تین طلاق کی آڑ میں مسلمان نشانے پر

سہیل انجم

طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ایک عرصے سے چھایا ہوا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضداشتیں داخل ہیں جن پر سماعت جاری ہے۔ یوں تو اس معاملے میں اصل فریق مسلمان ہیں یا یوں کہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہے لیکن حکومت بھی اس میں کود پڑی ہے۔ در اصل دستور ہند میں جہاں سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں وہیں ہر شہری کو اپنے مذہب پر چلنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا حق بھی ملا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے پرسنل لاز یعنی عائلی قوانین الگ ہیں بلکہ دوسرے بہت سے فرقوں اور طبقوں کے قوانین بھی الگ ہیں اور سبھی ان قوانین کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ شادی بیاہ، طلاق اور وراثت جیسے معاملات میں مسلمانوں کو اپنے مذہب کے حساب سے چلنے کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے یہ جانچنے کے لیے کہا کہ اگر آئین کی رو سے فیصلہ دیا جائے تو کیا مسلمانوں کے قوانین میں مداخلت ہوگی۔ اس پر حکومت نے حلف نامہ داخل کرکے تین طلاق نکاح حلالہ اور تعدد ازدواج پر پابندی لگانے کی بات کہہ دی۔ ادھر مسلمانوں کے عائلی قوانین ملک کے ایک طبقہ کو ناگوار گزرتے ہیں۔ اسی لیے وہ اکثر و بیشتر ان معاملات کو اٹھاتا رہتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہندوستان کے ہر شہری کے لیے یکساں سول قانون ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم بعض جماعتیں، تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے ہیں جو مسلم خواتین کے ساتھ نام نہاد زیادتی کا رونا روتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے یا یہ کہ مسلمانوں نے اپنی خواتین کو وہ حقوق نہیں دیے جو ان کو ملنے چاہئیں۔ اسی تسلسل میں تین طلاق کو مسلم خواتین پر زیادتی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلمان اپنی بیویوں کو دھڑا دھڑ طلاق دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ شاہ بانو کا معاملہ کافی اچھلا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے شریعت کے برخلاف فیصلہ سنایا تھا جس کے خلاف پورے ملک میں مسلمانوں کی جانب سے تحریک چلائی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے اس فیصلے کو پلٹ دیا تھا لیکن اس کا نقصان مسلمانوں کو یہ ہوا کہ ان سے بابری مسجد چھین لی گئی۔ بہر حال مسلم مطلقہ خواتین کے نام پر جو قانون بنایا گیا تھا وہ بھی لولا لنگڑا تھا اور اس میں ایسے جھول چھوڑ دیے گئے تھے جن کی آڑ میں آج بھی شاہ بانو جیسے فیصلے ہو رہے ہیں۔ اب تازہ معاملہ الہٰ آباد ہائی کورٹ کا سامنے آیا ہے جس میں عدالت نے طلاق ثلاثہ کو غیر آئینی اور ظالمانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس نے اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کوئی بھی پرسنل لا بورڈ آئین و دستور سے اوپر نہیں ہے۔ عدالت کے اس تبصرے پر بڑے پیمانے پر رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں سے پرخاش رکھنے والے سیاست دانوں نے اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ مسلم خواتین پر بہت زیادہ اتیاچار ہو رہا تھا وہ اب رک جائے گا۔ بی جے پی شیو سینا اور کانگریس جیسی جماعتوں نے بھی اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے بھی اس کی حمایت کی ہے کہ مسلم خواتین کی طرف سے لڑائی لڑنے کا دعویٰ کرنے والی سماجی کارکن ذکیہ سمن نے بھی اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ ذکیہ نے سپریم کورٹ میں تین طلاق کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ لیکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور علما نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے شریعت میں مداخلت سے تعبیر کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فیصلے یا تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ بورڈ کا یہ کہنا درست ہے کہ عدالت عالیہ نے جس دستور کی تشریح کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے اسی دستور نے تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر چلنے کی اجازت اور آزادی بھی دی ہے۔ یوں بھی اس تبصرے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں کئی معاملات پر سماعت چل رہی ہے اور یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں آئے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس بارے میں کیا رخ اختیار کرتا ہے۔بہر حال سپریم کورٹ اس بارے میں جو بھی فیصلہ سنائے وہ اپنی جگہ پر لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ طلاق ثلاثہ اور دوسرے معاملات میں مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور انھیں بدنام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اب جا کر بیٹی بچاو¿ بیٹی پڑھاو¿ کا نعرہ دیا ہے جبکہ اسلام صدیوں پہلے یہ نعرہ دے چکا ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل والدین اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ اسلام نے اس پر روک لگائی۔ اس کے علاوہ اسلام میں خواتین کو جو تکریم حاصل ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں حاصل نہیں ہے۔ لیکن ملک کا ایک طبقہ خاص طور پر آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر طبقہ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوئی کوشش ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ابھی پچھلے دنوں مردم شماری کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں ایک پہلو یہ سامنے آیا تھا کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا۔ حالانکہ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی شرح ہندووں میں سب سے زیادہ ہے۔ لیکن اس بارے میں نہ تو کوئی بیان سامنے آیا اور نہ ہی اس تعلق سے ہندووں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ہم بلا وجہ کسی کو نشانہ بنانے کے خلاف ہیں لیکن ہم اس کے بھی خلاف ہیں کہ اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا جائے اور ان کا غلط مطلب نکالا جائے۔ مسلم خواتین پر زیادتی کا الزام لگانے والے ذرا اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ وہاں کیا صورت حال ہے۔اب چند باتیں مسلمانوں سے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے ایک حلقے میں طلاق ثلاثہ کا چلن ہے اور وہ اپنی بیویوں کو تین بار طلاق کہہ کر گھر سے نکال دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں تین طلاق کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ تین طہر میں طلاق دینے کی بات کہی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے مصالحت کی کوشش کی جائے۔ یہ کوشش تین مہینے تک جاتی رہنی چاہیے۔ جب بات بالکل نہ بنے تب طلاق دینی چاہیے اور طلاق دینے کے بعد احسن طریقے سے عورت کو اپنے گھر سے نکال دینا چاہیے۔ لیکن تین مہینے تک کون انتظار کرتا ہے۔ کسی معمولی بات پر بھی غصہ آیا اور دھڑا دھڑ تین طلاق کی توپ چلا دی گئی۔ اب اس کے بعد پچھتاتے ہیں اور علما سے فتوے پوچھتے ہیں۔ فقہ کی رو ے ایک بار میں تین طلاق دینا اگر چہ غلط ہے لیکن طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ جبکہ ایک دوسرے مسلک میں ایک بار میں تین نہیں تین سو بار طلاق بولا جائے وہ ایک ہی مانا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تین طلاق دے کر پھنس جاتے ہیں اور اپنے علما سے رجوع کرتے ہیں تو وہ علما ان لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں جن کے مسلک کی رو ے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ گویا مسلمانوں میں ہی اس سلسلے میں اختلاف رائے ہے۔ یہ مسئلہ ایساہے کہ مسلمانوں کو خود اسے حل کر لینا چاہیے۔ اور وقت کے تقاضے کے تحت اپنے موقف میں لچک پیدا کرکے اسے ختم کر دینا چاہیے۔ اگر مسلمان ایسا کرتے ہیں تو دوسروں کو اس کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کو مداخلت کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Triple talaq and muslims in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply