مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

سہیل انجم

سپریم کورٹ نے 9 مارچ 2018 کو اپنے ایک تاریخی فیصلے میں قتل بہ جذبہ رحم یا مرگ باالرضا یا مرضی کی موت کی اجازت دے دی۔ حالانکہ اس سے قبل مئی 2011 میں اس نے اس کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ اس پر غور ہونا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد اہل دانش کے حلقوں میں یہ بحث پھر چھڑ گئی ہے کہ کیا ایک انسان کو اپنی جان لینے کا حق ہے یا کسی ایسے مریض کے اہل خانہ کو جو نہ جیتا ہو نہ مرتا ہو، اس کی جان لینے یا اسے قتل کرکے اس اذیت سے نجات دلانے کی اجازت ہے۔ ہندوستان میں یہ بحث 2005 سے چل رہی تھی۔ لیکن اب جبکہ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی آئینی بینچ نے اس کی اجازت دے دی ہے تو اس بحث پر فل اسٹاپ لگ جانا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو اس بارے میں قانون سازی کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ جب تک قانون نہیں بن جاتا اس کی رہنما ہدایات پر عمل کیا جاتا رہے گا۔
2011 میں سپریم کورٹ کے جس بینچ نے فیصلہ سنایا تھا اس میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو بھی تھے۔ وہ شعر و شاعری کے دلدادہ ہیں۔ اسی لیے انھوں نے اپنے فیصلے کا آغاز غالب کے اس شعر سے کیا تھا کہ:
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
غالب نے یہ شعر بھی کہا ہے:
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
اسی طرح ایک اور معروف و مقبول شاعر کرشن بہاری نور نے کہا ہے:
زندگی موت تیری منزل ہے
دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں
ایک اور شاعر ثروت نواز کے بقول:
موت پر سارے الزام عاید ہوئے
اور دامن بچا لے گئی زندگی
یعنی شعرا نے اپنے اپنے انداز میں موت کو بیان کیا یا اس کی تشریح کی ہے۔ اسی طرح بہت سے دانشوروں نے بھی موت کے بارے میں اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بحث تو بہار کی ایک خاتون کے مستقل کومہ میں چلے جانے سے چھڑی تھی۔ لیکن اس میں اس وقت تیزی آئی جب ممبئی کی ایک جواں سال نرس ارونا شان باگ جنسی زیادتی کی وجہ سے مستقل کومہ میں چلی گئی۔ جب اسی حالت میں کئی دہائیاں گزر گئیں تو اسپتال میں اس کی تیمار داری کرنے والی اس کی ایک نرس دوست نے عدالت میں اپیل دائر کرکے اس کے لیے مرضی کی موت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ارونا شان باگ زندہ لاش ہے۔ وہ مصنوعی آلات تنفس پر ہے اور اس سے بہتر ہے کہ اسے موت دے دی جائے۔ عدالت نے موت کی اجازت تو نہیں دی لیکن اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور اس سلسلے میںغور و فکر کی دعوت دی۔ بہر حال 42 سال تک موت و زیشت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اس کی موت ہو گئی تھی۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جس طرح باعزت زندگی ایک انسان کا بنیادی حق ہے اسی طرح باعزت موت بھی اس کا حق ہے۔ اگر وہ وقار کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے تو وقار کے ساتھ اسے مرنے کا بھی حق ملنا چاہیے۔ لیکن چونکہ اس سلسلے میں کوئی قانون نہیں ہے اور آئین میں اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے اس لیے عدالت نے قانون سازی کا مشورہ دیا ہے۔ زندگی اور موت کے بارے میں اگر بات کی جائے تو ان کی مختلف اقسام ہیں۔ ایک زندگی شاہانہ زندگی ہوتی ہے جہاں تمام آسائشیں میسر ہوتی ہیں۔ ایک زندگی برائے زندگی ہوتی ہے۔ یعنی جی تو رہے ہیں لیکن وہ بنیادی سہلوتیں حاصل نہیں ہیں جو ہونی چاہئیں۔ ایک زندگی انتہائی کس مپرسی کی زندگی ہوتی ہے۔ یعنی نہ کھانے کو وقت پر کچھ ملتا ہے نہ پہننے کو اور نہ ہی دوا دارو کا کوئی معقول انتظام ہے۔ ہندوستان کو آزاد ہوئے 70 سال ہو گئے ہیں یعنی تقریباً پون صدی لیکن اب بھی یہاں کی بہت بڑی اکثریت عسرت اور تنگ دستی کی زندگی جینے پر مجبور ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بھوک سے اموات کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کچھ دنوں قبل جھارکھنڈ میں ایک لڑکی بھات بھات چلاتے ہوئے بھوک سے مر گئی تھی اور ابھی چند روز قبل چھتیس گڑھ میں بھی ایک لڑکی کی دو روز سے کھانا نہ ملنے کی وجہ سے موت ہو گئی۔ اسی طرح اتر پردیش میں بھی ایک ادھیڑ عمر کی خاتون کی بھوک سے موت ہو چکی ہے۔ یہ حالیہ واقعات ہیں۔
یہ تلخ حقائق اپنی جگہ پر لیکن کیا ایسی صورت میں بھی جبکہ زندگی کے آثار نہ ہوں ایک انسان کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جان خود لے لے یا اس کے اہل خانہ ایسے حالات پیدا کریں کہ اس کی موت ہو جائے۔ موت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ ایک موت وہ ہے کہ ایک انسان اپنی طبعی عمر کو پہنچ گیا، اعضائے رئیسہ نے کام کرنا بند کر دیا اور اس کی سانس ٹوٹ گئی۔ ایک موت یہ ہے کہ انسان نے حالات سے مجبور ہو کر خود کشی کر لی۔ ایک حادثاتی موت ہوتی ہے۔ یعنی کوئی ایکسی ڈنٹ ہو گیا اور جان چلی گئی۔ اسپتالوں میں بھی کئی اقسام کی اموات ہوتی ہیں۔ ایک موت وہ ہوتی ہے جو لائف سپورٹ سسٹم یعنی مصنوعی آلات تنفس کے ہٹا لیے جانے سے ہو جاتی ہے۔ یعنی آدمی کا صرف دماغ زندہ ہے اور باقی تمام اعضاءنے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ مشین کے ذریعے اس کی سانس چلائی جا رہی ہے۔ اگر مشین الگ کر دی جائے تو آدمی مر جائے۔
دور جدید کے اسپتالوں میں اس قسم کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں کہ آدمی زندہ تو نہیں ہے لیکن پیسہ بنانے کے لیے اس کو وینٹی لیٹر پر رکھ دیا جاتا ہے اور اسپتال کا عملہ جب تک چاہتا ہے یا جب تک پیسے ملتے رہتے ہیں اسے اسی حالت میں رہنے دیتا ہے اور اسپتال کا بل بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایسے واقعات دہلی اور دیگر شہروں میں اکثر و بیشتر سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں کہ مریض کئی دن قبل مر گیا تھا۔ مگر اسپتال سے اس کی لاش تب تک نہیں نکالی جا سکتی جب تک کہ لاکھوں روپے کے بل ادا نہ کر دیے۔ یعنی دسیوں اور بیسیوں لاکھ کی ادائیگی کے بعد بھی زندگی نہیں ملتی، ملتی ہے تو لاش ملتی ہے، موت ملتی ہے۔ ہاں کوئی غریب اگر اسپتال میں داخل ہے اور اس کے ورثا زیادہ پیسہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتے تو اس کی موت کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ اسے وینٹی لیٹر پر نہیں رکھا جاتا۔ یعنی وینٹی لیٹر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مریض زندہ ہو جائے گا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک طرح سے زندہ رکھنے کی نہیں بلکہ پیسہ بنانے کی مشین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ NALSARیونیورسٹی حیدر آباد کے وائس چانسلر اور معروف قانون داں پروفیسر فیضان مصطفی نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ یہ فیصلہ امیروں کے لیے ہے غریبوں کے لیے نہیں۔ امیر ہی مشین پر انسان کو رکھ کر زیادہ پیسہ ادا کر سکتا ہے غریب نہیں۔ ان کے بقول یہ مسئلہ صرف دولت مندوں کا ہے، غریبوں کا نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج میڈیکل ترقی یا طبی ترقی نے ایسے بہت سے امراض کا بھی علاج ڈھونڈ لیا ہے جو پہلے لاعلاج تھے۔ امید ہے کہ وہ امراض بھی جو اب بھی قابل علاج نہیں ہیں ان کے لیے بھی ادویات تیار ہو جائیں گی۔ یہ انسانی زندگی کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں کہ جس مرض میں وہ پہلے مر جاتا تھا اب نہیں مرتا بلکہ وہ مرض ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب میڈیکل ترقی نہیں ہوئی تھی تب اموات کو کن کن خانوں میں بانٹا جاتا تھا۔ اس وقت تو یہی ہوتا تھا نا کہ سانس آنی بند ہو گئی، انسان مر گیا۔ اس کی آخری رسوم ادا کر دی جائیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر انسان کی زندگی مقرر ہے۔ جب اور جس طرح اس کی موت آنی ہے آئے گی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موت کو یا ملک الموت کو وقت مقررہ پر آنے سے روکا جا سکتا ہے یا وقت مقررہ سے پہلے ہی قتل بہ جذبہ رحم یا Passive Euthenasia کا سہارا لے کر انسان کو مارا جا سکتا ہے۔ یعنی یم راج یا ملک الموت کو پہلے ہی آنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
طبی اور قانونی کے علاوہ زندگی اور موت کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔ جین مذہب میں اپنی زندگی خود لینے کی اجازت ہے۔ آدمی سنتھارا کرلے یعنی کھانا پینا ترک کر دے اور اس طرح اس کی موت ہو جائے۔ لیکن بیشتر مذاہب میں انسان کو اپنی جان لینے اور کسی دوسرے کی جان لینے کا تو بالکل ہی حق نہیں ہے۔ اسلام میں زندگی کو انسان کے ہاتھوں میں اللہ کی امانت قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے اسلام میں خود کشی حرام ہے۔ ہندوستان کا قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن اب از راہ ترحم موت کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ اس بارے میں مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی کے سربراہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی آلات تنفس ہٹا کر موت دینا ہو یا انجکشن وغیرہ لگا کر یعنی Passive Euthenasiaاور Active Euthenasia دونوں صورتیں ناجائز ہیں۔ اس کی اجازت دینا بڑا پُر خطر فیصلہ ہے اس سے بہت مفاسد پیدا ہو سکتے ہیں۔ فقہ اکیڈمی کے اجلاس میں بھی اس پر غور کیا گیا ہے اور اس میں بھی اس کو جائز قرار نہیں دیا گیا ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Title: the impact of euthanasia on society | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply