شری شری کے چرنوں میں

سہیل انجم
اس وقت پوری مرکزی حکومت شری شری کے چرنوں میں پڑی ہوئی ہے۔ وہ تین روز تک پڑی رہے گی۔ ان سے آشیرواد لیتی رہے گی۔ ان سے آگے آنے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا وردان بھی مانگے گی۔ جنوبی دہلی میں مہارانی باغ کے نزدیک، ڈی این ڈی کے قریب اور جمنا کے کھادر میں ایک شہر بسایا گیا ہے۔ جہاں تین روز تک مسلسل ثقافتی پروگرام ہوں گے۔ دعویٰ تو یہ کیا جا رہا ہے کہ اس عالمی پروگرام میں جو کہ مذہبی گرو شری شری روی شنکر کے ادارے آرٹ آف لیونگ کے زیر اہتمام ہو رہا ہے، 35 لاکھ افراد شریک ہوں گے۔ اس میں ہزاروں فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ رقص و سرود کی محفلیں سجیں گی اور موسیقی کی تانیں چھیڑی جائیں گی۔ یوگا بھی سکھایا جائے گا اور مقامی ناچ گانے بھی پیش کیے جائیں گے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو بھی اس میں شریک ہونا تھا لیکن انھوں نے انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ صدر جس سیاسی پس منظر سے آتے ہیں اس میں ان سے اسی کی امید تھی۔ وہ اگر چہ ایک مذہب پرست انسان ہیں لیکن وہ سیاست اور مذہب کا ملغوبہ بنا نے میں یقین نہیں رکھتے۔ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کی حصولیابی کا ذریعہ بنانے کے خلاف ہیں۔ لہٰذا انھوں نے دانشمندی کا ثبوت دیا۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کے وزرا ایسا کیوں سوچیں گے اور ایسا کیوں کریں گے۔ ان لوگوں کی سیاست کی بنیاد ہی مذہب پر ہے۔ بلکہ مذہبی جذباتیت پر ہے۔ اگر وہ اس سے کنارہ کش ہو جائیں تو ان کے پاس کیا بچے گا۔ لہٰذا وہ پوری ایمانداری کے ساتھ شری شری کا آشیرواد لینے میں تن من دھن سے جٹے ہوئے ہیں۔
اگلے زمانوں میں جب راجے مہاراجے اور بادشاہ و حکمراں اپنی سلطنت کی توسیع کرتے تھے تو وہ کسی بھی قانون کو نہیں مانتے تھے۔ جس ملک یا شہر پر حملہ کیا اسے تاخت و تاراج کر دیا۔ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ لیکن یہ جمہوری دور ہے او رہندوستان تو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ لہٰذا یہاں وہ سب تو نہیں ہوگا۔ البتہ شہر اب بھی بسائے جا رہے ہیں۔ جس کا ایک نمونہ شری شری کا مذکورہ شہر ہے۔ اب اس جمہوری دور میں دوسرے طریقے ہیں اپنے کام نکالنے کے۔ بس آپ حکومت کے کارندو ںکو ملا لیجیے، ان کا اعتماد حاصل کر لیجیے، ہو گیا کام۔ آپ کو کسی قانون کی پابندی کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ کسی سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ جس جگہ مذکورہ فیسٹیول چل رہا ہے وہ جمنا کا کھادر ہے۔ یعنی دریائے جمنا کے ساحل کا وہ علاقہ جو سیلاب کے دوران پانی کو روکتا ہے اور زمین کے نیچے پانی کو جذب کرکے اسے دوسری طرف پھیلنے سے باز رکھتا ہے۔ ہزاروں ایکڑ کی اس زمین پر یہ شہر بسایا گیا ہے۔ سات ایکڑ پر تو صرف اسٹیج بنایا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہاں کوئی بھی پروگرام کرنے سے قبل کئی اداروں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ سیلاب کنٹرول والا ادارہ، پولیوشن یعنی آلودگی کنٹرول والا ادارہ، دہلی پولیس اور وزارت ماحولیات وغیرہ وغیرہ۔ لیکن شری شری کے فیسٹیول کے لیے بس ایک دو اداروں سے اجازت لی گئی۔ نہ تو دہلی میں تعمیرات کے ادارے ڈی ڈی اے سے اجازت لی گئی نہ مذکورہ اداروں سے۔ اس کے علاوہ وزارت ثقافت سے اس فیسٹیول کے لیے سوا دو کروڑ روپے کی امداد بھی فراہم کر دی۔ اتنی خطیر رقم کی امداد اس سے قبل اس وزارت سے نہیں دی گئی تھی۔
اس فیسٹیول کے خلاف دو افراد نے نیشنل گرین ٹربیونل میں شکایت کی اور ٹربیونل نے اس کی سماعت کی۔ اس کے ججوں نے اس فیسٹیول کے انعقاد پر سخت رخ اپنایا اور اس پر پابندی لگانے کی دھمکی دی۔ لیکن پروگرام کے منتظمین کی جانب سے بڑا اڑیل رویہ اپنایا گیا۔ پھر ٹربیونل نے پانچ کروڑ روپے کے جرمانے کے ساتھ اس کی اجازت دے دی۔ لیکن شری شری روی شنکر نے کہہ دیا کہ وہ جرمانہ نہیں بھریں گے چاہے انھیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ جن دو افراد نے شکایت کی ان کو مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ (ا س حکومت میں جان سے مارنے کی دھمکی دینا بہت آسان ہو گیا ہے)۔ دہلی پولیس نے کہہ دیا کہ ہم اس کو وافر سیکورٹی نہیں فراہم کر سکتے۔ (اس کے باوجود مرکزی مسلح دستے فراہم کیے جا رہے ہیں)۔ ایک متعلقہ ادارے نے کہا کہ جو اسٹیج بنایا گیا ہے وہ محفوظ نہیں ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم اس میں شرکت کر رہے ہیں اس لیے اس کے تحفظ کے لیے خصوصی اہتمام ہونا چاہیے تھا جو نہیں ہوا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس فیسٹیول کو ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ اور تباہی قرار دیا۔ گرین ٹربیونل نے بھی اسے تباہ کن بتایا۔ لیکن شری شری کو نریندر مودی کا اور مودی کو شری شری کا آشیرواد حاصل ہے۔ لہٰذا عدالت سر پٹک کر رہ جائے، ٹربیونل سخت حکم سنا دے اور متعلقہ ادارے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیں پھر بھی فیسٹیول تو ہوگا۔ کیونکہ حکومت جو چاہتی ہے۔ اور حکومت جو چاہے وہ کرے کوئی اسے روک سکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس فیسٹیول کے انعقاد میں قوانین و ضابطوں کی دھجیاں اڑائی گئیں اور ان کو اپنے پیروں تلے روندا گیا تو غلط نہیں ہوگا۔ کوئی چھوٹی موٹی تنظیم اگر کہیں کوئی پروگرام منعقد کرتی ہے تو اسے بہت سے اداروں سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک ادارے سے اجازت نہیں ملی تو پروگرام منسوخ ہو جاتا ہے۔ یہاں تو تقریباً ایک درجن اداروں سے اجازت لینی تھی اور بمشکل دو ایک اداروں سے اجازت لی گئی۔ پھر بھی فیسٹیول ہو رہا ہے۔ نہ تو قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور نہ ہی توہین عدالت۔ ذرا سوچیے کہ اگر کسی ایسے ادارے کا یہ پروگرام ہوتا جس کے حکومت سے قریبی مراسم نہ ہوتے تو کیا یہ ہو جاتا۔ پولیس اب تک تمام اسٹیج، پنڈال اور تمبو اکھاڑ کر پھینک چکی ہوتی۔ لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ فوج لگا دی گئی۔ کیا کبھی کسی نے سنا ہے کہ کسی پرائیویٹ فنکشن کی تیاریوں میں فوج لگائی گئی ہو۔ فوج نے دریائے جمنا پر ایک پینٹون پل یعنی پیپا پل تعمیر کر دیا۔ پروگرام تو یہ تھا کہ وہ چھ سات پل بنائے گی۔ لیکن ہنگامہ اتنا ہو گیا کہ ایک پر ہی اکتفا کرنی پڑی۔ جس قسم کا پل بنایا گیا ہے وہ عارضی ہوتا ہے اور صرف سیلاب کے زمانے میں اسے بنانے کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے بنا دیا گیا۔ منتظمین کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بھی سیلاب آئے گا۔ پانی کا نہ سہی انسانوں کا تو آئے گا۔ اس لیے اس پل کو بنوایا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جمنا کے کنارے جو فصلیں تھیں ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ سینکڑوں کسانوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ لیکن یہ احتجاج نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گیا۔ وہاں بہت سی ایسی ادویات کا چھڑکاو¿ بھی ہو رہا ہے جس سے مچھر مکھی اور سانپ وغیرہ مر جائیں۔ گویا وہاں کا جو فطری پن ہے اس کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ مہینوں سے اس کی تیاری چل رہی تھی۔ ایک ہزار سے زائد مزدور شب و روز کام کر رہے تھے۔ ہزاروں ایکڑ زمین کو بلڈوزر سے برابر کر دیا گیا۔ ماہرین ماحولیات کا خیال ہے کہ جمنا کے کھادر میں سیلاب کا پانی جذب کرنے کی جو صلاحیت تھی وہ برباد ہو گئی۔ اس کے آس پاس کے علاقوں میں سڑکیں بنائی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو آسانی کے ساتھ لایا جا سکے۔ کیا کیا نہیں کیا گیا اور قانون کی کیسے کیسے دھجیاں نہیں اڑائی گئیں۔ لیکن کوئی کچھ نہیں کر سکا۔ جب حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس سے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن ہوگا تو بھلا کوئی کیا کر سکتا ہے۔ سیاں بھیے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sri sris extravaganza and the govtt in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply