پاکستان میں خاتون ججوں کے چشم کشا حالات

سہیل انجم

آج پوری دنیا میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں اور اپنے اپنے ملکوں اور معاشروں کی تعمیر و ترقی میں بھرپور رول ادا کر رہی ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہندوستان نے ”چندریان ٹو“ کو چاند کے سفر پر روانہ کرکے جو قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے اس کی سربراہی دو خواتین نے کی ہے۔ یہ خواتین سائنس دانوں کی اس ٹیم کی قائد ہیں جس نے اس مرحلہ¿ شوق کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔ آج پوری دنیا میں خواتین آگے بڑھ رہی ہیں اور اپنی خدمات سے انسایت کو فیض پہنچا رہی ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ لہٰذا مردوں کو چاہیے کہ وہ تصویر کائنات کے اس رنگ کو مندمل نہ ہونے دیں، اسے پھیکا نہ ہونے دیں۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب خواتین کی قدر کی جائے۔ ان کی خدمات کو سراہا جائے۔ ان کے کارناموں کو بیان کیا جائے۔ ان کی اہلیتوں اور صلاحیتوں کا اعتراف کیا جائے۔ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جس کی وہ مستحق ہیں۔

دنیا میں خواتین کو نصف آبادی کہا جاتا ہے۔ ملکوں کی تعمیر و ترقی میں اس نصف آبادی کا اتنا ہی رول ہے جتنا کہ دوسری نصف آبادی یعنی مردوں کا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معاشرے میں خواتین کو وہی مقام ملنا چاہیے جو مردوں کو حاصل ہے۔ لیکن ”مرد حاوی معاشرے“ میں خواتین کو ان کے جائز مقام سے محروم رکھا جاتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ انھیں ان کا حق نہیں دیا جاتا اور مردوں کے مساوی اہلیت کے باوجود ان کے ساتھ دو نمبر کے شہری جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال کم و بیش تمام ملکوں میں موجود ہے۔ لیکن جب ہم پاکستان میں خواتین کو حاصل حقوق و مراعات پر نظر ڈالتے ہیں تو انتہائی افسوس ہوتا ہے۔ وہاں یہ صورت حال بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے وہ مواقع نہیں ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ اگر کچھ خواتین آگے بڑھ کر یا اپنے اہل خانہ کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں اچھی تعلیم حاصل بھی کر لیتی ہیں تو بھی ان کو اس تعلیم کی مناسبت سے عہدے حاصل نہیں ہوتے۔ عورتوں کو گھروں میں قید کرکے رکھا جاتا ہے۔ انھیں اپنی مرضی سے باہر نکلنے یا اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔

اس کی بہت بڑی وجہ پاکستانی خواتین کی ناخواندگی بھی ہے۔ لیکن کیا اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود پاکستانی خواتین کے لیے ترقی کے دروازے کھل جاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ وہاں خواتین کے ساتھ زیادتی تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہو ہی رہی ہے اور عدلیہ میں بھی ہو رہی ہے جو کہ انصاف کا ایوان ہے۔ کم از کم انصاف کے ایوان میں تو ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ یہ ناانصافی وہاں بھی جاری ہے۔ قیام پاکستان کو 70 سال ہو گئے لیکن آج تک پاکستان کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ میں ایک بھی خاتون جج کا تقرر نہیں ہوا ہے۔ جو خاتون جج اس اہلیت کو پہنچ بھی گئیں تو ان کے سامنے ایسے متبادل پیش کیے گئے کہ وہ چیف جسٹس یا جسٹس کے مسندِ باوقار پر فائز نہ ہو سکیں۔

اس سلسلے میں پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ ”دی ڈیلی ٹائمس“ میں ایک چشم کشا مضمون شائع ہوا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ اس کی روشنی میں کچھ باتیں کی جائیں۔ مضمون نگار کا نام زعیم ممتاز بھٹی ہے۔ انھوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ تفصیلات جمع کی ہیں اور انھیں اپنے مضمون میں پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی خاتون ججوں کے ساتھ بھی انصاف نہیں ہوتا۔ خود انھیں بھی انصاف کی خاطر عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں پھر بھی وہ انصاف سے محروم رہتی ہیں۔ مضمون کے مطابق سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے 1994 میں پانچ خاتون ججوں کو ہائی کورٹ کے جج مقرر کیا تھا۔ ان کے نام ہیں: فخر النسا کھوکھر، ناصرہ اقبال، طلعت یعقوب، خالدہ رشید خان اور ماجدہ رضوی۔ ابتدائی تین کو لاہور ہائی کورٹ اور باقی دو کو سندھ ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا تھا۔

فخر النسا کھوکھر کے خیال میں اگر کوئی خاتون جج وہاں پہنچنے کی اہل ہو بھی گئی تب بھی صنفی امتیاز کی وجہ سے اسے سپریم کورٹ کا جج نہیں بننے دیا گیا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کی اہل ہوئیں تو ان کو نظر انداز کرکے جسٹس افتخار چودھری کو چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ او ران کو ان کی مرضی کے برعکس ماحولیاتی ٹریبیونل کا جج بنایا گیا۔ انھوں نے ایک کتاب ”وکالت، عدالت اور ایوان تک“ لکھی ہے جس میں انھوں نے عدالت عظمیٰ میں خواتین ججوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر روشنی ڈالی ہے۔ 2004 میں جسٹس قاضی عیسیٰ فائز نے ایک مضمون میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر ایک خاتون چیف جسٹس کیوں نہیں بن سکتی۔ اس وقت عیسیٰ فائز وکالت کرتے تھے۔ جسٹس خالدہ رشید 2011 میں پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بننے والی تھیں مگر ان کے سامنے یہ متبادل رکھا گیا کہ وہ روانڈا سے متعلق انٹرنیشنل کریمنل ٹریبیونل کی چیئرپرسن بن جائیں یا پھر سبکدوش ہو جائیں۔ انھوں نے پہلا آپشن منظور کر لیا۔

بہر حال متعدد خواتین ججوں کے ساتھ ناانصافیاں کی گئیں۔ انہی میں لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس اِرم سجاد گل بھی ہیں۔ ان کا نام سپریم کورٹ کے جج کے لیے آگیا تھا لیکن سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان کا نام کلیئر نہیں کیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا۔ انھوں نے نوٹی فکیشن جاری نہ کیے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا مگر اسے ایک سطر کے فیصلے میں یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ یہ پٹیشن قابل قبول نہیں ہے۔ ذرا سوچیے کہ ججوں کو بھی انصاف کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑ رہے ہیں۔ اس کے بعد جسٹس ارم نے ایک مضمون میں لکھا کہ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ یہاں کی خواتین ترقی نہ کریں۔

حالانکہ دنیا کے بیشتر ملکوں میں خواتین کو سپریم کورٹ کے ججوں کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر انگلینڈ میں جسٹس لیڈی Hale کو سپریم کورٹ کا صدر نامزد کیا گیا۔ 1965 میں پہلی بار Elizabeth Kathleen Lane نے UK ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے بیٹھ کر ایک تارخ رقم کی۔ امریکی عدالتوں میں متعدد خواتین جج منصب اعلیٰ پر فائز ہوتی رہی ہیں۔ جسٹس ایم فاطمہ بی بی نے ہندوستان کی پہلی خاتون جج بننے کا شرف حاصل کیا اور پھر 1989میں سپریم کورٹ کی جج بن کر انھوں نے ایک تاریخ بنائی۔ اس کے بعد سے ہندوستانی سپریم کورٹ میں خواتین ججوں کی موجودگی مسلسل رہی ہے۔ اس وقت بھی سپریم کورٹ میں تین خاتون جج اپنا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔

پاکستان خواتین کے خلاف ہر قسم کے تعصب اور ناانصافی کو ختم کرنے والے عالمی کنونشن CEDAW پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے باوجود یہ صورت حال ہے۔ حکومت پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اعلیٰ عدالتوں میں 33 فیصد خواتین نامزد کرے۔ لیکن بے نظیر بھٹو کے ذریعے اعلی عدالتوں میں خواتین کی نامزدگی کے پچیس سال بعد بھی خاتون ججوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس وقت مختلف ہائی کورٹوں میں صرف چھ خاتون جج ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں کل ججوں کی تعداد 46 ہے جن میں خواتین جج صرف دو ہیں۔ اسی ہائی کورٹ میں 14 اسامیاں خالی ہیں۔ اگر چہ قانون خاتون ججوں کے تقرر پر کوئی پابندی نہیں لگاتا لیکن صنفی امتیاز اور تعصب کی وجہ سے خواتین کے ساتھ یہ ناانصافی ہو رہی ہے۔

وہ معاشرہ کیا ترقی کرے گا جس کی خواتین کو اس طرح ناانصافیوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ کیا یہ زنجیریں کھل سکتی ہیں؟ یہ سوال ہے پاکستانی عدالتِ انصاف سے۔ کیا وہاں کی عدلیہ اس سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ پاکستانی خاتون ججوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر اس سلوک کے خلاف آواز اٹھائیں اور سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کریں۔ اگر وہاں ان کی پٹیشن رد ہو جاتی ہے تو وہ صدر سے اپیل کریں کہ انھیں ان کا حق دیا جائے۔ یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ خواتین جب قاضی کے منصب پر فائز ہوتی ہیں تو وہ عدل سے کام لیتی ہیں اور مجرم کو سزا اور بے قصور کو رہائی ملتی ہے۔ اگر پاکستان اس معاملے میں انصاف پسندی کی راہ اپنائے تو کوئی شبہ نہیں کہ وہ پوری دنیا کے سامنے ایک مثال پیش کر دے۔ متعدد منفی معاملات کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی شبیہ اچھی نہیں ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ کم از کم اس معاملے میں ایک مثال قائم کرتا۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The plight of women in pakistan in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.