اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے

سہیل انجم
وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ منسوخ کیے جانے کو تین ہفتے ہو گئے ہیں۔ جب اس فیصلے کا اعلان کیا گیا تھا تو شروع میں بینکوں کے سامنے طویل ترین قطاریں نظر آئی تھیں جو آٹھ دس روز کے بعد چھوٹی ہوتی چلی گئی تھیں۔ اس وقت یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ قطاریں اور چھوٹی ہو جائیں گی اور لوگوں کو پیش آنے والی دشواریاں بھی کم ہو جائیں گی۔ لیکن یہ خیال، خیالِ خام ثابت ہوا۔ جب دسمبر کی پہلی تاریخ آئی یعنی تنخواہ کا پہلا دن آیا تو بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے سامنے عوام کی قطاریں بہت لمبی ہو گئیں۔ یعنی پہلے سے بھی زیادہ لمبی۔ مہینے کے پہلے عشرے میں یعنی ایک تاریخ سے دس تاریخ کے درمیان لوگوں کو تنخواہیں ملتی ہیں۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو یہ قطاریں چھوٹی ہونے کے بجائے ابھی اور لمبی ہوں گی۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے اس کا خاص انتظام کیا گیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کیش کی قلت نہیں ہے۔ لوگ بہت زیادہ پریشان نہ ہوں۔ ریزرو بینک کے سامنے بھی تنخواہوں کا مسئلہ تھا۔ اس لیے اس نے اضافی انتظامات کیے۔ اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دس روز تک اضافی کیش بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں تک پہنچایا جائے گا۔ لیکن پہلی تاریخ کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ اندیشہ ہے کہ آگے بھی کم از کم اس وقت تک جب تک کہ لوگوں کوتنخواہیں نہیں مل جاتیں حالات ابتر ہی رہیں گے۔
تیس نومبر اور یکم دسمبر کو کئی ریاستوں میں تشدد کے بھی واقعات ہوئے۔ اتر پردیش میں کئی مقامات پر مشتعل لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مظاہرے کیے۔ میرٹھ میں الٰہ آباد بینک کی شاخ پر اس وقت لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا جب انھیں بتایا گیا کہ کیش ختم ہو گیا ہے۔ لوگوں کی مشتعل بھیڑ بینک کے اندر داخل ہو گئی اور کاونٹر کے شیشے توڑ دیے گئے۔ اتر پردیش ہی میں کئی مقامات پر سڑکیں جام کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مغربی بنگال، کیرالہ، بہار اور دوسرے صوبوں میں بھی تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ کئی جگہوں پر تو ہجوم نے کیش نہ ہونے کی وجہ سے بینک ملازمین کو اندر بند کر دیا اور انھیں یرغمال بنا لیا۔ بینکوں کے ملازمین کو اس قسم کے واقعات کا اندیشہ پہلے سے ہی لاحق تھا۔ خود راجدھانی دہلی میں اس قسم کے واقعات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بینکوں نے نوٹس لگا دیے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے کہ اگر انھوں نے بینک کے عملہ کے ساتھ ناروا سلوک کیا یا مارپیٹ کی تو ان کے خلاف تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ در اصل سب سے بڑا مسئلہ بینکوں تک کیش پہنچانے کا ہے۔ ان تک وافر مقدار میں کیش نہیں پہنچ رہا ہے اور مستزاد یہ کہ حکومت نے کیش نکالنے کی ایک حد مقرر کر دی ہے۔ اس سے زیادہ کوئی نکال نہیں سکتا۔ ایسے میں ان لوگوں کے سامنے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے جو کوئی کام کرتے ہیں اور جن کے یہاں کچھ ملازمین ہیں۔ وہ ان لوگوں کو تنخواہ کہاں سے دیں۔ حکومت نے کیش کی قلت کو دور کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر کام شروع کیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے تینوں پرنٹنگ پریسوں میں چوبیس گھنٹے نوٹوں کی چھپائی کا کام چل رہا ہے۔ پہلے دو ہزار کے نوٹ چھاپے گئے تھے اب پانچ سو کے نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔ نئے نوٹ تو لوگوں کو مل ہی نہیں رہے ہیں چھوٹے نوٹوں کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ لہٰذا اب دس بیس پچاس اور سو کے نوٹ بھی چھاپے جا رہے ہیں۔ ایئر فورس کے جہازوں کو پریسوں سے آر بی آئی تک نوٹ پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ بھی رات دن لگے ہوئے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ ملک بہت بڑا ہے ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی ہے۔ اس لیے تمام لوگوں تک نوٹ پہنچانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ شہروں میں پھر بھی حالت بہتر ہے لیکن قصبوں اور گاؤں دیہاتوں میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان جگہوں پر ہفتے ہفتے تک نوٹ نہیں پہنچتا۔ اور اگر پہنچتا بھی ہے تو دو لاکھ تین لاکھ جو کہ تھوڑی دیر میں صفا چٹ ہو جاتا ہے۔ کوئی پاتا ہے کوئی پاتا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روزگار پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ شہروں میں بھی روز گار چوپٹ ہو گیا ہے اور گاؤں دیہاتوں میں بھی۔ کسان بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ان کے کھیت نہیں بوئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے اس بارے میں متعدد اعلانات کیے گئے ہیں لیکن ان اعلانات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ لوگوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کم از کم پچیس فیصد بوائی متاثر ہو جائے گی۔ ایسے میں فصلیں پچیس فیصد کم ہوں گی۔ جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ لیکن جو فصلیں تیار ہوں گی وہ بھی اس وقت ہوں گی جب کھیتوں میں بوائی ہو جائے گی۔ حکومت نے سرکاری دکانوں سے کھاد اور بیج لینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہاں پرانے نوٹ چلیں گے لیکن سرکاری دکانوں پر کچھ ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو اس کی کوالٹی بہت خراب ہے۔ کسان ان دکانوں سے کھاد اور بیج خریدنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ حکومت نے جب نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو اس سے پہلے اس نے دو ہزار کے نوٹ چھاپے تھے۔ وہ دو ہزار کے نوٹ اور مصیبت بن گئے ہیں۔ پانچ سو کے کھلے تو مل جاتے ہیں لیکن دو ہزار کے کھلے نہیں مل رہے ہیں۔ سو سو کے نوٹ کوئی کہاں تک چینج میں دے گا وہ بھی اس وقت دے گا جب کسی کے پاس سو سو کے نوٹ ہوں گے۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ سو سو کے نوٹ بھی لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حکومت کے پاس جو سڑے گلے نوٹ تھے وہ بھی اس نے چلا دیے لیکن اس کے باوجود وہ بھی نہیں مل رہے ہیں۔ نوٹ بندی کے اثرات کہاں کہاں اور کیسے کیسے پڑ رہے ہیں امید ہے کہ ماہرین آگے چل کر اس کا تجزیہ کریں گے اور نتائج اخذ کریں گے۔ فی الحال تو لوگوں کو زبردست دشواریاں ہیں۔ حکومت اس کوشش میں ہے کہ ملک میں کیش لیس اکانومی قائم کرے۔ یعنی جو بھی خریداری یا لین دین ہو وہ کیش کے ذریعے نہ ہو بلکہ چیک کے ذریعے ہو، کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈوں کے ذریعے ہو۔ اس کے پیچھے منشا یہ ہے کہ جب اس طرح کاروبار ہوگا تو سب کچھ بینکوں کے ذریعے ہوگا۔ سب کچھ حکومت کی نظر میں رہے گا اور کوئی بھی شخص ٹیکس چوری نہیں کر سکے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے بلیک منی یا کالے دھن کے خلاف ایک لڑائی شروع ہو جائے گی۔ لیکن بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ حکومت نے غیر ملکوں سے کالا دھن لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب وہ اس میں ناکام ہو گئی تو اس نے اندرون ملک ہی لڑائی شروع کر دی۔ لوگوں میں اس بات پر بہت ناراضگی ہے اور لوگ حکومت کے اس قدم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں یعنی آگے چل کر اس کا فائدہ ہوگا۔ لیکن فی الحال عوام جن پریشانیوں سے جوجھ رہے ہیں ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The real test of the demonetisation in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply