10 سالہ چیلنج کا کھیل اور حجاب کی حمایت و مخالفت

سہیل انجم

سوشل میڈیا کی دنیا بھی بڑی دلچسپ ہے۔ یہاں نئے نئے آئڈیاز اور نئے نئے رجحانات پروان چڑھتے رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پوری دنیا یکجا ہو جاتی ہے اور اپنے اپنے ذوق کے مطابق اظہار خیال کرتی ہے۔ اظہار خیال کے طریقے بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ کچھ بہت بورنگ تو کچھ بہت دلچسپ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جہاں کوئی بات ٹرینڈ کرنے لگتی ہے تو اس پر ایک ہجوم ٹوٹ پڑتا ہے۔ کچھ دنوں تک بڑی گہما گہمی رہتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس کا کریز ختم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ دنوں میں Mee Too کی مہم اتنی زوردار انداز میں چلی تھی کہ لگ رہا تھا کہ اس کے علاوہ دنیا میں اور کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس طوفان کی زد میں جو آئے گا اس کا وجود فنا ہو جائے گا۔ کچھ دنوں تک ہنگامہ آرائی رہی اور پھر اللہ اللہ خیر سلّا۔

نئے سال کے آغاز کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک اور مہم چھڑ گئی ہے اور اس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر وغیرہ پر ایسی مارا ماری ہے کہ اللہ کی پناہ۔ اس مہم کا نام ہے Ten Years Challenge یعنی ”دس سالہ چیلنج“۔ اب یہ دس سالہ چیلنج کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ لیکن ہے ایک مہم۔ اس کو بھی لوگ اپنے اپنے انداز میں لے رہے ہیں۔ اس مںی بیشتر سلیبریٹیز حصہ لے رہی ہیں۔ اس کا سب سے مقبول انداز یہ ہے کہ آپ اپنی دس سال پرانی کوئی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیجیے اور پھر اب کی کوئی تصویر ڈالیے۔ پھر موازنہ ہو جائے گا کہ دس سال قبل آپ کیسے نظر آتے تھے اور اب کیسے نظر آرہے ہیں۔ تصاویر میں دس سالوں کے فرق سے یہ بتانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ اس دوران ہمیں کن کن چیلنجوں کا سامنا رہا اور ہم نے ان پر کیسے قابو پایا۔ ہندوستان میں اس مہم سے اچھوتا نہیں ہے۔ یہاں بھی زوردار انداز میں یہ مہم جاری ہے۔

اس تعلق سے بی بی سی اردو نے ایک نہایت دلچسپ آئٹم اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے۔ اس میں ترکی کے حوالے سے اور وہاں حجاب کے رحجان کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ اس میں جو کچھ پیش کیا گیا ہے اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ترکی دس سال پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے۔ یہ آئٹم اس لیے دلچسپ ہے کہ اس میں حجاب کی حمایت اور اس کی مخالفت دونوں پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے یا دونوں نقطہ ہائے نظر پیش کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کی سرخی بہت جاندار ہے۔ ”حجاب نہ پہننا آزادی ہے تو حجاب پہننا بھی آزادی ہے“۔ گویا حجاب پہننا غلامی کی علامت نہیں ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی آزادی ہونی چاہیے کہ ہم کیا پہنیں اور اس کی آڑ میں بے حیائی و فحاشی کو پروان چڑھانے والے لباس کی حمایت کریں تو اس کے مقابل ایسے لوگ بھی جو یہ کہتے ہیں کہ ہاں بالکل اس کی آزادی ہونی چاہیے کہ ہم کیا پہنیں اور کیا نہ پہنیں اور جب ہم اس کی بات کرتے ہیں تو ہمیں حجاب پہننے کی بھی آزادی ملنی چاہیے۔

بی بی سی کی اس رپورٹ کے مطابق ترکی میں نئے سال پر سوشل میڈیا پر کھیلا جانے والا کھیل وہ ”دس سالہ چیلنج“ جو ایک طرف نئے نئے پہلووں پر لوگوں کے نظریات کو پیش کر رہا ہے وہیں دوسری طرف بعض سنجیدہ موضوعات پر بھی بات ہو رہی ہے۔ دس برسوں میں ساری دنیا میں اپنی اپنی طرح کے چیلنج سامنے آئے ہیں۔ کہیں حکومت کو نشانہ بنایا گیا تو کہیں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر بات کی گئی ہے۔ کسی نے دس کی جگہ پانچ سالہ چیلنج کی مہم چلائی ہے جیسا کہ ہندوستان میں بی جے پی حکومت نے چلا رکھی ہے۔ جبکہ ترکی میں خواتین نے اس چیلنج کو دوسری سطح پر پہنچایا ہے اور اپنی پرانی حجاب والی تصاویر سے آج کی بغیر جحاب والی تصاویر پوسٹ کی ہیں اور خواتین کی آزادی کے تصور کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے دس کی جگہ ایک سالہ چیلنج پیش کیا ہے۔ دنیا بھر میں اس قسم کی تصاویر میں جہاں عمر اور وقت کے فرق کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے وہیں ترکی میں حجاب کے پہننے اور چھوڑنے کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

ترکی میں حجاب بہت متنازع مسئلہ رہا ہے۔ وہاں ایک عرصے تک حجاب پر دفاتر، عوامی مقامات اور اسکولوں کالجوں میں پابندی رہی ہے۔ تاہم گذشتہ دنوں رجب طیب اردوغان کی حکومت کی جانب سے اس میں نرمی نظر آئی ہے۔ دوسرے عرب ممالک میں اگر ایسی تصاویر سامنے آتیں تو بات سمجھ میں آتی لیکن ترکی میں جہاں اس کا پہننا لازمی نہیں وہاں سے اس طرح کی بحث کی ابتدا حجاب پر عالمی بحث کا غماز ہے۔ ترکی کی خواتین نے اپنی دو تصاویر ڈالی ہیں جن میں سے ایک حجاب کے ساتھ اور دوسری حجاب کے بغیر یعنی بے حجاب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین نے حجاب سے باہر آنے کی اپنی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ جب کئی خواتین نے ایسی تصاویر ڈالیں تو سوشل میڈیا پر حجاب پر مباحثہ شروع ہو گیا۔

سیکولر نظریات کے حامل لوگوں کے خیال میں حجاب سیاسی اور مذہبی تعصب کی علامت ہے اور صدر اردوغان پر مذہبی ایجنڈے کے نفاذ کا الزام لگتا رہا ہے۔ بعض خواتین محض سماجی دباؤ کی وجہ سے حجاب پہنتی ہیں اور گاہے بگاہے اس کے متعلق ترکی میں بھی گرما گرم بحث نظر آتی ہے۔ بحث میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک نوجوان خاتون نزان ہیں جنھوں نے پیراگلائڈنگ کرتے ہوئے اپنی تصویر ڈالی ہے اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ ”یہ ظاہر کرنا بہت مشکل ہے کہ آپ جو کچھ سوچتے اور اگر وہ کر لیتے ہیں تو کتنا خوبصورت احساس ہوتا ہے۔“ ایک دوسری خاتون جوزفن نے لکھا: ”میں نے ایسی کسی لڑکی سے بات کی جسے سات سال کی عمر میں اپنا سر ڈھکنا پڑا تھا، جسے 14 سال کی عمر میں فروخت کیا گیا تھا (طالب علمی کے زمانے میں) لیکن وہ جس نے کبھی جدوجہد سے رخ نہیں موڑا۔ میں ان خواتین سے مخاطب ہوں جن کے دلوں میں طوفان ہے کہ خود کو کبھی تنہا اور شکست خوردہ محسوس نہ کریں“۔ اس قسم کے کئی ٹویٹس کو ایک آن لائن پلیٹ فارم ”یو ول نیور واک الون“ یعنی آپ کبھی تنہا نہیں نے ری ٹویٹ کیا۔

شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس ویب سائٹ کی بانی نے بی بی سی ترکی کو بتایا کہ ”ان کا مقصد ترکی کی خواتین کو یہ احساس کرانا ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں اور ان کے مشکل وقت میں بہت سی خواتین ان کے ساتھ ہیں۔“ وہ کہتی ہیں کہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں کسی کو بھی اس قسم کی پوشاک پہننے کے لیے مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہے۔“ بشری نور کہتی ہیں: ”ہم آزاد ہیں اور ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق کام کر سکتا ہے۔ اس کا ہمارے والدین اور رشتہ داروں سے سروکار نہیں۔ ہمارے خیالات ہم سے تعلق رکھتے ہیں اور ہماری فکر آزاد ہے۔ میں دوسروں کے طے کیے ہوئے کرداروں کو کیوں نبھاؤں؟“ ایک دوسری ٹوئٹر صارف ممنونیہ ملک نے لکھا: ”میں ہمیشہ مسکراتی ہوں لیکن زندگی ہمیشہ پھولوں کی سیج نہیں۔ امام ہاتف ریلیجیس ہائی اسکول سے گریجویٹ ہونے کے طور پر میں ہی تھی جو یونیورسٹی میں حجاب پہننے کے اختیار کے بارے میں لڑ رہی تھی۔ لیکن گذشتہ آٹھ سالوں میں ہی حجاب نہ پہننے کے حق کے لیے بھی لڑ رہی ہوں۔ اندرونی کشمکش سے نمٹنے میں مجھے ایک لمبا وقت لگا اور پانچ سالوں تک یہ میرے رشتہ داروں اور قریبی سماج سے میری لڑائی کی طرح رہا“۔
دوسرا نظریہ
ترکی میں اس مہم کے خلاف بھی لوگ تبصرہ کر رہے ہیں۔ بعض حجاب پہننے کے اپنے حق کی وکالت کر رہے ہیں۔ ایک صارف الف نے ایک سالہ چیلنج (10YearChallenge#) کے ساتھ لکھا: ”ہم بڑے ہو گئے ہیں۔ ہم خوبصورت اور آزاد ہیں۔ ہم اپنے حجاب کے ساتھ آزاد ہیں۔ آپ جو سوچتے ہیں سوچتے رہیے۔ یہ ہمارا اپنا عقیدہ ہے۔ ہم صرف اپنے بارے میں کہہ سکتے ہیں آپ کے بارے میں نہیں“۔

اس مباحثے میں مرد بھی شامل ہیں۔ آدم ارسلان نامی ایک صارف نے لکھا: ”کوئی بھی اپنی مرضی سے خود کو باحجاب یا بے حجاب رکھ سکتا ہے۔ اس سے کسی دوسرے کو مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے ان لوگوں کی تصویریں دیکھی ہیں جنھوں نے گذشتہ دنوں حجاب ترک کیا ہے۔ میرے خیال سے یہ کچھ حد تک کھوکھلی باتیں ہیں۔ آپ کو حجاب پہنے اور نہ پہننے والے دونوں کی عزت کرنی چاہیے۔ ہتک آمیز بیان دینا بند کریں“۔ ایک دوسرے صارف زینو نے لکھا: ”حجاب کو آزادی سے جوڑنا سخت گیری ہے۔ آزادی کا مطلب بغیر کسی کے دباؤ کے اپنی مرضی سے کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔ کبھی کبھی خود کو چھپانا بھی آزادی ہوتی ہے۔حجاب نہ پہننا آزادی ہے تو حجاب پہننا بھی آزادی ہے“۔
sanjumdelhii@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ten year challenge in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment