سپریم کورٹ کا انتہائی اہم اور قابل قدر فیصلہ

سہیل انجم
ملک کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ نے اپنے ایک انتہائی اہم فیصلے میں قومی اور ریاستی شاہراہوں پر شراب کی دکانوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور ہدایت دی ہے کہ جو دکانیں چل رہی ہیں ان کے لائسنسوں کی 31 مارچ کے بعد تجدید نہ کی جائے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان شاہراہوں پر سے وہ تمام سائن بوڈ ہٹا دیے جائیں جن سے شراب کی دکانوں کی موجودگی کا پتہ چلتا ہو۔ عدالت نے ہر سال ہونے والے سڑک حادثوں پر اپنی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کا قریبی تعلق بہر حال شراب کی دکانوں سے ہوتا ہے۔ اس نے پنجاب حکومت کی سرزنش کی جس نے اس سلسلے میں نرمی برتنے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے پنجاب حکومت سے کہا کہ تم نے کتنے لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ شراب لابی بہت طاقتور ہے۔ ہر شخص خوش ہے۔ محکمہ آبکاری خوش ہے۔ آبکاری وزیر خوش ہے۔ ریاستی حکومت خوش ہے کیونکہ خوب کمائی ہو رہی ہے۔ اگر سڑک حادثے میں کوئی شخص مرتا ہے تو اس کے اہل خانہ کو ڈیڑھ لاکھ روپے دے دیے جاتے ہیں۔ جبکہ حکومت کو ایسا قدم اٹھانا چاہیے جس سے سماج کو فائدہ پہنچے۔ عدالت نے حکومت کو شراب بندی کی اس کی آئینی ڈیوٹی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کم از کم ان ڈیڑھ لاکھ افراد کا خیال کر لیا جائے جو ہر سال سڑک حادثوں میں مرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایک تجزیہ کے مطابق سال 2015 میں ہندوستانی سڑکوں پر یومیہ 1374 حادثے ہوئے تھے جن میں چار سو لوگوں کی روزانہ موت ہوئی تھی۔ ہر گھنٹے پر 57 حادثے ہوئے جن میں 17افراد کی جانیں گئیں۔ جبکہ پورے سال میں پانچ لاکھ سڑک حادثے ہوئے تھے جن میں ایک لاکھ 46 ہزار افراد کی موت ہو گئی تھی۔عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ بلا شبہ قابل ستائش ہے۔ شراب پر تو صرف قومی اور ریاستی شاہراہوں پر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اس سلسلے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے قابل تحسین اور لائق ستائش قدم اٹھایا ہے۔ انھوں نے پوری ریاست میں شراب پر پابندی عائد کرکے تمام ریاستوں کو ایک راہ دکھائی ہے جس پر چل کر ان کو بھی شراب پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔
جب بہار میں شراب بندی نافذ ہوئی تھی تو راقم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ آج سے پچیس تیس سال قبل عزیز نازاں کی قوالی ”جھوم برابر جھوم شرابی“ خاصی مقبول ہوئی تھی۔ اس میں وہ شرابیوں کو دختِ رز یعنی انگور کی بیٹی سے محبت کرنے اور شیخ صاحب کی نصیحت سے بغاوت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی بیٹی نے دنیا سر پر اٹھا رکھی ہے۔ وہ شراب کی خاصیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”اس کے پینے سے طبیعت میں روانی آئے، اس کو بوڑھا بھی جو پی لے تو جوانی آئے“۔ اسی طرح حفیظ جالندھری اپنی مقبول عام نظم ”ابھی تو میں جوان ہوں“ میں ساقی سے کہتے ہیں کہ لا پیالہ بھر کے ادھر دے، کیونکہ ابھی تو میں جوان ہوں۔ کسی شاعر نے یہ نکتہ نکالا کہ مسجد اور مندر سے تو بہت سے جھگڑے ہوتے دیکھے ہیں کیا کسی نے مئے خانے سے بھی دنگا فساد دیکھا ہے۔ جگر مرادآبادی کا شعر ہے کہ ”اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک، ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے“۔ فلم شرابی کے ایک گانے میں امیتابھ بچن بھی شراب کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بذات خود شراب میں نشہ نہیں ہوتا، کیونکہ اگر ہوتا تو بوتل بھی ناچتی۔ اردو شاعری شراب کے قصیدے سے بھری پڑی ہے۔ یہاں تک کہ جن شاعروں نے کبھی شراب کو چھوا تک نہیں انھوں نے بھی خمریات کہی ہیں اور بڑے اچھے اچھے شعر نکالے ہیں۔ لیکن بہر حال یہ سب شاعرانہ تخیلات ہیں، حقیقت یہی ہے کہ شراب اُم الخبائث ہے۔ شراب نے جانے کتنی زندگیاں لی ہیں اور جانے کتنے گھر تباہ کیے ہیں۔
بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے پوری ریاست میں شراب پر پابندی عائد کرکے ایک انقلابی قدم اٹھایا تھا۔ انھوں نے الیکشن کے دوران اس کا وعدہ کیا تھا اور دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد اس وعدے کو پورا کر دیا۔ حالانکہ انتخابی وعدے محبوب کے وعدے ہوتے ہیں جو کیے تو جاتے ہیں مگر پورے نہیں ہوتے۔ قابل مبارکباد ہیں نتیش کمار کہ انھوں نے اس انتخابی وعدے کو یاد رکھا۔ ان کے اس انقلابی قدم کے بعد ریاست میں ایک کروڑ19 لاکھ لوگوں نے شراب کو ہاتھ نہ لگانے کا عہد کیا ہے۔ بہار میں بہت سے طبقات اور خصوصاً نچلے طبقات میں شراب نوشی کی بڑی وبا تھی۔ کچی شراب کی بھٹیاں بھی بہت تھیں۔ آئے دن شراب پی کر لوگوں کے مرنے کی اطلاعات بھی آتی تھیں۔ بہار میں شراب سے سب سے زیادہ خواتین متاثر تھیں۔ مرد شراب پی کر گھر آتے اور اپنی بیویوں پر ظلم کرنا شروع کر دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس پر پابندی عائد کی گئی تو سب سے زیادہ خوشی عورتوں ہی نے منائی۔ وہ گھروں سے نکل پڑیں اور جشن کا ماحول برپا ہو گیا۔ اخباروں میں ایسی خوش کن تصویریں بھی آئی تھیں کہ جہاں پہلے شراب کی دکان تھی وہاں اب سبزی یا کسی اور چیز کی دکان کھل گئی ہے۔ ابھی تک شراب پینے سے اموات کا سلسلہ تھا لیکن پابندی عائد ہونے کے بعد شراب نہ پینے سے کئی اموات کی خبریں آنے لگی تھیں۔ در اصل جو لوگ عادی شرابی تھے اور جن کا نظام ہضم اس سیال کا عادی ہو گیا تھا جب ان کو اس سے محرومی ہوئی تو جسم کے اندر اتھل پتھل مچ گئی۔ حکومت کو اندازہ تھا کہ پابندی کے بعد یہ سب کچھ ہوگا۔ اسی لیے اس نے بڑی تعداد میں De-Addiction سینٹروں کا قیام کیا تھا تاکہ اگر کوئی شراب نہ پینے سے بیمار پڑے تو ان مراکز میں اس کا علاج کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو وہاں بھرتی کیا گیا اور انھیں ضروری علاج معالجہ فراہم کیا گیا۔ لیکن اب حالات بہتر ہو گئے ہیں۔ البتہ ایسی خبریں ضرور موصول ہوتی ہیں کہ شراب پینے کے لیے عادی شرابی بہار نیپال سرحد پر جاتے ہیں اور وہاں سے اپنا شوق پورا کرکے لوٹتے ہیں۔لیکن بہر حال نتیش کمار نے ایک روشنی دکھائی تھی۔ ممکن ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے وقت بہار کی مثال کو سامنے رکھا ہو۔ تمام ریاستی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ عدالتی فیصلے کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کریں اور شراب کی دکانوں کے لائسنس منسوخ کر دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شراب سے آمدنی ہوتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شراب بہت سی زندگیاں بھی لے لیتی ہے۔ شراب پینے کے بعد انسان کو ہوش نہیں رہتا کہ وہ کیا کر رہا ہے کیا نہیں۔ یہاں تک کہ لوگ رشتے ناطے بھول جاتے ہیں اور انسانیت سے گر جاتے ہیں۔ ان کے رویے انسانوں کو شرمسار کرنے والے ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں سے اس کی کوئی توقع نہیں ہوتی کہ وہ کب کیا کر بیٹھیں گے۔ شراب نے جانے کتنے گھروں کو اجاڑا ہے اور جانے کتنی زندگیاں تباہ کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ انتہائی قابل قدر ہے۔ اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا دائرہ اور بڑھایا جائے اور نہ صرف شاہراہوں پر بلکہ آبادیوں میں واقع بازاروں میں شراب کی جو دکانیں ہیں ان کو بھی بند کروایا جائے۔ آبادیوں میں جو مئے خانے ہوتے ہیں وہاں لوگ شراب پی کر بد تمیزیاں کرتے ہیں۔ بہو بیٹیوں کی عزت کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ شراب اُم الخبائث ہے۔ اسلام میں اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے کہ اس کو پینے کے بعد اور سرور میں آنے کے بعد انسان انسان نہیں رہ جاتا وہ انسانیت کی حد سے نیچے گر جاتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتیں عدالتی فیصلے کا احترام کریں گی اور اسے پوری قوت کے ساتھ نافذ کریں گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Suprem courts laudabale order in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply