میانمار کے بعد سری لنکا میں بھی مسلم بودھ تصادم

سہیل انجم

میانمار کے بعد سری لنکا میں بھی مسلم بودھ تصادم شروع ہو چکا ہے۔ لیکن وہاں کی حکومت میانمار کی مانند خاموش تماشائی نہیں ہے۔ اس نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی ہے تاکہ اس تشدد کو روکا جا سکے۔ سری لنکا تین نسلی آبادیوں والا ملک ہے۔ وہاں اکثریت سنہالا بودھوں کی ہے جو کہ ملک میں مجموعی آبادی دو کروڑ تیس لاکھ کا 75 فیصد ہیں۔ دوسری بڑی آبادی تملوں کی ہے۔ وہ کل آبادی کا 11 فیصد ہیں۔ مسلمان سب سے چھوٹی اقلیت ہیں۔ ان کی آبادی 9 فیصد سے کچھ زائد ہے۔ یہ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار ہیں۔ ظاہر ہے اب کچھ تھوڑی بہت تبدیلی اس میں آئی ہوگی۔ بودھ مہاتما بدھ کے پیروکار ہیں جو کہ عدم تشددکے علمبردار تھے۔ ہندوستان میں بھی اس مت کے ماننے والوں کی خاصی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ جاپان سمیت دوسرے ملکوں میں بھی وہ پائے جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں امن و امان کی صورت حال اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب وہاں کے تمام فرقے نہ صرف یہ کہ بقائے باہم کے جذبے کے ساتھ رہیں بلکہ ایک دوسرے کے مذہبی اور سماجی جذبات کا احترام بھی کریں۔ اس حوالے سے جہاں اکثریت پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے وہیں اقلیت پر بھی عاید ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک میں خواہ وہ ہندوستان ہو یا کوئی دوسرا ملک، اقلیتوں کو بہت ہی محتاط انداز میں اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔ اقلیتوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ چونکہ ان کی تعداد کم ہے اس لیے ان پر قانون کی پابندی واجب نہیں ہے یا وہ جو چاہیں انسانی حقوق کے نام پر کر سکتے ہیں۔ انسانی حقوق سب کے ہوتے ہیں۔ اقلیتوں کے بھی اور اکثریت کے بھی۔ ہر شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام کرے۔ اگر کوئی شخص اپنے ایسے مذہبی فریضے کی انجام دہی کھلے عام کرتا ہے جو دوسرے مذاہب میں ناپسندیدہ ہے یا جس کی اجازت نہیں ہے تو یہ غلط بات ہے۔ ممکن ہے کہ سری لنکا میں اقلیتوں کے ہاتھوں اکثریت کے جذبات مجروح ہوئے ہوں اور انھوں نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہوں۔ اس لیے ہم یہ شروع ہی میں عرض کر دینا چاہتے ہیں کہ وہاں تشدد کے جو بھی واقعات ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں ان کی غیر جاندارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور جو لوگ قصوروار پائے جائیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
حالیہ دنوں میں تشدد کا آغاز بودھوں اور مسلمانوں کے مابین جھڑپ میں ایک بودھ کی موت کے بعد ہوا۔ ایک مسلمان بھی ایک ایسے مکان میں مردہ پایا گیا جس پر بودھوں نے حملہ کیا تھا۔ سری لنکا میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں۔ ایک کینڈی اور دوسرا امپارا۔ دونوں مذاہب کی عبادت گاہیں نذر آتش کی گئیں اور ان پر حملے کیے گئے۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی 7 مارچ کی اشاعت میں نروپما سبرامنیم کا ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے۔ انھوں نے بودھوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کو اکثریتی زعم کا تشدد قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق جب سابق صدر ہیندا راجہ پکشا کے زمانے میں ایل ٹی ٹی ای کی فوجی شکست ہوئی اور اس کی بغاوت کا خاتمہ ہوا تو بودھوں کے بعض گروپ کھل کر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت پھیلانے لگے۔ ان میں بودو بالا سینا(بی بی ایس)، سنہالا روایا، سنہالا اور مہاسن بلایا شامل ہیں۔ اول الذکر کا قیام 2012 میں ہوا تھا۔ اسی سال بودھ مذہبی رہنماؤں نے دمبولا میں یہ کہہ کر ایک مسجد تباہ کر دی تھی کہ یہ بودھ مذہبی علاقے کی خلاف ورزی ہے۔ 2013 میں مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 2014 میں کلوتارہ میں ایک تصادم کے دوران چار افراد ہلاک اور 80زخمی ہوئے تھے۔ اسی درمیان بی بی ایس نے حلال اور برقعہ کے خلاف مہم شروع کر دی۔ جس مذہبی رہنما نے اس کا قیام کیا تھا اس نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کیں۔ مسلمانوں کی ایک تنظیم سکریٹریٹ فار مسلم نے 2013 سے 2015 کے درمیان 538مسلم مخالف فسادات کی تفصیل تیار کی ہے۔ عیسائیوں کے خلاف بھی متعدد واقعات ہوئے ہیں۔ لیکن جب 2016 کے اواخر میں صدارتی انتخاب میں راجہ پکشا کی شکست ہو گئی تو ان واقعات میں کمی آگئی۔ لیکن جب ایل ایل ٹی ٹی ای کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد شمالی سری لنکا کے وہ بہت سے مسلمان جو اس دوران بے گھر ہو گئے تھے اپنے گھروں کو لوٹے اور اپنی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو پھر بودھوں کی جانب سے تشدد شروع کر دیا گیا۔ 2017 کے اپریل اور مئی میں پورے سری لنکا میں متعدد ہنگامے ہوئے۔ جہاں مسلمانوں کی واپسی کی مخالفت کی گئی وہیں روہنگیا مسلمانوں کے وہاں پہنچنے کی بھی مخالفت کی گئی۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ایک سیف ہاوس پر جہاں روہنگیا پناہ گزیں تھے حملہ کیا گیا۔ جب روہنگیا مسلمانوں نے سری لنکا کے ساحل پر زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو بحریہ کے جوانوں نے انھیں گرفتار کر لیا۔ سیف ہاوس پر جس گروپ نے حملہ کیا تھا اس کا الزام ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار میں بودھوں کو ہلاک کیا ہے۔
اس سے قبل بودھوں اور مسلمانوں کے مابین ٹکراؤ کا ثبوت 1915 میں ملتا ہے۔ وہاں کے مسلمانوں کی زبان تمل ہے۔ بیشتر مسلمان تجارت کرتے ہیں۔ لیکن عام طور پر حالات پرامن ہی رہے ہیں۔ نروپما سبرامنیم کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تصادم مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نے وہاں اپنی سیاسی جماعت بنائی یا دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا اور انھیں کامیابی بھی ملی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سنہالا آبادی کی جانب سے ان کے خلاف ماحول بنایا گیاہے۔ مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اپنا کوئی الگ سیاسی گروپ بنانے سے احتراز کرتے اور سرے سے سیاست سے ہی دور رہتے۔ جب وہاں ان کی آبادی محض 9 فیصد ہے تو پھر انھیں سیاسی چکروں میں نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ ممکن ہے کہ ان واقعات کے دوران مسلمانوں کی جانب سے جذباتی سرگرمیاں بھی شروع کی گئی ہوں۔ ان کو چاہیے کہ وہ بودھوں کے مذہبی جذبات کا احترام کریں اور ان کے ان علاقوں میں جہاں مسجدوں کی تعمیر ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہو، مسجدوں کی تعمیر سے گریز کریں۔
اس وقت پوری دنیا کے حالات مسلمانوں کے تعلق سے بہت مخدوش ہیں۔ بیشتر مسلم ملکوں میں تشدد یا پھر جنگ کی کیفیت ہے۔ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں بھی حالات ان کے موافق نہیں ہیں۔ ان حالات میں ان کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں جو ان کے لیے اور دنیا کے دیگر ملکوں کے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرے۔ مسلمانوں کے پاس رونے کے لیے غموں کی کمی تو نہیں ہے کہ ایک اور دلخراش داستان تحریر کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر سری لنکا کے مسلمانوں نے ہوش مندی سے کام نہیں لیا تو ملت اسلامیہ کے خلاف ایک اور محاذ کھل جائے گا۔ ابھی تو وہاں کی حکومت نے سختی کرکے حالات کو اپنی گرفت میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن کب تک۔ جب وہاں 75 فیصد سنہالی ہیں تو پھر ان کے جذبات کب تک نہیں بھڑکیں گے۔ اس لیے سری لنکا کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عقل و شعور سے کام لیں اور اکثریت کے ساتھ مل کر رہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ بینر اور پوسٹر لے کر سڑکوں پر نہ نکل آئیں اور سری لنکا حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ نہ شروع کر دیں۔ نہ صرف سری لنکا بلکہ ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ حکمت عملی سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کریں جذباتیت سے نہیں۔

sanjumdelhi@gmail.com

Title: why anti muslims attacks in sri lanka have shades of myanmar | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply