واہ عمران صاحب یہ بھی خوب رہی!

سہیل انجم

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا ایک انتہائی حیران کر دینے والا انٹرویو نظروں سے گزرا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چین کے یغور مسلمانوں کی زبوں حالی اور ان پر ہونے والے ظلم و زیادتی کو اس لیے ہائی لائٹ نہیں کریں گے کیونکہ چین پاکستان کی مدد کرتا ہے۔ انھوں نے سویٹزرلینڈ کے داو¿س میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ”فارن پالیسی“ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کشمیر اور ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں تو بولتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ چین کے صوبے سنکیانگ میں یغور مسلمانوں پر ہونے والے سرکاری مظالم پر خاموش رہتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ پاکستان واقعتاً چین کا شکر گزار ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ چین کے ساتھ جو بھی مسئلہ ہوگا ہم اس کو پرائیویٹ طور پر حل کریں گے۔ اس پر ہم عوامی طور پر کوئی موقف اختیار نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ انھوں نے یغور مسلمانوں کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے کی ایک اور وجہ بتائی۔ انھوں نے کہا کہ میں بلا جھجک کہہ سکتا ہوں کہ مجھے یغور مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ میں نے اس مسئلے کے بارے میں اخبارات میں جو کچھ پڑھا ہے اس کا کشمیر کے حالات سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔

واہ عمران صاحب! آپ نے یہ خوب کہی کہ چونکہ چین پاکستان کی مدد کرتا ہے اس لیے وہ یغور مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں بولیں گے۔ آپ نے کشمیر کا بھی مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ یغور مسلمانوں کے حالات کا کشمیر کے مسلمانوں سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔ چلیے پہلے اسی پر بات کر لیتے ہیں۔ آپ کا کہنا بالکل بجا ہے کہ کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ چین میں دس لاکھ یغور مسلمانوں کو ڈٹینشن کیمپوں میں بند کر دیا گیا ہے اور انھیں ان کے مذہب سے یعنی مذہب اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے عقائد پر حملے ہو رہے ہیں۔ انھیں اسلام مخالف چیزیں پڑھائی اور سمجھائی جا رہی ہیں۔ ان کی خواتین کے ساتھ جنسی جرائم کیے جاتے ہیں اور مذہب کے نام پر ان کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کے ذہنی خیالات زبردستی تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ان حراستی مراکزمیں جو دس لاکھ افراد رکھے گئے ہیں انھیں جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قیدیوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے نام پر بیعت کریں۔ بچوں کو ان کے خاندان، مذہب اور زبان سے الگ کیا جا رہا ہے۔ان کے خلاف حالیہ برسوں میں فوجی کارروائیاں بھی ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چینی حکومت صوبہ سنکیانگ میں نئے قوانین بنا رہی ہے جن کے تحت مسلم خواتین کو نقاب پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور بھی دیگر پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔

کیا کشمیر کے مسلمانوں کے حالات بھی ایسے ہی ہیں۔ یغور مسلمانوں کے عقائد پر حملے کیے جا رہے ہیں کشمیر میں تو ایسا نہیں ہے۔ ہاں جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں سیاست دانوں اور عام لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن ان کی تعداد چار پانچ ہزار سے زائد نہیں ہے۔ جبکہ چین میں دس لاکھ مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ کشمیر میں کم از کم حکومت کے کسی ذمہ دار کے ہاتھ پر بیعت تو نہیں کرائی جا رہی ہے جبکہ چین میں شی جن پنگ کے ہاتھ پر بیعت کرائی جا رہی ہے۔ کشمیر میں مسلم خواتین کے برقعے پر کوئی پابندی نہیں ہے، ان کے اسلامی شعار کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، ان کو ان کے مذہب پر چلنے سے نہیں روکا جاتا۔ حکومت کشمیری عوام کو دہشت گرد نہیں سمجھتی جیسا کہ چینی حکومت دس لاکھ مسلمانوں کو سمجھتی ہے۔ حکومت صرف ان عناصر کو دہشت گرد سمجھتی ہے جو دہشت گردانہ وارداتوں میں ملوث ہوں۔ سیکورٹی فورسز صرف انھیں عناصر کے خلاف کارروائی کرتی ہیں عام کشمیری مسلمانوں کے خلاف نہیں۔ عمران صاحب آپ نے بالکل بجا فرمایا کہ یغور مسلمانوں کا موازنہ کشمیری مسلمانوں سے نہیں کیا جا سکتا۔

آپ نے کہا کہ چونکہ چین پاکستان کی مدد کرتا ہے اس لیے وہ یغور مسلمانوں کے معاملے کو ہائی لائٹ نہیں کریں گے۔ یعنی اگر ظالم آپ کی مٹھی گرم کر دے تو آپ اس کے ظلم کے خلاف کچھ نہیں بولیں گے۔ گویا آپ کو مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ صرف پیسے سے دلچسپی ہے۔ چین پاکستان کی مالی مدد کرتا ہے اس لیے وہ یغور مسلمانوں کے ساتھ جو چاہے کرے آپ اس پر کچھ نہیں بولیں گے۔ آپ کو عالمی برادری سے اور خاص طور پر اسلامی ملکوں سے شکایت ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں کچھ نہیں بولتے۔ ارے جناب وہ بھی آپ ہی کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہندوستان سے ہمارے تجارتی و سیاسی اور ثقافتی روابط ہیں اس لیے ہم کشمیری مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس سے ہندوستان سے ہمارے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ اگر اسلامی ممالک یہ دلیل دیں تو بتائیے آپ کو کیسا لگے گا۔ اور پھر یہ تو کوئی معیار نہیں، کوئی پیمانہ نہیں کہ چونکہ فلاں ہماری مدد کرتا ہے اس لیے ہم اس کی جانب سے کیے جانے والے ظلم پر خاموش رہیں گے۔ ایسا کرکے تو آپ ایک ظالم کی مدد کر رہے ہیں۔ جبکہ اللہ کے رسول نے ظالم کی مدد کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ اس کو ظلم سے روک دیا جائے۔ لیکن آپ تو دوسرے انداز میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ مدینہ کی فلاحی ریاست قائم کریں گے۔ کیا مدینہ کی فلاحی ریاست ایسی ہی تھی کہ وہ ظالموں کے خلاف اس لیے کوئی کارروائی نہیں کرتی تھی کہ ظالم سے اس کو مالی مدد ملتی تھی۔ مدینہ کی فلاحی ریاست نے کسی بھی قسم کے ظلم کو برداشت نہیں کیا خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اس کا طرہ امتیاز تھا۔ عمران خان نے ایمانداری کا پروپیگنڈہ تو کیا ہے لیکن ان کی ایمانداری کے دائرے میں کسی ریاست کا جبر نہیں آتا۔ کسی حکومت کی کسی قوم پر کی جانے والی زیادتی نہیں آتی۔

اسے عمران خان کی دوہری سیاست یا دوہرا رویہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کشمیری مسلمانوں کے بارے میں تو آواز بلند کرتے ہیں لیکن یغور مسلمانوں پر خاموش رہتے ہیں۔ جبکہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر ظلم کے خلاف بولا جائے۔ امریکہ نے اسے عمران خان کا دوہرا رویہ بتایا ہے۔ وہاں کی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ پاکستان کشمیری مسلمانوں کے بارے میں جیسی تشویش ظاہر کرتا ہے ویسی ہی تشویش وہ یغور مسلمانوں کے بارے میں بھی ظاہر کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان چینی مسلمانوں کے انسانی حقوق کی جس طرح پامالی ہوتی ہے ویسی پامالی کشمیری مسلمانوں کی نہیں ہوتی۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ ان آوازوں کو سنیں اور چین کے ان مسلمانوں کے بارے میں بھی لب کشائی کریں۔ یہ دوہرا رویہ نہیں چلے گا کہ آپ کشمیری مسلمانوں کے بارے میں تو بولیں اور ان سے بھی بھیانک حالات کے شکار چین کے ان دس لاکھ مسلمانوں پر خاموشی اختیار کریں۔

عمران خان نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ انھیں چین کے یغور مسلمانوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ یا تو وہ دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں یا پھر واقعی وہ بہت معصوم ہیں کہ انھیں چینی مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ اگر وہ سب کچھ جانتے ہیں پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ انھیں کچھ نہیں معلوم تو یہ ان کی عیاری ہے۔ اپنی معصومیت اور لاعلمی کے پردے میں ایک بہت بڑی حقیقت کو چھپانا ہے۔ اگر واقعی وہ کچھ نہیں جانتے تو پھر وہ ایک ملک کے کیسے سربراہ ہیں۔ سربراہان مملکت کو تو پوری دنیا کی خبر رکھنی چاہیے اور کم از کم اپنے ہم مذہبوں کے بارے میں تو ضرور رکھنی چاہیے۔ ایک طرف آپ چینی مسلمانوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف عالم اسلام کے قائد بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ذرا اپنی آنکھیں کھولیے اور چین کے یغور مسلمانوں پر بھی نظر ڈالیے اور ان کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہی کچھ کہیے جو ابھی ایک انٹرویو میں آپ نے کہا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Wah imran khan wah dont aware about the plight of chinese muslim uighur keep it up in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.