سنجے دت کا درد مسلمانو ں کا بھی درد ہے

سہیل انجم
فلم اسٹار سنجے دت 42 مہینے گزار کر پونے کی یراوڈا جیل سے باہر آگئے۔ ان پر 1993کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا جو کہ مقدمہ کے دوران باطل ثابت ہوا اور انھیں صرف غیر قانونی طریقے سے ہتھیار رکھنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ بہر حال انھوں نے بڑے صبر و ضبط کے ساتھ جیل کاٹی اور رہا ہو گئے۔ باہر آنے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ جیل کے گیٹ کے باہر ان کے اہل خانہ تھے، ان کے مداح تھے، ان کے دوست احباب تھے، میڈیا والے تھے اور دوسرے بہت سے لوگ بھی تھے جو ڈھول تاشے بجا کر ان کی رہائی اور آزادی پر خوشی منا رہے تھے۔ انھوں نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کی اور میڈیا نمائندوں سے کہا کہ میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ مجھ پر ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا لیکن وہ الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ اس معاملے میں میں بری ہو ا تھا۔ مجھے آرمس ایکٹ میں سزا ہو ئی تھی۔ انھوں نے میڈیا نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جب بھی ان کے بارے میں کوئی خبر دیں تو براہ کرم 1993 کے بم دھماکوں کا ذکر نہ کریں کیونکہ انھیں اس معاملے میں نہیں بلکہ ہتھیار رکھنے کے معاملے میں سزا ہوئی تھی۔ ہم سنجے دت کی باتوں کی تائید کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے جس صبر و ضبط سے جیل کی سزا کاٹی، (اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا)، اس کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ ہم ان کے اچھے اخلاق کی بھی ستائش کرتے ہیں۔ اس دوران انھوں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے یہ واضح ہوتا ہو کہ وہ اس سزا کو غلط سمجھتے ہیں اور انھیں بالکل بے داغ بری کیا جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے جیل کے اندر کام بھی کیا جو کہ ہر قیدی کو کرنا پڑتا ہے۔ انھیں چار سو چالیس روپے ملے تھے جو انھوں نے باہر آنے کے بعد اپنی بیوی مانیتا دت کو دے دیے۔
جب سنجے دت میڈیا سے بات چیت کے دوران یہ اپیل کر رہے تھے کہ ان کے بارے میں کوئی خبر یا رپورٹ دکھاتے وقت 93 کے بم دھماکوں کا ذکر نہ کیا جائے، تو ان کے چہرے پر ان کے دلی درد و کرب کا مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ ذرا سوچیے کہ جن مسلمانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور جب وہ برسوں کی قید اور مشکل ترین قانونی عمل سے دوچار ہونے اور عدالت سے بے قصور ثابت ہونے کے بعد باہر آتے ہیں تو ان کا ایسا استقبال کیوں نہیں کیا جاتا۔ اسے جانے دیجیے، سنجے دت ایک فلم اسٹار ہیں اس لیے ان کا استقبال تو ہوگا ہی۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دہشت گردی کے الزام سے بے داغ چھوٹ کر باہر آتا ہے تو کیا اس کے درد و کرب کا مشاہدہ کوئی کرتا ہے اور اس کا احساس کسی کو ہوتا ہے کہ اس پر کیا گزر رہی ہوگی اور اس کی پیشانی پر دہشت گردی کا جو داغ لگا دیا گیا ہے اس سے وہ کبھی نجات پائے گا بھی یا نہیں۔ کیا کبھی کسی نے اس بارے میں سوچا کہ مذکورہ شخص کی زندگی جو تباہ و برباد ہو گئی اس کا ازالہ کیسے ہوگا۔ آج مسلمانوں میں ایک نہیں درجنوں سنجے دت ہیں جو بے داغ بری بھی ہو گئے اور ان کی پیشانی پر لگا ہوا داغ اب بھی جوں کا توں موجود بھی ہے۔ وہ میڈیا جو محض الزام اور شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے مسلمانوں کو براہ راست دہشت گرد بتا دیتا ہے اور ان کے خلاف فیصلے سنا دیتا ہے، جب وہی شخص بری ہوتا ہے تو اس کی ایک لائن کی بھی خبر دینا ضروری نہیں سمجھتا۔ سنجے دت بڑے آدمی ہیں۔ بڑے آدمی کے بیٹے ہیں۔ ایک ایسے شخص کے بیٹے جو فلم اداکار کے ساتھ ساتھ سیاست داں بھی رہے ہیں۔ جن کو مسلمانوں میں بھی، ان کی شرافت، وضعداری اور انسانی ہمدردی کی وجہ سے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی اپیل میڈیا نے مان لی ہوگی اور وہ ان کو اب 93 کے بم دھماکوں کے سلسلے میں یاد نہیں کرے گا۔ لیکن کیا یہی سلوک دوسرے بے قصور مسلمانوں کے ساتھ بھی کیا جائے گا یا کیا جاتا ہے۔ جیل کے دوران سنجے دت کو بار بار پیرول پر چھٹی بھی ملتی رہی اور وہ باہر آتے رہے۔ لیکن اسی کیس میں سزایافتہ دوسرے مجرموں کو یہ سہولت نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ ایک ضعیفہ کو جو کہ مختلف امراض کی شکار ہے، اس طرح پیرول پر باہر آنے کی اجازت نہیں ملی۔ اس نے سنجے دت کا حوالہ دے کر کئی بار عدالت سے رجوع بھی کیا تھا لیکن ناکام رہی۔ ہمیں سنجے دت سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ہماری تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ شکایت اس سسٹم سے ہے، اس نظام سے ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ سنجے دت کے ساتھ رعایت برتی گئی اور اور اسی معاملے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں۔ سنجے دت کو ہتھیار فراہم کرنے والے ابراہیم چوہان کو مامبے ہائی کورٹ نے رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی جیل کی سزا میں جو تخفیف کی گئی تھی اسے جیل انتظامیہ نے ایک بہانے سے ختم کر دیا اور اس طرح اسے مزید 80 روز جیل میں رہنا پڑے گا اور اب وہ مارچ کے اواخر میں رہا ہوگا۔ میں بذات خود آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کی سیاست سے کلی طور پر متفق نہیں ہوں لیکن اس معاملے میں ان کے اس بیان کو یہاں لانا چاہوں گا کہ اگر سنجے دت کا نام (سنجو بابا کے بجائے) صدیق بابا ہوتا تو کیا ہوتا۔ کیا تب بھی ان کے ساتھ یہی رعایت برتی جاتی۔ معروف صحافی رعنا ایوب نے بھی اس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے اور سنجے کی رہائی کو منافقت قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ”93 کے بم دھماکوں کے دیگر مجرمین کو بری طرح بدنام کیا گیا اور ہمارے سنجو بابا جیل سے باہر آگئے۔ یہ منافقت ہے“۔
سنجے دت کی مثال واحدمثال ہو ایسا نہیں ہے۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ ایک جیسے معاملات میں مسلمانو ںکے ساتھ دوسرا سلوک کیا جاتا ہے اور غیر مسلموں کے ساتھ دوسرا۔ تازہ ترین واقعہ ہریانہ میں جاٹ آندولن کا ہے۔ اس تحریک کے دوران جس طرح سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل گرفت بھی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق تحریک کے دوران بیس ہزار کروڑ روپے سے چالیس ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوا ہے۔ روہتک میں ایک بہت بڑے مال کو جس میں سو افراد کام کرتے تھے اور جس میں دو سنیما ہال اور متعدد سرگرمیوں کے مراکز تھے جل کس اس طرح خاک ہو گیا کہ اس کو پہچاننا مشکل ہے۔ اس کے مالک نے اور دوسرے کاروباریوں نے کہا ہے کہ وہ اب وہاں سے اپنا بزنس کہیں اور لے جائیں گے تاکہ محفوظ انداز میں اپنا کام کر سکیں۔ ریل کی پٹریوں کو اکھاڑ دیا گیا۔ ریلوے اسٹیشنوں کو جلا دیا گیا۔ سرکاری گاڑیوں اور دفاتر کو نذر آتش کر دیا گیا۔ گاڑیوں کے کئی شو روم کو خاکستر کر دیا گیا اور اس تحریک کے دوران بیس سے زائد افراد کی موت ہو گئی۔ لیکن واہ رے پولیس اور فوج۔ وہ قابل مبارکباد ہیں کہ وہ کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔ سب کچھ جلا کر خاک کیا جاتا رہا اور ان کا جذبہ فرض شناسی بیدار نہیں ہوا۔ فوج کو حکم تھا کہ دیکھتے ہی گولی مار دو۔ لیکن اس نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔ اس نے گولی مارنے کا مطلب کیا نکالا سمجھ میں نہیں آتا۔ لیکن اس وقت میڈیا نے بھی اس کو بھلا دیا ہے اور سیاست دانوں نے بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مرتھل میں کئی خواتین کے ساتھ آبروریزی اور جنسی زیادتی کی بھی خبریں ہیں لیکن ان واقعات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس بھی انھیں محض افواہ قرار دے رہی ہے اور مقامی باشندے بھی۔ لیکن ذرا سوچیے کہ مسلمانوں کی کوئی تحریک ہوتی او را س کے دوران ایسا ہنگامہ ہوا ہوتا تو کیا ہوتا۔ پورے ملک میں آگ لگ جاتی۔ میڈیا بھی آسمان سر پر اٹھا لیتا اور حکومت بھی اور سیاست داں بھی۔ تمام مسلمانوں کو دہشت گرد بتایا جاتا اور انھیں پاکستان بھیجنے کا فرمان جاری کیا جاتا۔ مسلمان اگر کسی معاملے میں ملوث ہوں خواہ وہ اپنے حق کے لیے کیوں نہ لڑ رہے ہوں تو اسے ملک سے غداری کہہ دیا جاتا ہے اور پولیس بھی ان کے خلاف ایسے کارروائی کرتی ہے جیسے وہ ملک کے باشندے نہ ہوں بلکہ دوسرے ملک کے حملہ آور ہوں۔ پولیس اور فوج تو ایسے معاملات میں بغیر حکم کے ہی دیکھتے ہی گولی مار دیتی ہے۔ مغربی بنگال کے مالدہ کے واقعہ کو لیجیے وہ ہریانہ واقعہ کے معاملے میں بالکل صفر تھا تاہم کئی روز تک میڈیا میں مسلسل رپورٹیں آتی رہیں اور سیاست داں بھی اس حوالے سے مغربی بنگال کی ممتا حکومت پر نکتہ چینی کرتے رہے اور اس کو برا بھلا کہتے رہے۔ یہ تو محض ایک واقعہ کا ذکر کر دیا گیا ہے ورنہ روزانہ ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جن میں حکومت اور پولیس کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دشمنوں جیسا ہوتا ہے۔ کیا یہ ذہنیت کبھی بدل سکے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Warm welcome of sanjay dutt after his release in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply