ہندوستان :اناؤ ریپ کیس نے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا

سہیل انجم

اگر ہندوستان کی عدالتیں اتنی باخبر اور بیدار نہ ہوں تو ایک عام آدمی کو انصاف ملنا مشکل ہو جائے۔ خاص طور پر اس وقت جب عام آدمی کا سامنا کسی دبنگ سے ہو، کسی طاقتور سے ہو یا کسی بارسوخ شخصیت سے ہو۔ یہ ذی اثر و با رسوخ شخصیت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ سیاست داں بھی ہو سکتا ہے اور کسی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں کی نچلی عدالتیں تو کبھی کبھار ایسے افراد کے زیر اثر آجاتی ہیں اور ان کے حق میں فیصلے سنا دیتی ہیں یا ان کے جرائم کے مطابق انھیں سزا نہیں دیتیں۔ لیکن جب معاملہ ملک کی عدالت عظمیٰ تک پہنچتا ہے تو وہاں ہر حال میں انصاف ملتا ہی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ از خود کارروائی کرتا ہے اور متاثرین کے حق میں اقدامات کرکے مجرموں کو سزا سنانے کا انتظام کرتا ہے۔

اناؤ کا معاملہ بھی ایسے معاملات میں سے ایک ہے۔ اس میں بھی متاثرہ کا مقابلہ ایک بااثر سیاست داں سے ہے۔ یا یہ کہ ایک بااثر سیاست داں نے اس کے ساتھ ناانصافی کی مگر اسے نہ تو پولیس سے انصاف ملا اور نہ حکومت سے۔ متاثرہ ایک نابالغ لڑکی ہے۔ اور جس کے خلاف اس نے شکایت کی ہے وہ ایک ممبر اسمبلی ہے۔ جون 2017 میں اس نے شکایت کی تھی کہ فلاں ایم ایل اے نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ شکایت کرنے پر اسے ہلاک کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ لیکن اس کی شکایت پر پولیس نے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔ بلکہ اس کے برعکس اس کے والد کی مشکوک حالات میں موت ہو گئی۔ لڑکی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس موت میں مذکورہ ایم ایل اے کے آدمیوں کا ہاتھ ہے۔ جب پولیس سے اس لڑکی کو کوئی انصاف نہیں ملا تو اس نے 2018 میں لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر خود سوزی کی کوشش کی۔ اس کے بعد یہ معاملہ اچھل کا منظر عام پر آگیا اور سرخیوں میں چھا گیا۔ اس پر جب میڈیا میں زبردست ہنگامہ ہوا اور مذکورہ ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا تب کہیں جا کر اسے گرفتار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو سیکورٹی فراہم کی گئی۔ اسی دوران لڑکی کے چاچا کو ایک حملے کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن اس کا الزام ہے کہ ایم ایل اے نے سازش کرکے اسے جیل میں ڈلوایا ہے اور وہ بے قصور ہے۔

اس معاملے میں کیس چلتا رہا۔ لیکن متاثرہ اور اس کے اہل خانہ خوف وہراس میں جینے پر مجبور رہے۔ انھوں نے بار بار اس اندیشے کا اظہار کیا کہ ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جب اندیشہ کہیں زیادہ بڑھ گیا تو لڑکی نے اپنے وکیل کے توسط سے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کے نام ایک مکتوب ارسال کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان لوگوں کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ خط چیف جسٹس کے پاس پہنچتا اندیشہ درست ثابت ہوا۔ ہوا یوں کہ گزشتہ اتوار کو جبکہ بارش ہو رہی تھی مذکورہ لڑکی، اس کی دو چاچیاں اور وکیل اناؤ سے لکھنؤ جا رہے تھے کہ رائے بریلی میں ایک تیز رفتار ٹرک نے جو کہ مخالف سمت سے آرہا تھا اس کار کو ٹکر ماری۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ لڑکی کی ایک چاچی موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔ دوسری اسپتال میں چل بسی۔ لڑکی اور اس کے وکیل اسپتال میں داخل ہیں، وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت نازک ہے۔ لڑکی کی طرف سے الزام عاید کیا گیا کہ یہ حادثہ نہیں تھا بلکہ ان لوگوں کو ختم کرنے کے لیے جان بوجھ کر ٹکر ماری گئی۔ یہ الزام اس لیے درست معلوم ہوتا ہے کہ جس ٹرک نے ٹکر ماری اس کی نمبر پلیٹ پر سیاہی پوتی ہوئی تھی اور وہ ایک موڑ کاٹ کر مخالف سمت سے آرہا تھا۔ اس ٹکر میں کار کے پرخچے اڑ گئے۔ ڈرائیور اور کلینر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اب اس معاملے میں مذکورہ ایم ایل اے کا ایک رشتے دار گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی درمیان سپریم کورٹ حرکت میں آگیا۔ چیف جسٹس نے یہ کہہ کر سنسنی پھیلا دی کہ ان کو میڈیا سے یہ خبر ملی ہے کہ متاثرہ نے ان کے نام ایک خط ارسال کیا ہے۔ انھوں نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ وہ خط ابھی تک ان کے پاس کیوں نہیںپہنچا۔ انھوں نے سپریم کورٹ کی رجسٹری پر خفگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط فوراً ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس کیس کے تمام مقدمات کو یو پی سے دہلی منتقل کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملے میں کل پانچ مقدمات چل رہے ہیں۔ یو پی حکومت نے سڑک حادثہ کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی تھی۔ عدالت نے دہلی کی ایک خصوصی عدالت میں تمام کیس منتقل کرتے ہوئے کہا کہ یومیہ سماعت کرتے ہوئے 45 دنوں میں سماعت مکمل کی جائے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ سڑک حادثے کی جانچ کب تک مکمل ہو جائے تو سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ دو ماہ میں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ نہیں ایک ہفتے میں جانچ مکمل کی جائے۔ متاثرہ اور ا سکے اہل خانہ نے پولیس کی سیکورٹی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جس پر عدالت نے ان لوگوں کی سیکورٹی سی آر پی ایف کے حوالے کر دی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ لڑکی کے اہل خانہ کو پچیس لاکھ روپے دیے جائیں۔ رائے بریلی کے ڈی ایم نے چیک جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے متاثرہ کے چاچا کو جو کہ رائے بریلی جیل میں بند ہے تہاڑ جیل میں منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہاں اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ادھر اس معاملے پر پورے ملک میں نربھیا جیسااحتجاج ہو رہا ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر مذکورہ ایم ایل اے کو پہلے اس کی پارٹی نے معطل کیا اور اب اس کا اخراج کر دیا گیا ہے۔ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے متاثرہ کا خاندان بکھر کر رہ گیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ غریب اور کمزور ہیں اور مخالف پارٹی اثر و رسوخ والی یا دبنگ ہے۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ نے بی بی سی ہندی کی دیویا آریا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم اس مقدمے کو نہ لڑتے تو بھی وہ ہمیں نہ چھوڑتے۔ یہ مقدمہ اب نازک مرحلے میں ہے۔ انصاف ملنے کی امید کہاں ہے، میرے خاندان میں اب صرف بچے ہی باقی ہیں۔ ہم کہاں جائیں۔میں نے گذشتہ دو روز سے اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہمیں صرف یہی کہا ہے کہ ہم وہاں سے چلے جائیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ آیا وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ صرف خدا کو معلوم ہے۔ اپنی بیٹی کی جانب سے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر خودسوزی کی کوشش کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہمارے خاندان میں سب کی یہی سوچ تھی۔ میری بیٹی نے کہا کہ اگر ہمیں انصاف نہیں مل رہا تو ہمیں خود کو ختم کر لینا چاہیے۔ جب ہمیں کوئی کھلانے والا نہیں ہے تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ ہم نے اسے نہیں روکا۔ ہمیں نے اس سے کہا کہ اگر تم خود کو مارنا چاہتی ہو تو ہم سب تمھارے ساتھ مریں گے۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ خوف کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن ہمیں زندہ رہنا ہے۔ ہم اس ذہنیت میں رہتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں مار ڈالیں تو وہ ہمیں مار ڈالیں۔ ہم روزمرہ کی زندگی گزارنا نہیں روک سکتے۔ جو بدترین ہوگا وہ کیا ہے۔

اس گفتگو سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ متاثرہ کے اہل خانہ پر کیا کیا نہیں گزر گیا اور آگے بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شکر ہے کہ اس ملک میں عدلیہ اب بھی کمزوروں اور مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے ورنہ کسی کمزور کو انصاف ملنا ناممکن ہو جائے۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے کہ سیاست دانوں سے لڑنا کتنا مشکل کام ہے۔ اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اور اگر کسی نے غلطی سے کسی دبنگ سیاست داں سے پنگا لے لیا ہے تو اس کے خاندان کے کچھ افراد کا کم ہو جانا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کمزور اور غریب لڑکی کی جرات و ہمت کی داد بھی دینی پڑے گی کہ اس نے انصاف کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔

لیکن اس کے باوجود ملک میں ایسے واقعات روز ہوتے رہتے ہیں۔ طاقتور لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھار ایسے جرات مند لوگ اٹھتے ہیں اور اپنے اقدامات سے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Unnao gang rape and murder in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.