازک موقع پر ہوش مندی و دانش مندی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپنے وجود کے خاکستر میں دبی چنگاریوں کو ہوا دے کر نیا شعلہ نہیں پیدا کیا تو اس کا وجود مٹ جائے گا، وہ تاریخ کا ایک حصہ بن جائے گی۔ اسے تاریخ کا حصہ بن جانے سے روکنے کی ذمہ داری جہاں خود اسی پر عاید ہوتی ہے وہیں کانگریس میں اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری گاندھی نہرو خاندان پر عاید ہوتی ہے۔ لیکن گاندھی نہرو خاندان کا وارث جو کہ پارٹی کا صدر بھی ہے، صدارت سے مستعفی ہونے پر اڑا ہوا ہے اور ایک طرح سے گوشہ عافیت میں چلا گیا ہے اور وہاں سے نکلنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ وارث اپنے اور اپنے خاندان کے خیر خواہوں سے بھی ملنے سے انکار کرتا ہے اور باہم دست و گریباں کانگریسی سپاہیوں کو لڑنے سے روکنے کی کوشش بھی نہیں کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر کانگریس فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے تو سب سے زیادہ قصور وار یہی خاندان ہوگا۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کانگریس کی ایک شاندار تاریخ ہے، جنگ آزادی میں اس کا مہتم بالشان کردار ہے اور اس نے اب تک ہندوستان کو ایک سیکولر ملک بنائے رکھا ہے اس لیے کانگریس کو خواہ اپنی اُتنی ضرورت نہ ہو لیکن ہندوستانی عوام کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ اگر کانگریس نے اس ضرورت کی اہمیت کو نہیں سمجھا تو ہندوستان کو ہندو اسٹیٹ بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس آگ کا ایندھن خود کانگریس بھی بنے گی اور اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عاید ہوگی۔ در اصل ملک میں جتنی بھی علاقائی جماعتیں ہیں ان کے پاس کوئی دیر پا نظریہ نہیں ہے۔ ان کا نظریہ اور مطمح نظر اقتدار پر قبضے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جبکہ کانگریس کے پاس سیکولرزم اور سماجی انصاف کا ایک ایسا مضبوط نظریہ موجود ہے جو اب تک ہندوستان کو جوڑے رکھے ہوئے تھا۔ موجودہ برسراقتدار جماعت یعنی بی جے پی کے پاس بھی ایک نظریہ ہے۔ لیکن ان دونوں کے نظریات ایک دوسرے کے متضاد ہیں، ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے معماروں نے اسے ایک سیکولر ملک بنایا تھا اور اس کا وجود اسی وقت باقی رہے گا جب یہ سیکولرزم کی راہ پر گامزن رہے گا۔

لیکن کانگریس کے ساتھ دشواری یہ پیدا ہو گئی کہ اس کا نظریہ کمزور اور بی جے پی کا مضبوط ہوتا گیا۔ بی جے پی جوں جوں اقتدار پر قبضہ کرتی گئی کانگریس نے اس کی کامیابی کے رتھ کو روکنے کے لیے اپنے شاندار نظریے میں ان عناصر کی آمیزش شروع کر دی جن کی بنیاد پر بی جے پی کو کامیابی مل رہی ہے۔ یعنی کانگریس بھی ہندوتو کی راہ پر نکل پڑی۔ کچھ لوگوں نے اسے نرم ہندوتو کا نام دیا۔ راہل گاندھی کی پالیسی نہرو اور اندارا کی پالیسی سے الگ ہٹ گئی۔ نتیجتاً بی جے پی حاوی ہوتی اور کانگریس پچھڑتی اور سکڑتی چلی گئی۔ ایک بار ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ جب بی جے پی کی شکل میں اصلی ہندو پارٹی موجود ہے تو کوئی نقلی ہندو پارٹی کے پاس کیوں جائے گا۔ ان کا یہ جملہ بہت بامعنی اور بھرپور ہے اور اب اس کے مظاہر جگہ جگہ نظر آنے لگے ہیں۔

لہٰذا اگر کانگریس خود کو زندہ کرنا اور ملک گیر سطح پر بی جے پی کا متبادل بن کر ابھرنا چاہتی ہے تو اسے کم از کم دو کام کرنے ہوں گے۔ پہلا اپنے پرانے نظریے یعنی سیکولرزم کے راستے پر لوٹ جائے اور دوسرا یہ کہ شہر شہر، قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں اور گھر گھر جا کر اپنی تنظیم مضبوط کرے، ایک جوجھارو او رجنگجو کیڈر تیار کرے۔ جب تک وہ یہ دو بنیادی کام نہیں کرے گی اس وقت تک اسے حیاتِ نو نہیں مل سکتی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Will congress become a part of history in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.