طالبان- امریکہ معاہدہ اور امن کی امیدیں

سہیل انجم

تقریباً انیس سال کی خوں ریز جنگ کے بعد بالآخر طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ یہ معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا۔ اس معاہدے کے ساتھ ہی پوری دنیا نے اطمینان کی سانس لی ہے کہ چلو بھیانک تباہی کے بعد ہی سہی کم از کم متحارب گروپوں کے درمیان صلح تو ہوئی۔ حالانکہ اس جنگ کے شرکا کو متحارب گروپ یا متحارب دھڑے نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ایک طرف اگر طالبان تھے تو دوسری طرف امریکہ کی قیادت میں ناٹو کی افواج تھیں۔ امریکہ او رناٹو افواج کی طاقت کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ طالبان کو زیر کرنے میں ناکام رہے۔ اس جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کو زبردست جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جہاں لاتعداد طالبان ہلاک ہوئے وہیں ہزاروں امریکہ و ناٹو فوجی بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ کو اس جنگ پر کئی کھرب ڈالر خرچ کرنے پڑے ہیں۔ امریکی افواج کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ میدان جنگ سے لوٹنے والے فوجیوں کی نفسیاتی حالت بھی ناگفتہ بہہ ہے۔ ان کا نفسیاتی علاج کیا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں افغانستان کے لاکھوں باشندے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن اب جبکہ امن معاہدہ ہو گیا ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ افغانستان میں ایک پرامن ماحول قائم ہوگا اور لوگوں کو پرامن زندگی جینے کے مواقع ملیں گے۔

معاہدے کے مطابق القاعدہ اور داعش پر پابندی ہوگی جبکہ امریکی فوج 14 ماہ میں افغانستان سے مکمل انخلا کرے گی۔ دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مقامی ہوٹل میں افغان امن معاہدے پردستخط کی تقریب ہوئی جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ معاہدے پر افغان طالبان رہنما ملاعبدالغنی برادر اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خیل زاد نے دستخط کیے۔ اس موقع پر اللہ اکبر کے نعروں سے ہال گونج اٹھا۔ اس معاہدے کی رو سے افغانستان میں القاعدہ اور داعش سمیت دیگر تنظیموں کے نیٹ ورک پر پابندی ہوگی۔ دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتیاں کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ آئندہ 135 دن کے اندر 8 ہزار 600 غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہوگا جبکہ آئندہ 14 ماہ کے اندر افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کی واپسی مکمل ہوجائے گی۔ امریکی وزیر دفاع مائک پومپیو نے کہا کہ تاریخی مذاکرات کی میزبانی پروہ امیرقطر کے شکرگزارہیں۔ افغانستان میں حالات بہترہوئے ہیں اور آج کا افغانستان 2001 کے افغانستان سے مختلف ہے۔ افغان شہری بغیرخوف کے جینے کا حق رکھتے ہیں اور انھیں ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

عملی طور پر اس معاہدے کے چار حصے ہیں۔ پہلا ابتدائیہ ہے جس میں سب سے پہلے اس یقین دہانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ یا اس کے کسی اتحادی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دوسرے نمبر پر غیر ملکی افواج کے انخلا کی بات کی گئی ہے۔ اس حصے میں دس مارچ سے بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور طالبان اور افغان حکومت کی طرف سے قیدیوں کو چھوڑنے کی بات بھی کی گئی ہے۔پہلے حصے میں امریکیوں کی طرف سے کیے جانے والے وعدوں کی تفصیل موجود ہے جن میں 14ماہ کے اندر امریکہ اور تمام غیر ملکی فوجوں کے انخلا کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ طالبان کی طرف سے دس مارچ تک 1000اور افغان حکومت کی طرف سے 5000قیدیوں کی رہائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ قیدیوں کی رہائی کا کام افغان حکومت سے متعلق تھا اور امریکہ نے یہ یقین دہانی اپنے طور پر طالبان کو کرا دی۔ جس پر افغانستان کے صدر کا کہنا ہے کہ طالبان کو رہا کرنے کا فیصلہ ان کی حکومت کی صوابدید پر ہے۔ معاہدے میں طالبان کے خلاف عائد عالمی پابندیوں کو نرم کرنے کے لیے 27 اگست کی تاریخ بھی دی گئی ہے۔اگلے حصے میں امارت اسلامیہ پر القاعدہ سمیت کسی بھی ایسی تنظیم یا فرد کو افغانستان کی سرزمین امریکہ کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے پانچ پابندیوں کا ذکر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ امریکی سیکورٹی کو خطرہ پہنچانے والے کسی بھی تنظیم یا فرد کو میزبانی و معاونت فراہم کرے گی نہ ہی سفری دستاویزات یا ویزہ دے گی۔ اگلے حصے میں امریکہ کی طرف سے اقوام متحدہ سے اس معاہدے کی توثیق، افغانستان کی تعمیر نو اور بین الافغان مذاکرات میں تعاون کی یقین دہانیوں کا ذکر ہے۔ یعنی طالبان کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔متن بتاتا ہے کہ یہ معاہدہ عملی طور پر طالبان کی فتح ہے۔

ادھر یہ بھی دیکھا گیا کہ امن معاہدے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ دو بڑے دھچکوں کی وجہ سے اس کے مستقبل پر بے یقینی کے بادل منڈلاتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ پہلا دھچکا اس وقت لگا جب افغان صدر اشرف غنی نے معاہدے کی رو سے طے پانے والے اس وعدے کی پاسداری سے انکار کر دیا جس کے تحت کابل انتظامیہ کو 10مارچ تک پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو اور ان کے بدلے میں طالبان کو ایک ہزار افغان فوجیوں کو رہا کرنا تھا۔ افغان صدر کا کہنا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کابل انتظامیہ کی صوابدید پر ہے۔ امریکہ کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے نہ اس نے ہمیں اعتماد میں لیا ہے۔ البتہ بین الافغان ڈائیلاگ میں جو آئندہ ہفتے طالبان اور کابل حکومت کے درمیان متوقع ہیں اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں طالبان نے اعلان کیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی امن معاہدے کا حصہ ہے۔ اس پر عملدرآمد کے بغیر وہ کابل حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔ ا س کے ساتھ ہی معاہدے سے قبل کی گئی سات روزہ عاضی جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہوتے ہی طالبان ملٹری کمیشن نے اپنے جنگجوﺅں کو حکومتی فورسز اور پولیس پر حملوں کا حکم دے دیا ہے جو معاہدے کو پہنچنے والا دوسرا بڑا دھچکا ہے۔

لیکن ان باتوں کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی ہے کہ امن معاہدہ پر عمل درآمد ہوگا۔ کیونکہ یہ کسی ایک فریق کی خواہش نہیں ہے بلکہ تمام فریقوں کی خواہش ہے۔ اس معاہدے کو انجام تک پہنچانے میں پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ طالبان پر پاکستان کا اثر ہے اور یہ پاکستان ہی ہے جس نے طالبان کو مذاکرات اور پھر امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے راضی کیا۔ اس لیے اس بارے میں پاکستان کی کیا رائے ہے یہ جاننا بھی بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ: ”افغانستان میں19 سال کی جنگ کا خاتمہ آسان نہ تھا۔ امریکہ طالبان معاہدے میں بہت سی رکاوٹیں حائل رہیں۔افغانستان میں تمام فریقوں کو ایک معاہدے پر متفق کرنا بھی آسان نہ تھا۔افغان مسئلے کا حل کبھی بھی جنگ نہ تھابلکہ مذاکرات ہی واحد حل تھا۔ افغا ن جنگ میں ہزاروں جانوں اور ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا ضیاع ہوا۔ بہت سی قوتیں آج بھی ہیں جو افغانستان میں امن نہیں چاہتیں۔افغان طالبان مذاکرات میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔افغانستان کے مسئلے کا حل صرف افغانوں کو ہی کرنا ہے۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاءذمہ دارانہ طریقے سے ہونا چاہیے۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاءمیں کل 14 ماہ لگیں گے۔ قیدیوں کا تبادلہ یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہے۔بین الافغان مذاکرات کے لیے تمام افغان فریقوں میں مفاہمت ہونا ضروری ہے۔افغانستان پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کے لیے امریکہ اپنے حلیفوں سے صلاح و مشورہ کرے گا۔ امریکہ اور دوسری قوتیں افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گی۔امریکہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے بھی تعاون کرے گا۔ پاکستان کی پہلے اور اب بھی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہو۔پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے۔ افغانستان میں امن سے دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا“۔

اس معاہدے کا تعلق اگر چہ ہندوستان سے نہیں ہے لیکن ہندوستان اسے نظرانداز بھی نہیں کر سکتا۔ اس نے افغانستان میں اس کی تعمیر نو کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ افغانستان دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشاں بھی رہا ہے۔ لیکن امن مذاکرات سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ جب معاہدہ ہو رہا تھا تو اس نے اپنا ایک نمائندہ وہاں بھیجا جو تقریب کے دوران وہاں موجود رہا۔ اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستان سے بارہا یہ کہہ چکے تھے کہ ہندوستان افغانستان میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا اشارہ افواج بھیجنے کی جانب تھا۔ لیکن ہندوستان کی یہ پالیسی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ اسی لیے اس نے امریکہ کی اس خواہش پر توجہ نہیں دی۔ ہندوستان بھی افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن اسے اس کے مستقبل کے سلسلے میں فکرمندی بھی ہے۔ اس سے قبل جب وہاں پانچ سال تک طالبان کی حکومت تھی تو ہندوستان نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ (بہت سے ملکوں نے طالبان کی حکومت تسلیم نہیں کی تھی)۔ وہ کبھی طالبان سے مذاکرات میں شریک بھی نہیں رہا۔ صرف اس وقت اس نے طالبان سے مذاکرات کیے تھے جب انھوں نے ہندوستان کا ایک مسافربردار طیارہ اغوا کر لیا تھا۔ بہر حال اس معاہدے کے بعد افغانستان میں کیا صورت حال نمودار ہوتی ہے یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر وہاں ایک بار پھر طالبان کی حکومت قائم ہو جاتی ہے تو ہندوستان کیا موقف اختیار کرتا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Us taliban deal a hope for peace in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.