منہاج انصاری کا قصور کیا تھا؟

سہیل انجم
22سالہ منہاج انصاری جھارکھنڈ کے جام تارہ ضلع میں نرائن پورہ کے دِگھاری گاؤں کا باشندہ تھا۔ وہ وہاٹس ایپ پر ایک گروپ چلاتا تھا۔ اس گروپ پر کسی نے کوئی قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا جو ہندوؤں کے خلاف تھا۔ جس پر ہنگامہ ہوا۔ پولیس نے دو اکتوبر کو منہاج کو گرفتار کر لیا۔ چار اکتوبر کو اسے میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور سات اکتوبر کو اس کی موت ہو گئی۔ جب موت ہوئی تو پولیس نے دعوی کیا کہ انسے فلائٹس (دماغی بخار) سے اس کی موت ہوئی ہے۔ لیکن جب اس کا پوسٹ مارٹ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ اس کی موت انسے فلائٹس سے نہیں بلکہ ٹارچر سے ہوئی ہے۔ پولیس حراست میں اس کو اس قدر زد و کوب کیا گیا کہ وہ مر گیا۔ جب اسے میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا تو اسے ایک دیوار سے لگا کر بٹھا دیا گیا تھا۔ اس کی گردن جھکی ہوئی تھی، آنکھیں بند تھیں اور اس کے چہرے پر ایک رومال ڈال دیا گیا تھا۔ اس کی پینٹ گیلی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پینٹ میں پیشاب ہو گیا ہے۔ اسی وقت صحافیوں کو یہ اندیشہ ہوا تھا کہ اس کے ساتھ پولیس نے اچھا سلوک نہیں کیا ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی اتنی پٹائی کی گئی ہے کہ وہ از خود چل پھر بھی نہیں سکتا۔ بغیر سہارے کے نہ تو کھڑا ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک قدم چل سکتا ہے۔ لیکن صحافیوں کے سوالوں کو پولیس نے ٹال دیا تھا اور اس کا اعتراف نہیں کیا تھا کہ اس کو مارا پیٹا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس کو گرفتاری کے بعد سے ہی کھانا پینا بھی نہیں دیا گیا تھا۔ منہاج کے ساتھ اور بھی کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان لوگوں کو پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کا دعوی تھا کہ اس نے جو مواد ہاٹس ایپ پر پوسٹ کیا تھا اس سے سماجی ہم آہنگی کو خطرہ ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
اب جبکہ اس کی موت کے سبب کا معلوم ہو گیا ہے تو پولیس نے ایک جانچ کمیٹی بنا دی ہے۔ اس کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر زبردست ہنگامہ ہے اور لوگ اسے پولیس مظالم سے تعبیر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ کیا منہاج کی میت کو بھی ترنگے میں لپیٹا جائے گا اور اس کے اہل خانہ کو بھی پچیس لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ خیال رہے دادری کے بساہڑہ گاؤں کے ایک غیر مسلم نوجوان روی کی موت جیل کے دوران اسپتال میں ہوئی تھی جو کہ اخلاق کے قتل کے سلسلے میں پکڑا گیا تھا۔ اس کے گاؤں والوں نے اس کی لاش کو ترنگے میں لپیٹا اور اس وقت تک اس کی آخری رسوم ادا نہیں کیں جب تک کہ حکومت کی جانب سے اس کے گھر والوں کو پچیس لاکھ روپے دینے کا اعلان نہیں کر دیا گیا۔ مرکزی وزیر ثقافت مہیش شرما نے اس گاؤں کا دورہ کیا تھا اور اس کے گھر والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا مہیش شرما منہاج کے گاؤں کا بھی دورہ کریں گے۔ خیال رہے کہ جھارکھنڈ ہی میں لاتیہار ضلع میں اسی سال مارچ میں دو مسلمانوں کو جو کہ جانور فروخت کرنے کے لیے ایک ہفتہ واری بازار جا رہے تھے، اس قدر مارا پیٹا گیا تھا کہ ان دونوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد دونوں کی لاشوں کو ایک درخت سے لٹکا دیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں کئی لوگ پکڑے گئے تھے جن میں سے کچھ نے قتل کا اعتراف کیا اور واقعہ کی دلدوز تفصیلات پیش کیں۔
