چین کے یغور مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی انتہا

سہیل انجم

میانمار میں روہنگیاؤں پر فوجی ظلم و استبداد سے پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔ کئی لاکھ روہنگیا جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، میانمار سے ترک سکونت کرکے بنگلہ دیش اور ہندوستان میں پناہ گزیں ہیں۔ روہنگیاؤں کو دنیا کی مظلوم ترین قوم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے حق میں مختلف سمتوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ حالانکہ میانمار کی فوجی حکومت ان پر مظالم سے انکار کرتی ہے لیکن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے ان مظالم کو بے نقاب کیا ہے۔ میانمار کی خاتون آہن آنگ سان سوچی سے نوبیل امن انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کئی اداروں نے ان کو دیے گئے اپنے انعامات واپس لے لیے ہیں۔لیکن ایک اور اقلیت ایسی ہے جس پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن اس کے بارے میں دنیا کو زیادہ علم نہیں۔ اگر چہ اس کے بارے میں خبریں وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتی رہتی ہیں لیکن ابھی تک زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔ وہ اقلیت ہے چین کے یغور مسلمان۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق چینی حکمرانوں نے دس لاکھ سے زائد یغور مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے اور انھیں ڈٹنشن سینٹرس یا حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے۔ ان کے حق میں ہانگ کانگ میں خوب مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سات ماہ سے ان مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ یغور مسلمانوں کی اکثریت چین کے سنکیانگ میں ہے۔

یغور مسلمان نسلی طور پر ترکی النسل ہیں جو چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ یہ چین کے صوبے سنکیانگ کی کل آبادی کا 45 فیصد ہیں۔ آج دنیا میں تقریباً 24 ممالک ایسے ہیں جہاں یغور مسلمان رہتے ہیں۔ جو چین سے باہر ہیں وہ خود کو نسبتاً زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

ابھی حال ہی میں ہانگ کانگ میں چین میں آباد یغور مسلمانوں کے حق میں جو مظاہرے ہوئے ان میں پولیس نے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ مظاہرین میں نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ بھی شامل تھے۔ انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ انھوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ”یغور کو آزاد کرو،ہانک کانگ کو آزاد کرو اور چین میں جعلی خود مختاری کا نتیجہ نسل کشی“ ہے۔ یغور مسلمانوں کے حق میں یہ مظاہرہ برطانیہ کی فٹ بال ٹیم آرسینل کے کھلاڑی مسعود اوزِل کی چین کی پالیسیوں پر تنقید کے بعد کیا گیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر یغوروں کے حق میں بیانات جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ چین کے جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ میں مسلم اقلیت سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ مسعود اوزِل ترک نژاد جرمن مسلمان ہیں۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ”یغور جنگجو ہیں اور وہ جبر واستبداد کی مزاحمت کررہے ہیں“۔ انھوں نے سنکیانگ میں چین کی سخت کارروائیوں اور ان پر دوسرے ممالک کے مسلمانوں کی خاموشی پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ 2017ءکے بعد سے چین میں کم از کم دس لاکھ یغوروں یا دوسرے مسلم اقلیتی گروپوں کو گرفتارکرکے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ امریکا اور دوسرے ممالک نے چین کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے جبکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی جیلوں میں لاکھوں مسلمانوں کے ذہنی خیالات زبردستی تبدیل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ چین منظم نظام کے ذریعے مسلم یغورں سمیت دیگر مسلمانوں کی سوچ کو زبردستی بدل رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپوٹ کہتی ہے کہ ان حراستی مراکزمیں جو دس لاکھ افراد رکھے گئے ہیں انھیں جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قیدیوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے نام پر بیعت کریں۔ بچوں کو ان کے خاندان، مذہب اور زبان سے الگ کیا جا رہا ہے۔چین نے یغور اقلیت کے خلاف حالیہ برسوں میں فوجی کارروائیاں بھی کی ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چینی حکومت صوبہ سنکیانگ میں نئے قوانین بنا رہی ہے جن کے تحت مسلم خواتین کو نقاب پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ برطانیہ، امریکہ اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی یغور مسلمانوں کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ لیکن چین ان مسلمانوں کو علاحدگی پسند اسلامی گروہ قرار دیتا ہے اور اپنے اوپر عاید انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی حراستی کیمپ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تربیت کے کیمپ ہیں۔وہاں لوگوں کو نئے ہنر اور مہارتیں سکھائی جارہی ہیں اور انھیں علاحدگی پسندی کے رجحانات کی بیخ کنی کی بھی تربیت دی جارہی ہے۔ تاہم اِسی سال جولائی میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بیس سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے۔ اس خط میں چین کے یغور اور دیگر مسلمانوں سے سلوک پر تنقید کی گئی ہے۔

اطلاعات بتاتی ہیں کہ چین ان یغور مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور اسی لیے اس نے ان کو ڈٹینشن سینٹرس میں قید کر رکھا ہے۔ تاہم اس کی اس بات پر کسی کو یقین نہیں ہے کہ یغور مسلمانوں کو نئے ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ دراصل یغور مسلمان اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ وہاں ان کے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان کو ان کے مذہبی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ان کو حراستی مراکز میں رکھنے کا مقصد ان مسلمانوں کو ان کے مذہبی فرائض سے محروم کرنا ہے۔ ان مراکز میں ان کی برین واشنگ کی جا رہی ہے اور ان کے مذہب کے خلاف بہت ساری باتیں سکھائی پڑھائی جا رہی ہیں۔

یغور مسلمانوں کے ساتھ چین کے اس ناروا اور متعصبانہ سلوک کے تناظر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دہشت گردی کے سلسلے میں اس کا رویہ منافقانہ ہے۔ وہ ایک طرف دس لاکھ سے زائد یغور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر حراستی مراکز میں ڈالے ہوئے ہے اور دوسری طرف پاکستان کے دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلوانے کی ہندوستان کی کوششوں میں رخنہ ڈالتا رہا ہے اور سلامتی کونسل میں ویٹو کرتا رہا ہے۔ بالکل یہی صورت حال پاکستان کے ساتھ بھی ہے۔ پاکستان ایک طرف پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے آنسو بہاتا ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قائد بننے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف یغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے چشم پوشی کر رہا ہے۔ کچھ دنوں قبل جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے یغور مسلمانوں پر جاری استبداد کے سلسلے میں سوال کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی باتوں سے لاعلم ہیں اور یہ کہ وہ اپنے ملک کے حالات سے نمٹنے میں مشغول ہیں اس لیے ان کو یغور مسلمانوں کی جانب توجہ دینے کی فرصت نہیں مل رہی ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق چین کے بعض سابق قیدیوں نے بتایا ہے کہ انھیں کیمپوں میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کارروائی میں خاندان کے خاندان لاپتہ ہوگئے ہیں۔ سابق قیدیوں کے مطابق ہم لوگوں نے سنکیانگ میں ایسے شواہد دیکھے جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ صوبہ مکمل نگرانی میں ہے۔ جو چینی قیدی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے انھوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ ایک شخص عمر نے بتایا کہ وہ ہمیں سونے نہیں دیتے تھے۔ وہ ہمیں گھنٹوں لٹکائے رکھتے اور پیٹتے رہتے۔ ان کے پاس لکڑی کے موٹے موٹے ڈنڈے اور چمڑے کے سوٹے تھے جبکہ تاروں کو موڑ کر انھوں نے کوڑے بنا رکھے تھے۔ جسم میں چبھونے کے لیے سوئیاں اور ناخن کھینچنے کے لیے پلاس تھے۔ یہ سب چیزیں میز پر ہمارے سامنے رکھی ہوتیں اور ان کا ہم پر کبھی بھی استعمال کیا جاتا۔ ہم دوسرے لوگوں کی چیخیں بھی سنتے۔

ایک دوسرے شخص عزت نے بتایا کہ رات کے کھانے کا وقت تھا۔ تقریباً 1200 افراد ہاتھوں میں پلاسٹک کا خالی کٹورا لیے کھڑے تھے اور انھیں چین کے حق میں گیت گانا تھا تاکہ انھیں کھانا ملے۔ وہ روبوٹ کی طرح تھے۔ ان کی روحیں مر چکی تھیں۔ ان میں سے بہت سوں کو میں اچھی طرح جانتا تھا۔ ہم ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے تھے۔ لیکن اب وہ اس طرح کا برتاؤ کر رہے تھے جیسے کسی کار حادثے کے بعد ان کی یادداشت جاتی رہی ہو۔

اس حوالے سے مزید کچھ روح فرسا تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق ان حراستی مراکز میں مردوخواتین کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جو خواتین حاملہ ہوتی ہیں ان کے حمل ساقت کروا دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرچوں کے پیسٹ کے ذریعے خواتین کو بانجھ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو جائیں۔گزشتہ دنوں ایک ایسے ہی حراستی مرکز سے ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں ہزاروں قیدی، جن کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہوئی ہے، گھنٹوں کے بل چل رہے ہیں۔ ویڈیو میں چینی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کچھ یغور مسلمانوں کے انٹرویوز بھی عالمی میڈیا میں آئے ہیں۔ ان میں رقیہ فرحت نامی ایک یغور مسلم طالبہ نے بتایا ہے کہ ”حراستی مراکز میں ہر اس مرد اور عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے جس کی عمر 35سال یا اس سے کم ہو۔ “ رقیہ کو 2009ءمیں گرفتار کرکے ایک حراستی مرکز لے جایا گیا تھا جہاں اس نے 4سال گزارے۔ جب اسے رہا کیا گیا تو وہ فرار ہو کر ترکی چلی گئی اور اب وہیں مقیم ہے۔

گلزیرا موگدین نامی 38سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ ”جب میں حراستی مرکز میں حاملہ ہو گئی تو انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور رحم میں موجود ’جنین‘ (ناپختہ بچہ) نکال کر میرا حمل ضائع کر دیا۔ان کیمپوں میں خواتین کے پوشیدہ حصے پر مرچوں کا پیسٹ رگڑ کر انہیں بانجھ بھی بنایا جا رہا ہے۔“

انسانی حقوق کے مقامی گروپوں کا بھی کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں مرچوں کا پیسٹ رگڑ کر خواتین کو بانجھ بنانا عام بات ہو چکی ہے۔انسانی حقوق کے ایک گروپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حراستی مراکز میں خواتین کے آپریشن کرکے ان کے رحم میں انٹراٹرین ڈیوائسز (Intrauterine devices)نصب کی جا رہی ہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Uighur muslims across china are living in fear in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.