پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات: یو پی جائے گا کس کے ساتھ؟

سہیل انجم
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ یہ ریاستیں ہیں: اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، منی پور اور گوا۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی، اتراکھنڈ اور منی پور میں کانگریس، پنجاب میں بی جے پی اکالی دل اور گوا میں بی جے پی برسراقتدار ہیں۔ یوں تو ان تمام ریاستوں کی اپنی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت ہے لیکن اترپردیش کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد پنجاب ایک اہم ریاست ہے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ اور دوسری ریاستوں کا نمبر آتا ہے۔ اترپردیش سب سے بڑی ریاست بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ ریاست ہے جہاں سے ہوکر دہلی کا راستہ گزرتا ہے۔ اگر دہلی پر قابض ہونا ہے تو اس ریاست کو فتح کرنا ہوگا۔ حالانکہ اب حالات کچھ بدل گئے ہیں۔ پھر بھی مرکزی سطح پر ا س کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک طویل عرصے سے کانگریس اور بی جے پی اقتدار سے باہر ہیں۔ علاقائی جماعت سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں مسلمانوں نے تقریباً اجتماعی طور پر سماجوادی پارٹی کو ووٹ دیا تھا جس کے نتیجے میں خلاف توقع سماجوادی پارٹی کو زبردست اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے علی الاعلان کہا تھا کہ ان کی شکست اس لیے ہوئی ہے کہ مسلمانوں نے ان کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا۔ اس بار صورت حال بڑی غیر یقینی ہے۔ غیر یقینی اس لیے کہ برسراقتدار سماجوادی میں پارٹی پر قبضے کی لڑائی چل رہی ہے۔ تادم تحریر مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ ایس پی کا ایک دھڑا ملائم کی قیادت میں ہے تو دوسرا وزیر اعلی اکھلیش کی قیادت میں ہے۔ اگر ان میں مصالحت ہو بھی جاتی ہے تب بھی سماجوادی کی پوزیشن وہ نہیں رہنے والی ہے جیسی کہ سابقہ الیکشن میں تھی۔ ا س کی متعدد وجوہات ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ اس کی آپسی لڑائی ہی ہے۔ اس لڑائی نے اگر چہ یہ صاف کر دیا ہے کہ ترقی میں یقین رکھنے والے اور صاف ستھری حکومت چاہنے والے اکھلیش کے ساتھ ہیں پھر بھی اس سے پارٹی کا زبردست نقصان ہونے والا ہے۔ اس کا احساس اکھلیش سنگھ کو بھی ہے۔ لیکن وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس میں ان کی نظر فوری الیکشن پر کم اور آگے کی سیاست پر زیادہ ہے۔ وہ اپنے والد کی چھتر چھایہ سے نکل کر اپنی ایک الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہیں۔
بی ایس پی لیڈر مایاوتی ایک تجربہ کار سیاست داں ہیں۔ حالات پر ان کی گہری نظر ہے۔ انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ سماجوادی پارٹی میں جو کچھ چل رہا ہے اس سے اگر کسی طبقے میں بہت زیادہ کنفیوژن ہے تو وہ مسلمانو ںکا طبقہ ہے۔ اکھلیش حکومت کے ایک طاقتور مسلم وزیر اعظم خان نے بھی یہ بات کہی ہے اور کہا ہے کہ اگر مصالحت نہیں ہوتی ہے تو مسلمانو ںکا بڑا نقصان ہوگا۔ مایاوتی نے اس صورتحال پر نظر جماتے ہوئے مسلم ووٹوں کی کاشت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تقریباً ایک چوتھائی ٹکٹ مسلمانوں کو دیے ہیں۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ مسلمان بی جے پی کے قریب نہیں جائے گا۔ کانگریس سے وہ اب بھی ناراض ہے اور اسے ووٹ دے کر اپنا ووٹ برباد کرنا نہیں چاہتا۔ مجلس اتحاد المسلمین کوئی زیادہ اثر نہیں دکھا پائے گی۔ مسلمانو ںکا بہت بڑا طبقہ اسد الدین اویسی کی سیاست کو پسند نہیں کرتا۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ مسلم ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اسی طرح پیس پارٹی بھی ہے۔ وہ بھی جذباتی بنیاد پر مسلمانو ںکے ووٹ کاٹے گی۔ لہٰذا اگر کوئی پارٹی بچتی ہے تو وہ بی ایس پی ہے۔ اسی لیے وہ زیادہ مسلم امیدوار اتار رہی ہیں۔ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ سماجوادی پارٹی میں چل رہی لڑائی کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے الیکشن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اسے ووٹ دیا تھا۔ لیکن اس بار کیا ہوگا کہا نہیں جا سکتا۔ ان کے خیال میں یہ لڑائی نقصاندہ ہے۔ سماجوادی کے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے بھی۔ اگر اکھلیش تن تنہا اور اپنے والد کے سائے سے الگ ہو کر الیکشن لڑتے ہیں تو مسلمانوں کی بڑی تعداد ان کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔
بی جے پی کو ان تمام باتوں کا احساس ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا جو بزعم خویش بڑا تاریخی قدم اٹھایا تھا اس کا فائدہ ان انتخابات میں اسے ہوگا۔ لیکن یو پی میں سماجوادی کی لڑائی کا بھی وہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ابھی تک جو سروے آئے ہیں ان میں سے ایک میں بی جے پی کو اکثریت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ جبکہ دوسرے سروے میں کسی کو بھی اکثریت نہیں مل رہی ہے۔ البتہ اگر اکھلیش تنہا الیکشن لڑتے ہیں تو ان کا گروپ سب سے بڑا گروپ بن کر ابھر سکتا ہے۔ سروے نتائج میں ایک بار پھر کانگریس کی حالت خراب ہے۔ اسے پچھلی مرتبہ سے بھی کم سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ حالانکہ راہل گاندھی نے جو کسان یاترا نکالی تھی اس میں ان کو بڑا عوامی سپورٹ ملا تھا۔ لیکن یہ سپورٹ ووٹ میں بھی بدلے گا کہا نہیں جا سکتا۔ کانگریس کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والے پرشانت کشور لگے ہوئے ہیں۔ اسی درمیان یہ آوازیں بھی اٹھتی رہتی ہیں کہ اکھلیش یادو اور کانگریس میں انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے۔ پرشانت پہلے سے ہی اس کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اکھلیش بھی اس کے حق میں ہیں۔ ان کی صاف ستھری امیج کے پیش نظر اگر اتحاد ہوتا ہے تو اس کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن سب سے زیادہ جوش میں بی جے پی کے لوگ ہیں۔ وہ خاموشی کے ساتھ سماجوادی کی لڑائی دیکھ رہے ہیں۔ ان کی خوشیوں کا اس لیے ٹھکانہ نہیں ہے کہ اس سے ان کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لیکن بی جے پی کے پاس کوئی ایسا چہرہ نہیں ہے جو عوام میں مقبولیت رکھتا ہو یا جس کی بنیاد پر وہ عوام سے ووٹ مانگ سکے۔ اس لیے اس نے وہاں وزیر اعظم نریند رمودی کے چہرے پر ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ اسے اس کا نقصان بھی ہو چکا ہے۔ کم از کم بہار میں تو ہوا ہی ہے۔ وہاں ایک تو کوئی چہرہ نہیں اتارا گیا تھا دوسرے وہاں مہا گٹھ بندھن ہو گیا تھا۔ یو پی کا منظرنامہ وہاں سے الگ ہے۔ یہاں گٹھ بندھن کی بات تو پہلے چلی تھی لیکن درمیان میں ایس پی کی آپسی لڑائی آگئی۔ اس لیے اب یو پی میں مہاگٹھ بندھن کا امکان سرے سے معدوم ہو گیا ہے۔ جبکہ یہ بڑا اچھا موقع تھا۔ ہم خیال سیکولر پارٹیاں عظیم اتحاد کرکے بی جے پی کو اقتدار سے دور کر سکتی تھیں۔ لیکن جب عقل ماری جاتی ہے تو اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ بی جے پی نے ابھی حالیہ مہینوں میں جو پریورتن ریلیاں کی ہیں ان میں عوام کی خاصی تعداد نظر آتی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بھیڑ میں کوئی جوش دکھائی نہیں دیا۔ کیونکہ وہ کرائے کی بھیڑ ہوتی تھی۔ ابھی یو پی میں جو ریلی ہوئی تھی اور جس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا مجمع نہیں دیکھا تو بعد میں راز کھلا کہ اس میں بھی پڑوسی ریاستوں سے کرائے پر لوگوں کو بلایا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جتنے پیسے دے کر لوگوں کو بلایا گیا تھا ریلی کے بعد اتنے پیسے نہیں دیے گئے جس سے لوگوں میں ناراضگی ہے۔ بہر حال یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یو پی میں بی جے پی سماجوادی کی لڑائی کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ بی جے پی کے لوگوں میں اتنا جوش ہے کہ وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یو پی میں ان کی حکومت بن گئی ہے۔ لیکن جو لوگ عوام میں کام کرتے ہیں اور ممبران اسمبلی ہیں وہ عوام کے درمیان جانے سے ڈر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے جس طرح لوگوں کو پریشانی ہوئی ہے اور اب بھی کیش کا مسئلہ ہے ان حالات میں وہ عوام کے درمیان کیسے جائیں۔ بی جے پی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے کانپور میں مودی کی ریلی سے قبل وہاں کے اے ٹی ایم میں پیسے ڈال دیے گئے تھے ویسے ہی الیکشن قریب آتے آتے پورے یو پی میں پیسے پہنچا دیے جائیں گے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ یو پی کانپور نہیں ہے۔ بہت بڑی ریاست ہے۔ نوٹ بندی سے جو نقصانات ہوئے ہیں اور جو پریشانیاں ہوئی ہیں ان کے اثرات تادیر قائم رہیں گے اور ممکن ہے کہ عوام اس کا بدلہ لیں۔
بہر حال پانچ ریاستوں کے انتخابات کی بڑی اہمیت ہے۔ ان انتخابات کے نتائج صرف یہیں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے دوررس اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ 2019 میں ہونے والے پارلیمانی الیکشن پر بھی ان کے اثرات پڑیں گے۔ اسی لیے خاص طور پر بی جے پی یو پی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس الیکشن سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ نوٹ بندی کو لوگوں نے پسند کیا ہے یا نہیں۔ اگر بی جے پی کی کسی وجہ سے کامیابی ہوگئی تو اس کی جانب سے یہی کہا جائے گا کہ عوام نے نوٹ بندی کی توثیق کر دی ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Which political party is supposed to win up in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply