شادیوں میں بیجا اصراف اور ہمارا رویہ

سہیل انجم

دہلی جیسے بڑے شہر میں عام طور پر روزانہ ہی کہیں نہ کہیں شادی ہوتی رہتی ہے۔ بلکہ اب تو ہر چھوٹے بڑے شہر،قصبہ اور دیہات میں بھی شادیوں کا کوئی موسم نہیں رہ گیا۔ جب جس کو سہولت ہوئی شادی کی تاریخ طے کر دی۔ لیکن اب شادیوں میں وہ سادگی دکھائی نہیں دیتی جو پہلے نظر آجایا کرتی تھی یا جس کی سماج کو ضرورت ہے۔ اب تو لوگوں کے پاس پیسے بہت آگئے ہیں۔ لہٰذا ان پیسوں کا بیدردی کے ساتھ مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ اب اس شادی کو شادی نہیں مانا جاتا جس میں فضول خرچی نہ ہو، بیجا اصراف نہ ہو۔ دولتمندوں کی شادیوں میں تو دولت کا بے تحاشہ مظاہرہ ہوتا ہی ہے اب تو متوسط طبقے کے لوگ بھی اپنی نام نہاد امارت کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔

برسبیل تذکرہ ابھی ابھی ختم ہوئی ایک شادی کی تقریب کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس میں نہ صرف ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی ہستیوں نے شرکت کی بلکہ امریکہ تک سے سیاست دانوں اور گلوکاروں نے آکر اس میں حصہ لیا۔ خیر وہ تو سب سے امیر شخص کی بیٹی کی شادی تھی۔ ان کو تو اپنی امارت کا مطاہرہ کرنا ہی تھا، افسوس اس وقت ہوتا ہے جب نااہل افراد بھی نام نہاد امارت کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ ہاں کچھ ایسے دیندار خاندان بھی ہیں جو انتہائی سادگی سے شادی کرتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

شادیوں میں غیر ضروری طور پر لاتعداد لوگوں کو مدعو کرنا اور مہمانوں سے زیادہ کھانا بنوانا اب عام بات ہو گئی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کھانے کی بے تحاشہ بربادی بھی ہوتی ہے۔ بعض بعض شادیوں میں سیکڑوں افراد کا کھانا ضائع ہو جاتا ہے اور منتظمین پر اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ ان کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ انھوں نے جو کھانا برباد کیا ہے اس سے جانے کتنے بھوکے خاندانوں کا پیٹ بھرا جا سکتا تھا۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جہاں ایسی بربادی ہوتی ہے وہیں کہیں آس پڑوس میں کچھ لوگ رات میں بھوکے پیٹ بھی سوتے ہیں۔ لیکن نہ تو منتظمین کو اس کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی مہمانوں کو۔

اس فضول خرچی کو روکنے کے لیے دہلی حکومت نے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ خدا کرے کہ وہ کارگر ہو جائے۔ حکومت اس بارے میں ایک پالیسی تیار کر رہی ہے جس کے مطابق مہمانوں کی تعداد پر پابندی لگائی جائے گی۔ کھانے اور پانی کے بیجا اصراف اور بربادی کو روکا جائے گا۔ صرف شادیوں ہی میں نہیں بلکہ دوسرے بڑے پروگراموں میں بھی کھانا پانی کی بربادی روکی جائے گی۔ دہلی کے چیف سکریٹری نے سپریم کورٹ کو اطلاع دی ہے کہ حکومت مہمانوں کی تعداد فکس کرنے جا رہی ہے۔ عدالت نے کھانے او رپانی کی بربادی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہر میں جہاں بھوک سے اموات ہو رہی ہوں، اس بربادی کو قطعی قبول نہیں کیا جائے گا۔ چیف سکریٹری وجے دیو نے عدالت کو بتایا کہ دولت مندوں اور غریبوں کی شادیوں میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بارے میں حکومت اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان اتفاق رائے ہے کہ دولت کے بے تحاشہ مظاہرے کو روکا جائے تاکہ ان شادیوں کی وجہ سے ٹریفک وغیرہ کا بھی جو مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اس سے نجات ملے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اور گورنر نے کھانے کی بربادی پر اظہار افسوس کیا ہے اور ایسا انتظام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شادیوں میں ایک تو مہمانوں کی تعداد کو کم کیا جائے، ایک تعداد مقرر کر دی جائے کہ اس سے زیادہ مہمان نہیں ہوں گے اور دوسرے یہ کہ اگر کھانا بچتاہے تو اسے برباد ہونے سے بچانے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کی خدمات حاصل کی جائیں اور ان کے توسط سے غریبوں میں وہ کھانا تقسیم کیا جائے۔ دولت کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے پولیس کو بھی اتھارٹی دی جائے گی اور اس کے پاس مہمانوں کی لسٹ ہوگی کہ شادی میں کتنے مہمان بلائے جا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے دہلی ہی میں بھوک سے تین بچیوں کی موت کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے شہر میں جہاں بھوک سے موتیں ہو رہی ہوں اس قسم کی فضول خرچی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خیال رہے کہ جولائی میں دہلی میں تین کم عمر بہنوں کی بھوک سے موت ہو گئی تھی۔ لیکن اس پر اس طرح ایکشن نہیں لیا گیا جیسا کہ لیا جانا چاہیے تھا۔ یہ تین بہنیں تھیں آٹھ سالہ مانسی، پانچ سالہ پارو اور دو سالہ سکھو۔ انھیں منڈاولی علاقے میں ایک کمرے کے کرائے کے مکان میں مردہ پایا گیا۔ جہاں وہ پڑی ہوئی تھیں وہاں الٹی یعنی قے کی نشانیاں تھیں۔ انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہاں آنے سے قبل ہی ان کی موت ہو گئی ہے۔ جب ان کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ بھوک سے ان کی موت واقع ہو ئی ہے۔ بچیوں کا باپ منگل رکشہ چلاتا ہے۔ لیکن اس واقعہ سے کئی روز قبل سے ہی وہ لاپتہ تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ روزگار کی تلاش میں تھا۔ بچیوں کی ماں ذہنی طور پر معذور ہے اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہوا کہ اس کی بیٹیاں مر چکی ہیں۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان گزشتہ کئی دنوں سے لوگوں سے کھانا پانی مانگ کر گزارہ کر رہا تھا۔ انھوں نے کئی دنوں سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پایا گیا کہ بچیوں کا پیٹ اور معدہ بالکل خالی تھے۔ ان میں نہ تو کھانا تھا نہ ہی پانی۔ یہ خاندان مدناپور مغربی بنگال کا باشندہ ہے اور اس واقعہ سے پندرہ روز قبل وہاں آیا تھا۔ منگل جو بھی کماتا تھا وہ شراب میں اڑا دیا کرتا تھا۔ جب بچیوں کی ماں بینا سے منگل کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کبھی کبھار آجاتا ہے اور ہم لوگوں کا کچھ خیال کر لیتا ہے۔ لیکن عام طور پر وہ کئی کئی دنوں تک لاپتہ رہتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک ذہنی بیماری میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے بھول جاتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شہر میں جہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہوں شادیوں میں ایسی فضول خرچی برداشت نہیں کی جائے گی۔

لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ جس دھوم دھڑاکے کے ساتھ شادیاں کرتے ہیں اور جس شان و شوکت کے ساتھ لوگ ان میں شرکت کرتے ہیں اس کا غریبوں کے دلوں پر کیا اثر پڑتا ہوگا۔ کھانے کے علاوہ جہیز کے نام پر جو لیا دیا جاتا ہے اس میں بڑے پیمانے پر ریاکاری کی جاتی ہے۔ یہ عام چلن بن گیا ہے کہ شادی سے قبل لڑکی کے اہل خانہ جہیز کا سامان سجاتے ہیں اور محلے کی عورتوں کو بلا بلا کر دکھایا جاتا ہے اور اپنی امارت کا رعب گانٹھا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا کہ غریبوں کے اہل خانہ بھی ان جہیزوں کو دیکھتے ہوں گے، ایسی یتیم اور نادار بچیاں بھی دیکھتی ہوں گی جن کی پیسے کی کمی کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، ان پر کیا گزرتی ہوگی۔

ابھی گزشتہ دنوں اپنے وطن جانا ہوا تو ایک شادی کا قصہ سن کر دنگ رہ جانا پڑا۔ راوی کے مطابق ایک دولت مند شخص کی بیٹی کی شادی تھی۔ وہ اکلوتی بیٹی تھی اور پوسٹ گریجویٹ تھی۔ باپ نے کئی جگہ رشتے بھیجے لیکن کہیں منظور نہیں ہوا۔ جو بھی لڑکی کو دیکھنے آتا وہ اسے مسترد کر دیتا۔ لیکن ایک ایسا خاندان آیا جس نے لڑکی کو پسند کر لیا۔ اس پر لڑکی کے باپ نے اس سے پوچھا کہ تمھیں مجھ سے کیا چاہیے۔ اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتا لڑکی کے باپ نے ہی کہا کہ وہ تلک کے طور پر دس لاکھ روپے نقد دے گا اور جہیز میں اتنا سامان دے گا جتنے کی اس کو توقع بھی نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ جتنے باراتی چاہے لائے لیکن ان کی تعداد پہلے سے بتا دے۔ وہ باراتیوں کی بھرپور خاطر و تواضع تو کرے گا ہی، ہر باراتی کو ایک ایک سونے کی انگوٹھی بھی دے گا۔(یہ ایک غیر مسلم خاندان کا ذکر ہے)۔ بہر حال رشتہ طے ہو گیا اور غالباً شرائط کے مطابق شادی بھی ہو گئی۔

ہم نے راوی سے پوچھا کہ کیا لڑکے کے اہل خانہ بہت مالدار ہیں یا لڑکا کسی بہت بڑے عہدے پر فائز ہے اور یہ کہ لڑکی کے والد نے اتنا سب کچھ کرنے کا وعدہ کیوں کیا۔ روای نے بتایا کہ در اصل لڑکی کے والد دولت مند تو ہیں لیکن لڑکی بڑی بدصورت ہے۔ دانت باہر کو نکلے ہوئے ہیں اور چہرہ غیر پرکشش ہے۔ لڑکی کے والد نے بہت علاج کرایا اور پلاسٹک سرجری تک کروائی لیکن چہرہ قبول صورت نہیں بن سکا۔ اسی لیے جو لوگ بھی دیکھنے آتے وہ مسترد کر دیتے۔ جہاں تک لڑکے کی بات ہے تو وہ لوگ مالدار نہیں ہیں۔ ہاں متوسط خاندان ہے۔ لڑکا ہائی اسکول پاس ہے اور ہفتے کے بازاروں میں جا کر گاؤں دیہات سے آنے والے ان غریبوں کا کلو دو کلو غلہ خریدتا ہے جو وہی غلہ بیچ کر اپنی ضرورت کا سامان خریدتے ہیں۔ (مقامی زبان میں اسے نَپَونہ کہتے ہیں اور مختلف افراد سے خریدا گیا غلہ ایک میں ملا دیا جاتا ہے اور پھر اسے بڑے بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے)۔

اس قسم کے واقعات اکثر و بیشتر سننے کو مل جاتے ہیں۔ خیر مذکورہ شادی میں تو باپ کے سامنے ایک مجبوری تھی اس لیے اس نے جہیز بھی خوب دیا اور باراتیوں کی خوب خاطر و تواضع بھی کی۔ لیکن ایسے لوگ جن کے سامنے کوئی مجبوری نہیں ہوتی وہ جب اپنی دولت مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے اور سماج پر اس کا غلط اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا دہلی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر جس پالیسی کا اعلان کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی شادیوں میں بے جا اصراف کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ شادیوں پر کم خرچ کریں اور بچی ہوئی رقوم سے ان لڑکیوں کی شادی کروائیں جو پیسے کی کمی کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں اور ان کی عمریں نکل جاتی ہیں۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Why we waste too much money on marriage in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.