جب سے سوشل میڈیا کا زمانہ آیا ہے وہاٹس ایپ اور فیس بک وغیرہ پر ایسی بہت سی چیزیں پوسٹ کی جا رہی ہیں جو سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ میل جول کے منافی ہوتی ہیں۔ کسی میں کیس دائر کر دیا جاتا ہے اور کچھ لوگوں کی گرفتاری ہو جاتی ہے اور بہت سے معاملات یوں ہی چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ بساہڑہ گاؤں میں موبائل کے ذریے ہی افواہ پھیلائی گئی تھی کہ محمد اخلاق کے گھر والوں نے گائے ذبح کی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مندر سے اعلان بھی کیا گیا تھا۔ چند سال قبل ممبئی کی ایک مسلم لڑکی کو اس لیے گرفتار کر لیا گیا تھا کہ اس نے فیس بک پر بال ٹھاکرے کے یوم انتقال پر چھٹی کیے جانے کی مخالفت کی تھی۔ حالانکہ بعد میں اس نے اپنا فیس بک اکاونٹ بند کر دیا تھا۔ اس واقعہ پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ اس سلسلے میں جو کارروائیاں ہوتی ہیں ان میں پولیس کے رول پر ہمیشہ سوال اٹھایا جاتا ہے۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ پولیس جانبداری کے ساتھ کام کرتی ہے اور کچھ معاملات میں بہت زیادہ تیزی دکھاتی ہے جبکہ بہت سے معاملات میں خاموش رہتی ہے۔ وہ اپنی پسند کے حساب سے کارروائی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کے ہنگامے کے دباؤ میں بھی آجاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی بہت سی قابل اعتراض اور نازیبا چیزیں پوسٹ کی جاتی ہیں لیکن ان واقعات میں یا تو کسی کی گرفتاری نہیں ہوتی یا ہوتی ہے تو بہت کم۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ پولیس ایسے معاملات میں ملزموں کو چھوٹ دیتی ہے اور دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کی جانب سے ایسے معاملات میں وہ ہنگامے نہیں کیے جاتے جو دوسرے لوگ کرتے ہیں۔
منہاج انصاری کا واقعہ پولیس کے غیر انسانی رویے کا بھی مظاہرہ کرتا ہے۔ آخر اس کو اس کا کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ اس کو زدو کوب کرے اور اس قدر کرے کہ اس کی جان ہی چلی جائے۔ کیا کسی ملزم کے ساتھ اس سلوک کی اجازت ہمارا قانون دیتا ہے۔ کیا پولیس کا کام سزا دینا ہے۔ اسے تو یہ معاملہ عدالت کے یا متعلقہ محکمے کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔ اگر منہاج انصاری نے غلطی کی تھی تو اسے قانون کے مطابق سزا ملتی۔ حکومت نے سائبر سیل بنا رکھا ہے اور سائبر قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔ ان قوانین کی پابندی کیوں نہیں کی گئی۔ پولیس نے اس کے ساتھ خونخوار مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا۔کیا کوئی گروپ چلانا خلاف قانون ہے اور اگر ہے تو کیا اس کے ذمہ دار کو پولیس موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی خبر نہیں آئی ہے کہ منہاج کی موت کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہو۔ پولیس آخر اس قدر غیر انسانی رویے کا مظاہرہ کیوں کرتی ہے۔ کیا قابل اعتراض پوسٹ اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے جھارکھنڈ میں فساد ہو گیا تھا، لوگ مرنے لگے تھے یا امن و امان کو کوئی نقصان پہنچا تھا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی پولیس نے جانوروں جیسا سلوک کیا۔ پولیس کی جانبداری کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ وہ سیاسی شخصیات کے آگے جھک جاتی ہے اور یہاں تک کہ اگر سماج دشمن عناصر بھی کسی واقعہ کو مذہبی رنگ دے کر اس کے خلاف کوئی ہنگامہ برپا کر دیں تو وہاں بھی پولیس ان کے دباؤ میں آجاتی ہے۔ لیکن جن معاملات میں اس قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہوتی ان میں پولیس شیر بن جاتی ہے اور وہ کچھ کرنے لگتی ہے جس کی اجازت نہ تو قانون دیتا ہے اور نہ ہی سماج۔ سوال یہ ہے کہ کیا منہاج کو انصاف مل پائے گا اور کیا ان پولیس والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی جو اس کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ کیا جھارکھنڈ کی حکومت اس جانب توجہ دے گی اور قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Why minhaj ansari was arrested and beaten in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply