جب انسانیت چیخ اٹھی

سہیل انجم
ایک بار ہم نے اسی کالم کے تحت لکھا تھا کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن وہ وقتاً فوقتاً اپنے اعمال قبیحہ سے یہ ثابت کرتا رہتا ہے کہ وہ اشرف الحیوانات بھی ہے۔ وہ ایسی غیر انسانی حرکتوں کا بھی ارتکاب کرتا ہے جو کسی جانور سے تو متوقع ہو سکتی ہیں لیکن کسی انسان سے نہیں۔ وہ یہ بھی ثابت کرتا رہتا ہے کہ وہ اگر چہ حضرت آدم کی اولاد ہے لیکن وہ ان کے بدترین دشمن شیطان کی بھی اولاد ہے۔ شیطان نے اگر حضرت آدم سے دشمنی کی تھی تو اس نے ان کی اولاد کو بھی اپنا دشمن مانا ہے اور اس کو راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کا انسان اپنے کرتوتوں سے شیطان کو بھی خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ آج انسانوں نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور وہ سیاروں پر بھی آباد ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے لیکن در حقیقت ذہنی طور پر وہ اب بھی پستی ہی کا باسی ہے اور اپنی پست ذہنیت کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک ایسا واقعہ دنیا کے سامنے آیا ہے جس نے انسانوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے اور مہذب دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہو رہی ہے کہ کیا ایسا قبیح فعل بھی کرنے کی ہمت کوئی کر سکتا ہے۔یہ واقعہ دنیا کے سب سے مہذب اور قدیم ترین جمہوریت امریکہ کا ہے۔طبی دیکھ بھال کے ایک مرکز Hacienda HealthCare facility فینیکس اریزون میں ایک 29 سال خاتون کے یہاں جو کہ 14 برسوں سے کومہ میں تھی، ایک بچے کی ولادت ہوئی۔ ولادت 29 دسمبر کو ہوئی ہے۔ اس حاتون کی پیدائش 1989 میں ایک قبائلی مگر تعلیم یافتہ خاندان میں ہوئی تھی اور غالباً تین برس کے بعد ہی وہ بیمار ہو گئی اور اسے اس طبی مرکز میں داخل کرنا پڑا۔ علاج کے دوران وہ کومہ میں چلی گئی۔ وہ چودہ برسوں سے کومہ میں تھی۔ کومہ بیہوشی کی ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان کے حواس زندہ رہتے ہیں لیکن وہ عملاً ایک مردہ شخص کی مانند ہوتا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد کہ کومہ میں پڑی ایک خاتون نے ایک بچہ جنا ہے، طبی مرکز میں سنسنی دوڑ گئی۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ مرکز کے اسٹاف کو اس کے حاملہ ہونے کا علم تھا یا نہیں۔ اس کے اہل خانہ کو جب اس کا علم ہوا تو انھوں نے بجا طور پر اس پر زبردست ہنگامہ کیا اور اب پولیس ا س کیس کی جانچ کر رہی ہے۔
اس نرسنگ ہوم میں کافی لوگ کام کرتے ہیں جن میں مرد و خواتین دونوں ہیں۔ مذکورہ خاتون جس کمرے میں تھی اس میں اکثر و بیشتر لوگوں کا آنا جانا ہوتا تھا۔ جن میں تشخیص کرنے والے ڈاکٹر، نرس، جینیٹل اسٹاف اور دوسرے کام کرنے والے بھی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس خاتون کے ساتھ کس نے جنسی زیادتی کی۔ مقامی پولیس جانچ کر رہی ہے۔ خاتون کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ جانچ کرنے والے پولیس دستہ نے مردوں سے ان کا ڈی این اے نمونہ لیا ہے تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ اس گھناونی حرکت کا ارتکاب کس نے کیا۔ مرکز کے چیئرمین نے اس واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ طبی مرکز کی جانب سے ایک بیان جاری کرکے کہا گیا ہے کہ ہم اس صورت حال سے مکمل طور پر واقف ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحقیقات کاروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ہم مرکز میں داخل مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس طبی مرکز میں حفاظتی انتظامات اور سخت کیے جائیں اور اگر کوئی مرد ڈاکٹر یا کوئی بھی مریضوں کے پاس جائے تو وہ تنہا نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ دوسرا کوئی اور شخص بھی ہو۔ اس واقعہ کے خلاف زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔ آن لائن احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ نرسنگ ہوم کی انتظامیہ اسے صرف ایک ممکنہ جنسی زیادتی کا معاملہ کیوں تصور کر رہی ہے۔ وہ اسے عصمت دری کا کھلا معاملہ کیوں نہیں تصور کر تی۔ یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ایک مریضہ جو کہ چودہ برسوں سے کومہ میں تھی حاملہ ہو جاتی ہے اور اسٹاف کو پتا ہی نہیں چل پاتا۔ کیا کسی کو ا س کی جسمانی ساخت یا جسمانی تبدیلی کے بارے میں اندازہ ہی نہیں ہو سکا۔ آخر اس کا علاج کرنے والے اتنے لاپروا کیسے ہو سکتے ہیں۔ بات معقول ہے۔ کیونکہ جب وہ کومہ میں تھی تو اس کی ضروریات اسٹاف کے لوگ ہی خاص طور پر خاتون نرسیں ہی پوری کرتی ہوں گی۔ اس کو نہلانا دھلانا، ا س کے کپڑے تبدیل کرانا اور دیگر ضرورت بھی۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نرسوں کو اس کے حاملہ ہونے کا علم ہی نہ ہو سکے۔ یہ قطعی طور پر ناممکن ہے۔ اس لیے یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں ضرور کچھ چھپایا جا رہا ہے۔ ممکن ہے کہ نرسوں کو کچھ معلوم رہا ہو مگر انھوں نے اپنی زبان بند رکھی ہو۔ یا تو ان لوگوں کو خوف زدہ کیا گیا ہ یا پھر لالچ دی گئی ہو کہ وہ اس کو راز میں رکھیں اور ملزم کا نام ظاہر نہ کریں اور یہ بھی کسی کو نہ بتائیں کہ مریضہ حمل سے ہے۔
اگر ایسا کچھ ہے تو پھر نرسوں کی بھی جانچ ہوگی۔ ظاہر ہے ان لوگوں سے بھی پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ مرد اسٹاف سے بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ تاکہ اس معاملے کے تمام پہلو سامنے آسکیں اور یہ پتا لگایا جا سکے کہ واقعتاً ایسا کیسے ہوا۔ ظاہر ہے مریضہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔ اس کے بغیر تو وہ حاملہ ہو نہیں سکتی۔ کچھ لوگ اسے Mee Too کا معاملہ بھی بتا رہے ہیں۔ اب اسے Mee Too کا معاملہ کہا جائے یا اسے جو بھی نام دیا جائے لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ مریضہ کے ساتھ گڑ بڑ ہوئی ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ اگر کسی شخص نے اس خاتون کے ساتھ اپنی ہوس کی آگ بجھائی ہے تو یہ کیسے ممکن ہوا۔ کیا اس پر شیطانیت اس قدر سوار تھی کہ اسے اس کا ہوش نہیں رہا کہ وہ کسی انسان کے ساتھ یہ قبیح حرکت کر رہا ہے یا کسی زندہ لاش کے ساتھ۔ کومہ میں رہنے والا انسان تو زندہ لاش ہی ہوتا ہے۔ آخر اس شخص کو اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ ایسی غلیظ حرکت کرے۔ ممکن ہے کہ وہ ام الخبائث کے زیر اثر رہا ہو یعنی شراب کے نشے میں دھت رہا ہو اور اس کو اس کا ہوش ہی نہیں رہا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ ظاہر ہے اس قسم کی حرکت تو کوئی شیطان ہی کر سکتا ہے انسان نہیں۔ کسی ذہن و دماغ رکھنے والے انسان سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس شخص نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ معنوی طور پر شیطان ہی کی اولاد ہے۔ اسے انسان کی اولاد کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس شخص کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔ لیکن اس واقعہ نے اس ترقی یافتہ دور میں انسانوں کی ذہنی پستی کا ایک اور ثبوت پھر فراہم کر دیا ہے۔ہندوستان میں بھی تقریباً اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ممبئی کے ایک اسپتال میں ارونا شان باگ نامی ایک نرس کام کرتی تھی۔ ایک روز اسے تنہا پا کر اسپتال کے ایک صفائی ملازم نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی، اس کی آبروریزی کی۔ اس واقعہ کے بعد وہ خاتون کومہ میں چلی گئی۔ چالیس برسوں تک کومہ میں رہنے کے بعد اس کا انتقال ہوا۔ وہ اس پوری مدت میں اسپتال ہی میں رہی۔ وہاں کی نرسوں نے اس کی دیکھ بھال کی اور جب اس کا انتقال ہوا تو پورے اسٹاف کو یوں لگا کہ ان کے گھر کے کسی فرد کا انتقال ہوا ہے۔ انسان ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ کہاں وہ درندہ جس نے اس کی عصمت دری کی اور کہاں اس کی دیکھ بھال کرنے والا اسٹاف۔ بہر حال امریکہ کا یہ واقعہ ممبئی کے اس واقعہ سے بھی بھیانک ہے اور مجرم کو اس کی عبرت ناک سزا ملنی چاہیے۔ تاکہ آئندہ کسی کو ایسی کسی حرکت کی جرا¿ت نہ ہو سکے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: When humanity gets ashamed in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.