کیا ہوگا 17 نومبر کے بعد؟

سہیل انجم

چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے ایک بار پھر بابری مسجد اور رام مندر کے فریقوں کو یاد دلایا ہے کہ وہ 18 اکتوبر تک اپنے دلائل مکمل کر لیں۔ اس کے بعد چار ہفتے درکار ہوں گے فیصلہ لکھنے کے لیے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر چار ہفتوں میں فیصلہ لکھا گیا تو یہ ایک کرشمہ ہوگا۔ یعنی یہ معاملہ اتنا پیچیدہ اور دو بڑے مذاہب کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات سے وابستہ ہے کہ اس کا فیصلہ لکھنے میں جج حضرات کے پسینے چھوٹ جائیں گے۔ یوں تو سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہا ہے وہ حق ملکیت کا ہے اور یہ فیصلہ دینا ہے کہ در اصل وہ زمین کس کی ہے۔ مسلمانوں کی ہے یا ہندوؤں کی ہے۔ لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے۔ اس سے بہت آگے تک جا چکی ہے۔ اگر یہ صرف حق ملکیت کا تنازعہ ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی۔ یہ تو مذہبی جذبات کا معاملہ بن گیا ہے۔ اور وہ بھی ہندوؤں کے سب سے پوجنیہ شری رام جی کی جائے پیدائش کا معاملہ ہے۔ ہندووں کے لیے یہ آستھا کا معاملہ تو ہے ہی غالباً سب سے بڑا مذہبی معاملہ بھی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جہاں بابری مسجد کی تعمیر کی گئی تھی وہاں ایک رام مندر تھا یا کم از کم وہاں رام پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے وہاں رام جی کا مندر بننا چاہیے۔ جبکہ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ نہیں وہاں کوئی مندر نہیں تھا۔ نہ ہی وہ رام جی کی جائے پیدائش ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہیں رام جی پیدا ہوئے تھے۔ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے ایک خالی قطعہ آراضی پر مسجد کی تعمیر کی تھی۔ اسلام میں مسجد کو ایک کلیدی کردار حاصل ہے۔ اگر بات صرف مسجد یا مندر کی ہوتی تو بھی شاید اتنا پیچیدہ معاملہ نہیں ہوتا۔ بات اس سے بہت آگے جا چکی ہے۔ اس لیے چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ اگر چار ہفتوں میں فیصلہ لکھا گیا تو کرشمہ ہوگا بالکل بجا ہے۔ یاد رہے کہ رنجن گوگوئی 18 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس سے قبل فیصلہ سنا دیا جائے۔ بات درست بھی ہے۔ جب ایک ماہ سے بھی زائد عرصے سے یومیہ سماعت چل رہی ہے تو اسے منطقی انجام تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔

یوں تو کہنے کو 17 نومبر سے قبل اس مقدمے کا فیصلہ آجائے گا لیکن ذرا سوچئے کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ ابھی تک عدالت عظمیٰ میں جو بحث چلی ہے اور جس طرح جج حضرات ہندو اور مسلم فریقوں کے وکلا سے سوالات کر رہے ہیں اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عدالت ہر حال میں اس کا فیصلہ سنانا چاہتی ہے۔ لیکن فیصلہ کیا ہوگا۔ کیا عدالت دستاویزات اور کاغذی ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ سنائے گی یا اس میں ہندووں کی آستھا کا بھی کوئی عمل دخل ہوگا۔ اگر ہم جج حضرات کے ذریعے مسلم وکلا سے کیے جانے والے سوالات اور ہندو گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ان کے تبصروں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح بہر حال آستھا کا بھی عمل دخل رہ سکتا۔ اس کے علاوہ جج حضرات بھی اس کی حساسیت اور نزاکت سے واقف ہیں۔ انھیں بھی معلوم ہے کہ یہ دو بڑے فرقوں کے مذہبی جذبات کا معاملہ ہے۔ ان کو یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ سنایا گیا تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن چونکہ عدالتوں کا کام جذبات کو دیکھنا نہیں بلکہ حقائق کو دیکھنا ہوتا ہے اور متعدد مقدمات میں دیکھا گیا ہے کہ عدالت کچھ اور فیصلہ سنانا چاہتی ہے لیکن گواہوں اور ثبوتوں کی وجہ سے یا ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے اسے کچھ اور فیصلہ سنانا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ امید کی جانی چاہیے کہ جرح کے دوران جج حضرات کچھ بھی کہیں یا کسی بھی قسم کا سوال کریں لیکن وہ ثبوتوں، گواہیوں اور دستاویزات کی بنیاد پر ہی فیصلہ سنائیں گے۔ ہندو فریقوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ان کے حق میں شواہد ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کس فریق کے شواہد پختہ ہیں اور کتنے مضبوط ہیں۔

بہر حال 17 نومبر سے قبل اس انتہائی حساس اور نازک مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا ہے۔ لیکن اگر فیصلہ مکمل طور پر کسی ایک فریق کے حق میں آیا تو کیا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر مندر کے حق میں فیصلہ سنایا گیا تو جہاں پورے ملک کے مسلمانوں میں زبردست پژمردگی چھا جائے گی اور ان کی شدید قسم کی حوصلہ شکنی ہوگی وہیں ہندووں کے ایک طبقے کے جذبات ابال کھانے لگیں گے۔ اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ مندر کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد ہندو تنظیموں کے کارکن پورے ملک میں وجے جلوس نہ نکالیں۔ جلوس اور مارچ کے دوران اشتعال انگیز نعرے نہ لگائے جائیں۔ اگر ایسے جلوسوں پر کسی نے ایک پتھر بھی پھینک دیا تو فسادات کا ہونا لازمی ہے۔ دوسری طرف اگر مسجد کے حق میں فیصلہ سنایا گیا تو ہندوؤں کے جذبات مشتعل ہو جائیں گے۔ رام مندر کی تعمیر کا شور اس قدر بلند کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ سننے کے لیے کوئی بھی ہندو تیار نہیں ہوگا۔

ابھی جبکہ مقدمہ کی سماعت چل رہی ہے، بی جے پی اور آر ایس ایس رہنماؤں کی جانب سے بار بار مندر تعمیر کی بات کی جا رہی ہے۔ تاریخوں تک کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ فلاں تاریخ سے مندر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ نیوز چینلوں پر کہا جا رہا ہے کہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ آرہا ہے اور عدالت مندر کے حق میں فیصلہ سنانے والی ہے اور یہ دیوالی رام مندر دیوالی ہوگی۔ ایسی صورت میں اگر مسجد کے حق میں فیصلہ آگیا تو کیا ہوگا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر مسجد کے حق میں فیصلہ آیا تو کیا وہاں مسجد کی تعمیر اب ممکن ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے فوری بعد ہی وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا ہے جس میں شب و روز پوجا چل رہی ہے۔ اس سے ہندوؤں کا عقیدہ اور پختہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا اگر مسجد کے حق میں فیصلہ ہوا تو وہاں مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری کون لے گا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس جگہ پر اب مسجد کی تعمیر ناممکن ہے۔ صرف اس جگہ نہیں بلکہ اس کے آس پاس بھی مسجد نہیں بن سکتی۔ تو سوال یہ ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد کیا ہوگا۔ کیا لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ ظاہر ہے یہ صورت حال حکومت کے سامنے بھی ہوگی اور اگر نہیں ہے تو ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اسے امن و قانون کی برقراری کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ تاکہ فیصلہ کسی کے بھی حق میں آئے ملک کا امن و امان خطرے میں نہ پڑے۔

ایک تازہ اطلاع کے مطابق اتر پردیش حکومت کی فیصلے کے بعد کی صورت حال پر نظر ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سینئر پولیس افسران کے ساتھ ایک میٹنگ میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مندر کے حق میں فیصلہ آنے پر ہندووں میں زبردست خوشی کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔ ایسے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر مندر کے حق میں فیصلہ نہیں آیا تو ہندووں میں زبردست مایوسی چھا جائے گی۔ ایسے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ مایوسی کسی فساد یا جھگڑے کی شکل میں نہ نکلے۔ جہاں تک عام ہندووں یا ہندو سیاست دانوں کا معاملہ ہے تو ان کے بیانات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ یہ مان کر چل رہے ہیں کہ فیصلہ ہندوؤں کے حق میں آئے گا۔ لہٰذا مندر کے حق میں بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ان کی طرف سے یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کو مانیں گے وہ جو بھی فیصلہ دے۔ بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ فیصلہ مندر کے حق میں ہی آئے گا۔ جبکہ مسلمانوں کا بار بار یہ کہنا ہے کہ فیصلہ جس کے بھی حق میں آئے وہ اسے تسلیم کریں گے۔ اس طرح اگر ہم دیکھیں تو یکطرفہ باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ ون وے ٹریفک اردو اخباروں کی جانب سے بھی چلایا جا رہا ہے۔ اگر ہم ہندی اور انگریزی اخباروں میں مقدمے کی سماعت کی رپورٹنگ دیکھیں تو ان کا جھکاؤ ہندو فریقوں کی جانب ہوتا ہے اور اگر اردو اخباروں کو دیکھیں تو ان کا جھکاؤ مسلمانوں کی جانب ہے۔ اردو اخباروں میں ایسے مراسلے بھی شائع ہو رہے ہیں جو مسجد کے حق میں فیصلے کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ جج حضرات جو سوالات پوچھ رہے ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایک بات کی گہرائی تک جانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ سوالات مسلم مخالف لگتے ہیں تو کبھی ہندو مخالف لگتے ہیں۔ اگر انگریزی اخباروں کی رپورٹنگ کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ ہندو فریقوں کا پلڑا بھاری ہے اور مسلم فریق کمزور پڑ رہے ہیں۔ لیکن اردو اخباروں میں اس کے برعکس صورت حال ہے۔ بہر حال جو بھی فیصلہ آئے حقائق کی بنیاد پر آئے اور اس کے بعد ملک میں امن و امان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: What after ayodhya verdict on 17 nov in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.